لکھاری لکھاری » بلاگ » ترکی اسرائیل کی مددکیوں‌کررہا ہے–تنویراعوان

ad




ad




اشتہار




بلاگ

ترکی اسرائیل کی مددکیوں‌کررہا ہے–تنویراعوان


اسرائیل آگ میں جل رہا ہے۔ایسے میں ترکی اسرائیل کی مددکے لئے آگے بڑھتاہے۔اورپھر کیا دائیں اور کیابائیں سب ہی ہاتھ دھوکر اردگان کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔اہل مذہب ٹھٹے کرتے نظرآتے ہیں۔بائیں والے طنز کے نشتر چلاتے نظرآتے ہیں۔دائیں والے بھی اس اقدام کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔

اس سارے معاملے میں حقائق کو یکسر فراموش کردیا جاتاہے۔تاریخ سے نابلد اسے ترکی کا مفاد قراردیتے ہیں۔لیکن مفادکس قسم کا ہے اور اس سے ترکی کو کیا حاصل ہوگا کوئی بتانے کو تیار نہیں۔

میں بتاتا ہوں کہ آخر اردگا ن نے ایسا کیوں کیا؟اصل مسئلہ یہ ہے کہ اردگان جس فکر سے وابستہ ہے وہ دنیا کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہے۔کوئی اس فکر کو تحریک اسلامی کہتا ہے کوئی اخوان کے نام سے جانتا ہے کوئی جسٹس اینڈفریڈم پارٹی کے نام سے جانتا ہے کوئی تنظیم اسلامی کے نام سے جانتا ہے ۔کہیں النزعتہ کے نام سے کہیں حماس کے نام سے کہیں جماعت اسلامی کے نام سے۔ان سب تحاریک کا منشوراور مقصد ایک ہے ۔اسلامی نظام کا نفاذ۔

ہم زراتاریخ پڑھیں جگہ جگہ یہودیوں اورعیسائیوں کی ناصرف مدد کی گئی بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک بھی کیا گیا۔ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں یہودی بوڑھی عورت محمد عربی ﷺ پر کچراپھینکتا ہے۔اس سے بڑی گستاخی کیا ہوگی؟لیکن سرورعالمﷺ تو عفو ودرگزرکے داعی تھے۔معاف کرنے والے کو پسند کرتے تھے۔لہذادنیا دیکھتی ہے کہ بوڑھی عورت کلمہ پڑھتی ہے۔حبشی وہ شخص کہ جس نے نبی اکرم ﷺ کے چچا امیر الشہداسیدناحمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔فتح مکہ کو یاد رکھیں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چن چن کر بدلہ لیا جاتا لیکن تاجدارمدینہ ﷺ نے جب عام معافی کا اعلان کیا تو فرمایا سب سے پہلے میں اپنے چچا کا خون معاف کرتا ہوں۔یہ ہیں اسوہ حسنہ یہ ہے اسلام۔

مزید آگے چلیں بیت المقدس فتح ہوتا ہے۔عمربن خطاب رضی اللہ عنہ جن کا غصہ مشہورزمانہ ہے۔اسلام کے معاملے میں بہت سخت تھے۔لیکن یہاں کیا معاملہ فرمایا :عیسائیوں کو امان دی۔گرجاگھر اور چرچ نہیں گرائے۔آگے چلیں عیسائی بیت المقدس چھینتے ہیں فلسطین کی گلیاں دنوں تک مسلمانوں کے خون سے رنگین رہتی ہیں۔پھر کچھ ہی عرصے بعد صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں مسلمان بیت المقدس فتح کرتے ہیں۔یہاں بدلے کا تقاضہ تھا کہ عیسائیوں کو چن چن کر قتل کیا جاتا لیکن صلاح الدین ایوبی عجیب حکم دیتا ہے کہ سب کو امان دی جاتی ہے اور اس کابھائی اس سے بھی عجیب کام کرتا ہے کہ جو قیدی اپنی فدیہ ادانہیں کرسکتے ان کا فدیہ اداکرکے ان کو آذادکرادیتا ہے۔

اس آگ میں بیگناہ بھی جھلس سکتے ہیں ۔اور اسلام کہتا ہے کہ ایک انسانی جان کی حرمت کعبے کی حرمت سے ذیادہ ہے۔مانا کہ ظلم کیا ہے اسرائیلیوں نے لیکن یہ ان کا ظرف ہے ہم اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔رب کعبہ آخرت میں ضرور اجردے گا۔

میں مثالوں سے کتابیں بھر سکتا ہوں لیکن یہاں مختصراًعرض ہے کہ اسرائیل ایک وقت میں اللہ کی محبوب ترین قوم تھی ۔ان کے لئے من و سلویٰ اترا کرتا تھا ۔ان کے کرتوتوں کی وجہ سے یہ اللہ کے غضب کا شکارہوئی۔تو عزیزو! تمہارا دشمن ابلیس ہے۔اسرائیلی گمراہ ضرور ہیں لیکن راہ راست پر آسکتے ہیں۔بھٹکے ہوئے ہیں ان کو نہیں خبر کہ وہ غلط ہیں لیکن تم مسلمان تو سب جانتے ہونا!

میں بین الاقوامی تعلقات کا ادنیٰ سا طالبعلم ہوں لیکن اتنا جانتا ہوں کہ ترکی دنیاوی لحاظ سے ککھ بھی فائدہ نہیں ہونا۔لیکن ان کے خون میں جو فطرت دوڑ رہی ہے وہ عین اسلام ہے ۔اسلام دین فطرت ہے اور یہ ہوہی نہیں سکتا کہ ایک مسلمان کے سامنے کوئی تڑپ رہا ہو اور وہ اس کی مدد نہ کرے۔اردگان نے آج قرون اولیٰ کی یاد تازہ کردی۔اللہ ہمیں بھی حق کو حق کہنے کی توفیق دے آمین۔


About the author

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک لکھاری ڈاٹ کام

3 Comments

Click here to post a comment

  • ماشاءاللہ، بہت خوبصورت انداز میں دین اسلام کا امتیاز دکھایا گیاہے بلکل اسلام اور دیگر مذاہب میں یہی فرق ہیں بے شک اسلام امن وسلامتی کادین ہے۔اس قسم کے واقعات سے ہمارا دین بھرا پڑا ہے اللہ کریں زور قلم اور زیادہ ہو تنویر اعوان صاحب۔

  • غزہ /انقرہ (آئی این پی نوائے وقت رپورٹ) اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے فلسطینی صدر محمود عباس کو فون کیا، خوفناک آگ بجھانے میں مدد دینے اور یہودیوں کو پناہ دینے پر شکریہ ادا کیا۔ اسرائیل میں بڑے پیمانے پر آگ لگنے سے 80ہزار افراد بے گھر ہو گئے تھے۔ ترک صدر رجب طیب اردگان اور اسرائیلی صدر یوین ریولن کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ باہمی تعلقات سمیت اسرائیل میں لاﺅڈ سپیکر پر اذان کی پابندی کا مسودہ قانون پر تبادلہ خیال کیا جبکہ اسرائیلی صدر نے ترکی کی جانب سے انکے ملک کو آگ بجھانے والے آلات بھجوانے پر شکریہ ادا کیا۔ ترک صدر نے اپنے ہم منصب سے اس پابندی کے حوالے سے دریافت کیا جس پر ریولن نے بتایا کہ خیالات و مذہبی آزادی کی طرح اس مسئلے پر بھی بڑی حساسیت سے غور کیا جائیگا۔ ریولن نے کہا آپ کے پائلٹوں نے بہادری اور قابلیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں اس آفت سے نجات دلانے میں اہم کردار کیا ہے۔