لکھاری لکھاری » کالم » قادیانی آرمی چیف کیوں نہیں بن سکتا ؟—تنویراعوان

ad




ad




اشتہار




کالم میرے مطابق

قادیانی آرمی چیف کیوں نہیں بن سکتا ؟—تنویراعوان


15058747_922870001180208_1855835630_n
سوال اٹھا ہے کہ قادیانی آرمی چیف کیوں نہیں بن سکتا؟جبکہ ریاست کے تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں ۔تمام شہری برابر کے محب وطن ہیں ۔عقیدہ حب الوطنی کی دلیل کیسے ہوسکتا ہے؟

جواب دینے سے قبل میں آپ کو تاریخ میں لے جانا چاہتا ہوں ۔تاریخ بہت طویل ہے اس لئے ہم سقراط،افلاطون،ارسطوکے زمانے میں جاتے ہیں۔یونانی شہری ریاستوں کو جدید ریاستوں کی ابتداء کہا جاتاہے۔تہذیب و تمدن کے لحاظ سے یونانی ریاستیں اپنی مثال آپ تھیں۔لیکن انہی ریاستوں میں انسان کو جانور سے لڑایا جاتا تھا۔انہی ریاستوں میں جانوروں سے بدفعلی کی جاتی تھی۔انہی ریاستوں میں انسانوں کو زندہ آگ میں ڈال دیا جاتاتھا۔اور یہ سب اپنے وقت کے اور عصر حاضرتک مانے جانے والے والوں دانشوروں کی موجودگی میں ہوا۔

اب اگر ہم جائزہ لیں تو ایسا کیوں تھا ؟ کہ اتنے بڑے دانشورموجودتھے ان کے شاگرد موجودتھے لیکن اصلاح معاشرہ ممکن نہ ہوسکی۔تاریخ بتاتی ہے کہ بنیادی وجہ اس معاشرے کی زہنیت تھی ۔وہ صحیح تھے یا غلط اس سے قطع نظر ان ریاستوں کا جمہوران قوانین کا قائل تھا جو کہ ریاستوں نے نافذکررکھے تھے۔یعنی کہ ریاستی آئین و قوانین کا بنیادی ماخذاس کا جمہورہوتاہے۔جمہور طے کرتا ہے کہ ریاست کن خطوط پر چلے گی۔ریاست میں آئین اورقوانین کا تعین بھی جمہور کی مرضی سے ہوتاہے۔
اب ہم ایک بات صاف طور پر سمجھیں تو ریاست کئی اقسام کی ہوتی ہیں۔ریاست قومیت کی بنیادپربھی وجود میں آسکتی ہے۔ریاست انتظامی بنیادوں پر بھی وجود میں آسکتی ہے۔ریاست نظریاتی بنیادپر عمل میں آسکتی ہے۔اب جن بنیادوں پر ریاست کا قیام عمل میں لایاجاتاہے۔ریاست انہی بنیادی اصولوں کے مطابق اپنے قوانین تشکیل دینے ہوتے ہیں۔ہرریاست کے اپنے قوانین اوراصول ہوتے ہیں۔دنیا میں کہیں بھی ریاستوں کے قوانین ایک جیسے نہیں ہیں۔کہیں بھی تمام شہریوں کو برابری کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت میں اقلیت پابندی کا شکارنظر آتی ہے۔ہر ریاست کی بنیادی ترجیح اس کا جمہور ہیں۔

اب اگر نظریاتی ریاست کی بات کریں تو دنیا میں ایک ہی جائز نظریاتی ریاست ہے یعنی کہ پاکستان ۔اور ایک ناجائزنظریاتی ریاست ہے اسرائیل۔پاکستان کے وجودکی بنیاد کلمہ طیبہ ہے۔یہ ریاست صرف اسی لئے وجود میںلائی گئی کہ مسلمانوں کو اس میں بسایا جاسکے۔مسلمانوں کو اپنی مذہبی ودینی عبادات کی ادائیگی میں آذادی حاصل ہوسکے۔قائداعظم بارہاں اسلام کاقلعہ،ہماراآئین چودہ سوسال قبل آچکا،ہم اسلامی اصولوں کوآزماناچاہتے ہیں،ہندواورمسلم دوالگ قومیں ہیں،جیسے الفاظ اپنی تقاریر میں دہراچکے ہیں۔پہلے تو ہماری فکری یتیم پاکستان کو نظریاتی ریاست ہی نہیں مانتے اور اگر مان بھی لیں تو کہتے ہیں کہ مذہبی ریاست ناکام ہوچکی؟

تو جناب ایک مثال پیش خدمت ہے کہ علاقہ مکینوں نے اسکول لیا ۔اس پر خطیررقم خرچ کی کہ یہاں درس و تدریس ہوسکے۔لیکن چند عوامل کی بنیادپر کچھ ہی عرصے میں تدریسی عمل معطل ہوگیا۔اب انتظامیہ کا یہ کہنا کہ اسکول ناکام ہوچکا اورقرب وجوار میں شرابی باکثرت رہتے ہیں ۔اس لئے اسکول کو شراب خانے میں تبدیل کیا جائے؟عقل و فہم سمجھنے سے عاری ہے کوئی بھی ذی شعور کبھی بھی اس کی حمایت نہیں کرے گا اور وہ اہل علاقہ جنہوں نے اسکول کے لئے زمین لی خطیررقم خرچ کی کبھی اس کی اجازت نہیں دیں گے۔

اب سمجھیں تو مذہبی ریاست کی ناکامی کا مطلب ریاست ہی ختم شد۔کیوں کہ جس بنیاد پر عمارت کھڑی کی گئی وہی نہ رہی تو عمارت کیسے کھڑی رہ سکتی ہے؟۔اب دوسری بات کہ جس نظریے کے تحت ریاست بنائی گئی اوراس نظریے کو جمہور نے من وعن تسلیم کیا۔اب اس ریاست کے قوانین کشف ،الہام ،دانشورنوں کی آراء سے طے ہونے چاہئیں یا پھر ریاست کے جمہور کی مرضی سے ؟ ریاست کا جمہور عقل و فہم رکھے یا نہ رکھے ۔جمہوریت میں چرسی ،پوڈری،ایم اے انگلش سب ہی برابر ہوتے ہیں کہ یہاں لوگ گنے جاتے ہیں تولے نہیں جاتے۔اس لئے طے یہ ہوا کہ ریاست کا جمہور جو بھی طے کرے گا وہی اس ریاست کا قانون کہلائے گا۔اب انسانی حقوق کا تعین بھی ریاست کا جمہور ہی کرے گا۔جیسا کہ یونان کی ریاستوں کی مثال دے چکا۔

اب آجائیں قادیانی مسئلے کی طرف ۔پہلی بات قادیانی اقلیت اور دیگر اقلیتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ایک مثال سے سمجھیں میں اگر کوئی دعوی کرے کہ میں امریکہ کا شہری ہوں اور دونمبرکاغذات بھی بنوالوں۔لیکن میں ساتھ میں یہ بھی کہوں کہ میں امریکی قوانین کو نہیں مانتا۔صدرصرف بھارت کے پردھان منتری کو مانتا ہوں اور جنگ میں اگرلڑوں گا تو صرف اسرائیل کی طرف سے۔اب ایسے ” نمونے” کوآپ کیا کہیں گے۔امریکہ فوراًایسے نمونے کے خلاف کاروائی کرے گا اور اگر حقیقی شہری ہوا بھی تو اس کی شہریت منسوخ کرکے اس کو بے دخل کردیا جائے گا۔اب وہ کبھی بھی امریکہ میںداخل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے پرانے کارناموں کی معافی مانگ کر امریکی قوانین کو من و عن تسلیم نہیں کرلیتا۔

یہاں قادیانی بھی ایسے ہی نمونے ہیں۔جو کہ اسلام کے نام پر بننے والی ریاست میں رہتے ہیں۔لیکن خود کو ذبردستی مسلمان کہلوانا چاہتے ہیں۔اب مثال اوپر دی ہے اس سے سمجھیں کہ جب اسلام نے کہہ دیا کہ اب کوئی نبی نہیں۔قادیانی اس قانون کو نہیں مانتے۔اسلام نے کہہ دیا کہ شرعی قوانین یہ ہیں۔اب قادیانی نہیں مانتے۔اب جب کوئی نمونہ ایک ریاست کے قوانین کو تسلیم نہ کرکے اس ریاست کا شہری نہیں ہوسکتا بلکہ بے دخل کردیا جاتا ہے تو قادیانی کیسے مسلمانی کا دعوی کرسکتے ہیں اور ایک ایسی ریاست میں جوصرف اسلام کے نام پر بنی وہاں تمام شہری برابرکے شہری کہلواسکتے ہیں۔ایسا ہرگزنہیں ہوسکتا برابرکے حقوق کے دعوی ہے تو اسرائیل اوردیگریورپی ریاستوں میں ہولوکاسٹ پر بات کی اجازت کیوں نہیں؟۔

چونکہ پاکستان ایک دینی نظریاتی ریاست ہے۔جس کا بنیادی ماخذاسلام ہے۔اس لئے ریاست اپنے قوانین کو اسلام کے مطابق بنانے کی پابندہے۔اور اسلامی قوانین کی رو سے قادیانیوں کو کوئی بھی ایسا عہد ہ یا نوکری نہیں دی جاسکتی جس کے ذریعے وہ عام مسلمانوں پر اثراندازہوسکیں۔یا پھر عام مسلمانوں سے اعلیٰ عہدے پر فائزہ ہوسکیں۔کجا کہ ریاستی افواج کا سربراہ بن جائیں۔

سارا مسئلہ ہی ریاست کے بنیادی ماخذکا نہ سمجھنے کا ہے۔اگر ریاست کے راہنما اصول سمجھ لیے جائیں توبالکل واضح ہوجائے گا کہ ریاست جس مقصد کے لئے تشکیل دی جاتی ہے ۔اس ریاست میں اسی مقصد کے حاملین کو ہی برابر کے حقوق حاصل ہوتے ہیں دیگر رہنا چاہیں تو ریاست اپنے مقصد اور اصولوں کے مطابق ان کے ساتھ رعایت برتتی ہے۔

یہ ریاستوں کے ماخذ ہی ہیں جو کہ ازل سے چلے آرہے ہیں اورجمہور کا فیصلہ ہیں۔ انہی مروجہ اصولوں اور جمہور کی مرضی کو مدنظر رکھا جائے ۔ریاست کی بنیاد کو مدنظر رکھا جائے۔نظریے کو مدنظر رکھا جائے تو قادیانی پاکستان میں رہنے کا حق نہیں رکھتے لیکن یہ پاکستانی ریاست اورجمہورکی فراخدلی ہے کہ قادیانیوں ریاست میں رہنے دیا ہے۔یہ چند وجوہات ہیں جن کی وجہ سے قادیانی آرمی چیف نہیں بن سکتا۔