لکھاری لکھاری » بلاگ » ہستی اپنی حباب کی سی ہے۔۔مبین امجد

ad




ad




اشتہار




بلاگ میرے مطابق

ہستی اپنی حباب کی سی ہے۔۔مبین امجد


15151475_997118727082106_797797910_n
کیا کیا تھا زندگی نے اس بے چارے کے ساتھ جو موت نے بھی نہ اسے بخشا۔ وہ حرماں نصیب جسے زندگی نے غم زیادہ دیے اور خوشیاں کم۔۔۔۔

مجھے یاد ہے آخری ملاقات میں میں مغرب سے لے کر عشا تک اس کے پاس بیٹھا رہا اور اس سارے وقفے میں اس نے محض چند باتیں ہی کی تھیں۔ میں نے بہتیری کوشش کی کہ اسے لٹا دوں مگر شاید لیٹنے سے اس کی تکلیف دو چند ہو جاتی تھی۔ وہ خاموش بیٹھا تھا اور اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ کاش مجھے پتہ ہوتا کہ یہ میری اس سے آخری ملاقات ہے تو میں اس کے پاس سے نہ اٹھتا۔ مگر یہ کاش کاش ہی رہا۔۔۔۔

اور مجھے تو لگتا ہے ابھی اسے مرنا نہیں تھا مگر رشتوں ناطوں نے اسے مار ڈالا۔ جیسے اس نے اکیلے زندگی بسر کی تھی ویسے ہی مجھ سے ملنے کے دو دن بعد وہ اکیلا ہی اس جہان سے گذر گیا۔ اور انسان کبھی بھی اکیلا تو نہیں ہوتا کوئی نہ کوئی رشتہ اس کے پاس ضرور ہوتا ہے۔ مگر شاید وہ بد نصیب ہی اس قدر تھا کہ نا بیوی بچے، نہ ماں باپ اور نہ ہی بہن بھائی۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں تھا اس کے پاس۔۔۔۔

بھائی تھے تو سوتیلے جنہوں نے جیتے جی اس کی خبر گیری نہ کی، اور ۔۔۔۔۔ اور اس کی وفات سے محض دو دن قبل انہیں اطلاع دی گئی کہ آپ کا بھائی بیمار ہے آپ آکر اسے مل جائیں یا اس کی عیادت کرنے ہی آجائیں۔۔ مگر ان کے پاس وقت نہیں تھا، مگر آج اسکے وہی بھائی اسکی وفات پہ آئے تھے اور باجماعت آئے تھے۔ اور۔۔۔۔

اور ابھی اس کی قبر پہ تین تین موٹھ مٹی ڈال کر قبرستان سے واپس پلٹے بھی نہ تھے اسی بھائی کے ترکے کی تقسیم کرنے لگے جس کیلیے ان کے پاس دو دن قبل وقت ہی نہیں تھا۔۔۔ اور اس کے پاس تھا ہی کیا۔۔؟؟؟

اور اس کے پاس تھا ہی کیا فقط ایک پیٹی، دو بستر دو چارپائیاں،ایک صندوق، ایک خچراور ایک ریڑھا، ایک پانی کا چھوٹا مٹکہ، سرہانے دھرا ایک گیس سٹوو، کمرے کی نکڑ میں پڑی سگریٹوں کی خالی ڈبیوں کا ایک ڈھیڑ، ایک کیسٹ پلیئر اور چند ایک نصیبو لعل اور ریشماں کے گیتوں کے کیسٹس۔۔۔۔ فقط یہی سب اس کی کل کائنات تھا۔ جسے اس کے تین بھائیوں نے جانے کیسے بانٹا ہوگا، کیا وہ سب کچھ لے گئے تھے شاید سگریٹوں کی خالی ڈبیوں کا ڈھیڑ بھی۔۔۔ پتہ نہیں میں نہیں جانتا کیونکہ اس بد نصیب کے بھائیوں کے اس طرز عمل کے بعد مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ میں اس مکان میں دوبارہ جاتا۔۔۔ جہاں اس نے تنہا ہی زیست کی تھی اور تنہا ہی جان جان آفرین کے سپرد کی تھی۔

ہاں میں اتنا جانتا ہوں کہ اس رات جب میں اس کے پاس بیٹھا تھا اور ہمارے درمیاں ایک خاموشی تھی، ایک مہیب سناٹا تھا اور اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا، اس سے اتنا بھی نہ کہا گیا کہ میں ٹھیک ہوں یا مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔ مگر جونہی عشاء کی اذان بلند ہوئی تو اس نے کہا تم جاؤ اب اور جا کر نماز پڑھو۔۔۔۔ آخردم اس نے مجھے نماز کا کہا تھا اور مجھے لگتا ہے شاید اسے اسی کام کی بدولت بخش دیا جائے گا۔ اور ویسے بھی وہ ایک بے ضرر انسان تھا اپنے کام سے کام رکھنے والا۔۔۔ ساری زندگی محنت مزدوری کرنے والا۔۔ اور مجھے نہیں لگتا کبھی اسکی کسی سے لڑائی ہوئی ہو۔۔۔!
ہاں وہ کون تھا۔۔؟؟؟

وہ میرا بابا تھا، میں اس کے ہاتھوں میں پل کر جوان ہوا تھا۔ پہلے پہل جب میں نے اسے دیکھا تو شاید مجھے رشتے کی پہچان نہیں تھی ہاں اتنا جانتا ہوں کہ اس کا ہمارے گھر بہت آنا جانا تھا۔ اور مجھے بھی اچھا لگتا جب وہ مجھے ایک روپیہ دیا کرتا تھا۔ تب میں باشعور نہیں تھا اور مجھے محض ایک روپے کی وجہ سے ہی اس سے محبت تھی۔۔۔ مگر جوں جوں سمے بیتتا گیا مجھے شعور آتا گیا اور اس رشتے کی قدر معلوم ہوتی گئی۔ گوکہ روپے کی قدر گھٹتی گئی مگر اس رشتے کی قدر بڑھتی گئی اور پھر آخر پہ تو پچھلے کئی سالوں سے اس نے مجھے کچھ نہ دیا مگر میں جب بھی ملا عزت اور تکریم سے ملا کہ وہ میرے سگے دادا ابو کا بھائی تھا بھلے سگا نہ سوتیلا ہی سہی۔ مگر اس نے ساری عمر اپنے سگے بھائیوں کو چھوڑ کر اپنے سوتیلے بھائی (میرے دادا ابو) کے ساتھ تعلق بنائے رکھا۔

اور مجھے تو ابھی بھی یقین نہیں آرہا کہ وہ اب ہمارے پاس نہیں رہا۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی چنگا بھلا تھا۔ بیمار تھا تو کیا ہوا ساری دنیا بیمار ہوتی ہے وہ بھی ہوا تھا شاید تندرست بھی ہو جاتا مگر اپنوں نے اسے جیتے جی مار ڈالا تھا۔