لکھاری لکھاری » میرا نقطہ نگاہ » اقتصادی راہداری اور بڑھتی ہوئی بے چینی ۔ خلیل اللہ ترک

ad




ad




اشتہار




میرا نقطہ نگاہ میرے مطابق

اقتصادی راہداری اور بڑھتی ہوئی بے چینی ۔ خلیل اللہ ترک


چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ کامیابی کےساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ملک دشمنوں کی ناپاک سازشوں کے باوجود یہ منصوبہ آگے بڑھ رہا ہے ۔
ماہرین کے مطابق یہ ایک گیم چینجر منصوبہ جو نہ صرف پاکستان بلکہ اس خطے کی تقدیر بدل کے رکھ دیگی ۔ اس سے نہ صرف پاک چین تعلقات مضبوط ہونگے بلکہ اس سے وطن عزیز پر ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی ۔ بدقسمتی سے جب بھی کوئی ایسا منصوبہ شروع ہوتا ہے تو کوئی نہ کوئی تنازع درمیان میں آجاتا ہے اور پھر محرومی کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔ اب یہی کچھ سی پیک کے ساتھ ہوتا نظر آرہا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کی غفلت کے سبب یہ منصوبہ نہ صرف تنازعات کا شکار ہورہا ہے بلکہ مستقبل قریب میں کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ۔

وفاقی حکومت کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ اس منصوبے سے ذیادہ سے ذیادہ فائدہ پنجاب کو حاصل ہو اور اسی لئے اس منصوبے کی تفصیلات صیغہ راز میں رکھنے کی بھرپور کوشش کررہی ہے ۔ دوسری طرف خیبر پختونخواہ جہاں سے اس راہداری کا ایک بڑا حصہ گزر رہا ہے وہاں کی حکمران جماعت تحریک انصاف نے اس مسئلے کو سیاست کی نظر کردیا ہے ۔ جب اقتصادی راہداری کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی تیاریاں ہورہی تھی تب خیبر پختونخواہ کی حکومت دھرنوں میں مصروف رہی ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اب مختلف فورمز پر یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتا کہ پختونخوا کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا لیکن وزیراعلیٰ صاحب یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ جب اس راہداری کیلئےمنصوبہ بندی ہورہی تھی تب ہماری حکومت کہاں سورہی تھی ۔

فریقین کی ہٹ دھرمی اور غیر سنجیدہ سیاسی رویے کیوجہ سے آج ایک صوبہ اور وفاق آمنے سامنے ہیں جبکہ دنیا ہمارا تماشہ دیکھ رہی ہے ۔
اب صورتحال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں راہداری پر باقاعدہ کام شروع ہوچکا ہے ۔ سروے مکمل کرکے جگہ جگہ بھاری مشینریاں نصب کردی گئی ہیں ۔ جن جن علاقوں سے یہ راہداری گزر رہی ہے وہاں لوگوں کو مکانات اور زمینیں خالی کرنے کا کہا گیا بلکہ بعض جگہوں پر باقاعدہ بلڈوزروں اور بھاری مشینری کے ذریعے کام شروع کیا جاچکا ہے ۔ اس کے باوجود حکومت نے ابھی تک راہداری کے متاثرین کے لئے کسی واضح لائحہ عمل کو سامنے نہیں لایا ۔

جن لوگوں کی زمینیں یا عمارتیں راہداری سے متاثر ہونے والی ہیں ان کے لئے حکومت کے پاس کیا منصوبہ بندی ہے ؟ یہ لوگ جائیں تو کہا جائیں ؟ حکومت کی طرف سے ان کو جو معاوضہ دیا جائیگا کیا اس سے ان کے نقصانات کا ازالہ ہوجائیگا ؟ کیا اس رقم سے ان کی دوبارہ آباد کاری ممکن ہوسکے گی ؟ جن لوگوں کے کاروبار متاثر ہورہے کیا حکومت ان کو کوئی زریعہ معاش فراہم کریگی یا نہیں ۔ یہ وہ سب سوالات ہیں جن کا عام آدمی جواب چاہتا ہے لیکن کسی طرف سے کوئی تشفی نہیں ہورہی ۔ بعض علاقوں میں متاثرین کو اعتماد میں لئے بغیر کام شروع ہونے پر لوگوں کی طرف سے سخت ردعمل بھی سامنے آیا ہے ۔

لھذا حکومت کو چاہئیے کہ جو لوگ ملک اور قوم کی خاطر اپنے عمر بھر کا متاع لٹانے کے لئے تیار ہیں ، جو اپنے خون پسینے کی کمائی کو قوم کی وسیع تر مفاد کیلئے قربان کرنے کو تیار ہیں ، ان کے موقف کو بھی سنا جائے ان کےدکھ درد کو بھی سمجھا جائے اور ان کے بہتر مستقبل کے لئے کوئی لائحہ عمل سامنے لایا جائے ۔ اور اگر ان کی بے چینی کو اسی طرح نظر انداز کیا گیا تو یہ بے چینی مایوسی میں تبدیل ہوجائیگی اور خیبر پختونخوا کو بلوچستان بننے میں دیر نہیں لگے گی ۔

صوبائی حکومت کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ وفاق کے سامنے متاثرین کے مسئلے کو رکھے اور متاثرین کو ان کے حقوق دلائیں ، وگرنہ پختونخوا کی عوام عمران خان سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوگی کہ دھاندلی اور پانامہ لیکس کے خلاف اگر دھرنا ہوسکتا تھا تو ہمارے حقوق کے لئے کیوں نہیں ؟