لکھاری لکھاری » بلاگ » یہ انتشار کیوں ؟ —- رؤف تبسم

ad




ad




اشتہار




بلاگ

یہ انتشار کیوں ؟ —- رؤف تبسم


15135814_1217800431640267_5729318470365627624_nہمارے معاشرے میں بڑھتا ہوا مذہبی, مسلکی, سیاسی اور سماجی انتشار بہت ہی خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے. لوگوں میں برداشت کا مادہ بالکل ختم ہوتا جا رہا ہے. بات بات پہ گالم گلوچ ,لڑائی جھگڑے حتٰی کہ مارپیٹ اور قتل تک نوبت جا پہنچتی ہے. اس سے معاشرے کا سکون برباد ہو کر رہ گیا ہے. آئے دن ایسے واقعات ہوتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح معمولی سی بات پہ انسانی خون پانی کی طرح بہا دیا گیا ہے. اس کی تباہ کاریوں کا اندازہ تو شاید کسی حد تک لگایا جا سکتا ہے مگر آج ہم اس کی وجوہات کو جاننے کی کوشش کریں گے.

ہمارے معاشرے میں رائج غلط اور ٹھیک کا تصور انتہائی ہے یعنی کہ ہماری نظروں میں یا تو کوئی شخص ٹھیک ہے یا غلط ہے جبکہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے. ہو سکتا ہے کسی معاملے پہ دو افراد کا موقف اپنے اپنے حوالے سے درست ہو اور ایسا یقیناً ہوتا ہے مگر ہماری تربیت اس نہج پہ کی جاتی ہے کہ ہم اختلافِ رائے رکھنے والے کو غلط سمجھتے ہیں اور یہیں سے خرابی کی ابتدا ہوتی ہے.

اس سے ایک قدم آگے چلیں تو ہم دوسروں کو غلط تو سمجھتے ہی ہیں مگر ان کے اوپر اپنی رائے کو بھی مسلط کرنا چاہتے ہیں تا کہ اختلاف رائے ختم ہو. اس کی بنیادی وجہ یا تو انا ہوتی ہے جو اختلاف رائے برداشت نہیں کر سکتی یا پھر بزعم خود معاشرے کی اصلاح کا بھوت سوار ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہم اپنی ہی بات کو درست سمجھتے ہوئے دوسروں کے اوپر تھوپنا چاہتے ہیں.

ہمارے معاشرے میں اختلاف رائے کے نتیجے میں انتشار کی دوسری اہم وجہ افراد کی تربیت کا فقدان ہے. ہمارے سیاسی و مذہبی گروہ کسی نہ کسی نعرے پہ لوگ تو اکٹھے کر لیتے ہیں مگر ان کی تربیت نہیں کر سکتے. سیاسی, مذہبی اور مسلکی جھگڑوں کی بڑی وجہ یہی تربیت کا فقدان ہے. کارکنان وذمہ داران سیاسی و نظریاتی اختلافات کو ذاتی رنجشوں میں تبدیل کر دیتے ہیں, جس کی وجہ سے اکثر خون خرابے تک نوبت پہنچ جاتی ہے.

اس انتشار کی ایک اہم وجہ معاشرے کی وہ بے سکونی ہے جس کی بنیاد معاشی اور سماجی حالات ہوتے ہیں اور میرے نزدیک اس کی براہ راست ذمہ دار ریاست ہے. ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے افراد کو معاشی طور پہ خود کفیل کرے تا وہ یکسو ہو کر اپنے حقوق و فرائض پہ توجہ دیں . معاشی بدحالی کا شکار اکثر لوگ گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑے میں ملوث پائے جاتے ہیں. اُن کی معاشی پریشانیاں ان کے ذہنی بوجھ میں اضافہ کرتی ہیں نتیجتاً وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر جھگڑالو بن بن جاتے ہیں.

خاندانی نظام کی تباہی بھی معاشرتی انتشار کی بڑی وجہ ہے. آئے دن گھریلو جھگڑوں میں خواتین کا قتل اسی کا شاخسانہ ہے نیز زیادہ تر خود کشیاں بھی اسی ذیل میں آتی ہیں. انائیں اور ذاتی رنجشیں بھی معاشرے میں بڑھتے ہوئے انتشار کی جڑیں مضبوط کر رہی ہیں.
عرض کرتا چلوں کہ معاشرے کی اصلاح میں بنیادی کردار قومی رہنماؤں کا ہوتا ہے کیونکہ رہنما مصلح ہوتے ہیں وہی قوموں کی سماجی تربیت کرتے ہیں اور اپنے قول و فعل سے قوموں کے مزاج ترتیب دیتے ہیں. مزاج ترتیب دینے میں دوسرا اہم کردار معاشرے کے ادیبوں اور لکھاریوں کا ہوتا ہے. لکھاری ایسے معاشرے کو وجود میں لانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں جہاں لوگوں کے مزاجوں میں ٹھہراؤ ہو. غلط اور صحیح کی پہچان ہو. عدل و انصاف کا دور دورہ ہو تا کہ لوگوں کی زندگیاں مثالی بن سکیں.

انتہائی دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ مذکورہ بالا ہر دو حوالے سے ہمارے معاشرے میں قحط الرجال ہے. نہ ہی ہمارے پاس قائدین ہیں اور نہ ادیب. قائدین کی جگہ ایسے سیاستدان ہیں جن کا مطمع نظر محض اقتدار ہے اور جن کے لیے اقدار کوئی معنی نہیں رکھتیں. ادیبوں کی جگہ شہرت و جاہ کے طالب ایسے لوگ ہیں جن میں حاکم وقت کے سامنے کلمہء حق کہنے کی جراءت نہیں. ایسے میں کون سماجی تربیت کی ذمہ داری نبھائے تا کہ بڑھتے ہوئے منفی رجحانات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے.