لکھاری لکھاری » بلاگ » مظلوم اردو— ابو ثمامہ احسن

ad




ad




اشتہار




بلاگ

مظلوم اردو— ابو ثمامہ احسن


حرف ملتے ہیں لفظ بنتے ہیں، بولے جاتے ہیں ، سنے جاتے ہیں ، سامع جب قاری کے لب سے ادا ہوئے الفاظ کو اپنے گوشہ ذہن میں موجود زخیرہ الفاظ سے ہم آہنگ پاتا ہے تو مقصود بیاں سمجھ لیتا ہے. مخارج کی ترتیب بھی الفاظ کا مدعا سمجھنے میں معاون بنتی ہے. کیا وجہ ہے کہ کچھ زبانوں کا ہماری سمجھ میں آنا تو کجا سننا بھی باعث تردد بنتا ہے. زبان و بیان کی ان باریکیوں اور لسانیات کی بحث میں پڑنا ہم عمومی طور پر عبث خیال کرتے ہیں. اگر غور کیا جائے تو ہر زبان کی تشکیل،ترتیب اور تعمیر میں اس وقت کے معاشی حالات کارفرما ہوتے ہیں. زبان کے مختلف الفاظ کی مٹھاس یا کڑواہٹ ان الفاظ کی پیدائش کے حالات کی عکاسی کرتی ہیں.

دنیا کی کثیر بولی جانے والی زبانوں میں اردو خاص مقام رکھتی ہے. کانوں میں رس گھولتی ادب و احترام کا اظہار کرتی زبان قاری و سامع دونوں کو فرحت کا احساس دلاتی ہے. جہاں درد و غم کے لیے مستعمل الفاظ حقیقی درد کی عکاسی کرتے ہیں وہیں خوشی کے اظہار کے لیے مستعمل الفاظ حقیقی خوشی کی تفسیر کا حق ادا کرتے ہیں. نثر ہو یا شاعری الفاظ کا حسن استعمال کانوں میں رس گھولتا ہے. مسحور و متحیر کرتا ہے.

اردو نے جہاں ہمیں اقبال رحمہ اللہ جیسا “مصور شاعر” دیا جس کی نوک قلم میں قدرت نے تاثیر اور بیان کی وہ لازوال صلاحیت دی کہ پوری امت کی تنزلی کے اسباب وعوامل ظاہری آنکھوں سے دکھا دیئے. امت کے شاندار ماضی کا خاکہ کھینچا تو سوچ اور خیال کی وسعت کو وہ تابانی ملی کہ ایک ایک قصہ، واقعہ صدیوں کی دھند کی اوٹ سے واضح ہوتا گیا. اسی طرح امت کی معراج اور ترقی کی راہ بھی عیاں کردی. وہیں میر تقی میر جیسا لازوال شاعر دیا کہ جس کی شاعری نے میر کی حقیقی داستان حیات الفاظ کی صورت ہمں سنادی. جنون، دردوالم ،انا اور خودپسندی ان سبھی حالات کی تفہیم میر نے اپنی شاعری میں کر دی.

ہم کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے
دردوغم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا

میرزا رفیع سودا، خواجہ میردرد، حالی ، غالب ومومن غرض کیا کیا سامان عیش ہے جو اردو نے ان شعراء و اہل قلم کی صورت ہمیں نہیں دیا. ہمارا اعتراف، ان کے لازوال کام کی تعریف یا تنقید ان کی شخصیات، اردو کے لیے ان کی خدمات کا احاطہ نہیں کرسکتی. ہم انہیں حقیقی معنوں میں داد تحسین دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے.

اطراف و اکناف میں نظر دوڑانے پر ہمیں میڈیا و دیگر زرائع ابلاغ پراردو زبان کا وسیع استعمال دیکھ کر خوشی اور حیرت ہوتی ہے. قلب و ذہن خوشگوار احساس سے فرحت پاتے ہیں. لیکن غور کرنےپر ہمیں اردو زبان انتہائی مظلوم نظرآتی ہے. مختلف ٹی وی چینلز پر بحث مباحثے میں مصروف دانشور اردو زبان کے رسمی استعمال کو اردو کی خدمت سمجھتے ہیں لیکن ان کی بولی گئی زبان نہ تو اردو ہوتی ہے نہ انگریزی. دوران گفتگو اردو میں انگریزی الفاظ کا استعمال نہ کرنا کم علمی سمجھا جاتا ہے. ان کی دانشوری اس وقت تک کامل نہیں سمجھی جاتی جب تک ان کی گفتگو ملاوٹ سے بھرپور نہ ہو. اردو زبان چونکہ ہر زبان کے الفاظ کو سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اسی لیے وقتی طور پر نئی معرض وجود میں آنے والی بناوٹی، ملاوٹی زبان اجنبی معلوم نہیں ہوتی. اور اس دوران تختہ مشق بنی اردو زبان ان نام نہاد دانشوروں کی علمیت کی رداؤں تلے چھپ جاتی ہے. کیاان کے نزدیک اردو زبان ان کا مدعا پوری طرح بیان نہیں کرپارہی کہ اسے انگریزی بیساکھیوں کا سہارا دیا جائے؟

کیا وجہ ہے کہ اردو زبان وادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں اس وقت جھجک کا شکار ہو جاتے ہیں جب انہیں اس بات پر داد نہیں دی جاتی کہ وہ اپنی قومی زبان کی ترقی اور نفاذ میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں. اس کی نسبت انگریزی زبان یا دیگر سائنسی علوم کو سیکھنے والے کی حوصلہ افزائی کئی سوالات کے در وا کرتی ہے. درحقیقت اردو ہماری روز مرہ زندگی میں مستعمل تو ہے لیکن اسے وہ مقام حاصل نہیں جو اس کا حق ہے.


About the author

ابوثمامہ احسن

1 Comment

Click here to post a comment

  • اللہ تعالٰی نے انسان کو دوں ہات دہیے ہے تو وہ کبھی بھوکا نہیں مرتا