ملک میں جنگل کا قانون نہیں چل سکتا، عمران خان


مردان یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعہ پر آئی جی خیبر پختونخوا سے رابطے میں ہوں، عمران خان

 اسلام آباد: گزشتہ روز مردان یونی ورسٹی میں پیش آنے والے واقعہ پر عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک میں جنگل کا قانون نہیں چل سکتا۔

عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ مردان واقعے پر آئی جی خیبر پختونخوا کے ساتھ رابطے میں ہوں، جنگل کا قانون نہیں چل سکتا، واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی ہو گی۔

Am in touch with KP IG since last night on condemnable lynching of student in Mardan. Firm action necessary. Law of the jungle can’t prevail


ویب ڈیسک

ویب ڈیسک لکھاری ڈاٹ کام

You may also like...

3 Responses

  1. June 10, 2017

    […] اگر ہم اس وقت کے حالات کاجائز ہ لیں تو تحریک انصف نےروایتی سیاست کو پس پشت ڈال کر الیکٹبلز کو نظرانداز کرتے ہوئے 70فیصد ٹکٹ نئے اور نوجوان چہروں کودئے۔ قطع نظر اس سے کے بقول تحریک انصاف پری پلین دھاندلی ہوئی ۔ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک انصاف کے ہارنے والے امیدوار بھی 50ہزار سے اوپر وو ٹ لیکر ہارے۔ لیکن یہاں یہ بات تحریک انصاف کو سمجھ آگئی کہ نوجوان چہرے کتنے ہی بے داغ کیوں نہ  تھے لیکن یہ چہرے عمرا ن خان  کی مقبولیت اور تبدیلی کی لہر کو کیش نہ کرسکے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا روایتی طرز سیاست دیگر دنیا سے الگ ہے ۔ یہاں گھر سے لیکر پولنگ اسٹیشن تک ووٹر کو متحرک رکھنا ہوتا ہے،ڈنڈے لاٹھی کا استعمال بھی ہوتاہے بڑی تعداد میں پولنگ ایجنٹ بھی درکار ہوتے ہیں۔۔ پاکستان کی روایتی سیاست میں صرف ایماندار اور دیانتدارہونا ہی کافی نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو جماعت اسلامی پاکستان کی حکمران جماعت ہوتی۔ پاکستانی سیاست میں الیکٹبلز کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔2013 میں تحریک انصاف نے الیکٹبلز کونظرانداز کیا جس  کا نتیجہ الیکشن میں ہار کی صورت میں برآمد ہوا۔جمہوریت میں چور لٹیرے ایماندار سب برابر ہوتے ہیں۔ اصل چیز عوام کا اعتماد ہے۔عوام کے ووٹ ہیں ۔ جس پر عوام اعتماد کر کے ووٹ دے وہی شخص صاف اور ستھرا ہے۔جسے عوام ووٹ نہیں دیتی اس کی پاکیزگی اور تقوے کا سیاست میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ فلسفلہ تحریک انصاف نے سمجھ لیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں نذرمحمد گوندل اور ظفر محمد گوندل جیسے لوگ تحریک انصاف میں نظر آرہے ہیں۔پیپلزپارٹی کے کئی اہم رہنماتحریک انصاف کو پیارے ہوچکے ہیں۔ اس موقع پر کئی بڑے دانشوروں کے قلم حرکت میں آئے اور معلوم ہوا کہ تحریک انصاف میں شامل ہونے والے الیکٹبلز تو انتہائی کرپٹ لوگ ہیں ۔ لیکنسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہی لوگ پی پی پی اور مسلم لیگ ق کا حصہ تھے تو کیا اس وقت کرپٹ نہیں تھے ؟ ۔اگر تھے تو یہ کالم اس وقت کیوں نہ لکھے گئے؟۔کیا صحافیوں کے کالم دیانت اور بدیانتی کا تعین وقت بدلنے کیساتھ کرتے ہیں؟ ۔بہرحال ہمارے سامنے مہاطیر محمد کی مثال موجود ہے جس نے ملائیشاکوبدل کررکھ دیا۔ ہمارے سامنے 92 کے ورلڈ کپ کی مثال موجود ہے۔ہمارے سامنے شوکت خانم کی مثال موجود ہے۔عمران خان کسی بھی ٹیم کو چلانے کی اہلیت تو رکھتے ہیں۔لیکن دیکھنا یہ ہے۔ کہ ان الیکٹبلز کو عمران خان کس طرح سے چلاتے ہیں۔۔عمران خان الیکٹبلز کو بدل کر تبدیلی لائیں گے یا الیکٹبلز کے رنگ میں رنگ جائیں گے۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن حقیقت یہی ہے کہ الیکٹبلز کے بغیر پاکستان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ اور نہ ہی کہیں سے فرشتے امپورٹ کرکے الیکشن میں کھڑے کئے جاسکتے ہیں ۔ موجودہ حالات میں الیکٹبلز پر انخصار کرنا ہر پارٹی مجبوری ہے ۔ اگر ہم مسلم لیگ ن کی بات کریں تو پوری پارٹی ہی الیکٹبلزپر کھڑی ہے۔ یہ بھی پڑھیں  ملک میں جنگل کا قانون نہیں چل سکتا […]

  2. June 28, 2017

    […] شروع کردیا جس سے مولانا کو ہی فائدہ ہوا۔ یہ بھی پڑھیں‌ملک میں جنگل کا قانون نہیں چل سکتا ہمارے ہاں سیاسی کلچر ابھی اتنا بالغ نہیں ہوا ہے لوگوں […]

  3. July 2, 2017

    […] یہ بھی پڑھیں‌ : ملک میں جنگل کا قانون نہیں چل سکتا عمران خان […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *