لکھاری لکھاری » بلاگ » فکری یتیموں کا المیہ —انس انیس

ad




ad




اشتہار




بلاگ

فکری یتیموں کا المیہ —انس انیس


15211797_343929095965789_1974900382_n

فکری یتیموں سے پاکستان کے ساتھ اسلامی جمہوریہ کا لاحقہ نہیں دیکھا جاتا اس وجہ سے وہ بنیادی طور پر ان شخصیات کو تنقید نشتر زنی کا نشانہ بناتے ہیں جنہوں نے اس پاک وطن کی نظریاتی سرحدوں پر پہرا دیا اور اس کی خاطر انہوں نے طویل جدوجہد کی.

حال ہی میں‌وجاہت مسعود صاحب نے ایک کالم میں علامہ شبیر احمد عثمانی رح کے قائد اعظم سے متصادم افکار کو پیش کیا جس پر مجھے ذرا برابر حیرت محسوس نہیں ہوئی اس میں جہاں انہوں نے علمی خیانت کا ارتکاب کیا وہیں اوروں کا کچرا علامہ کے سر ڈالنے کی ناکام کوشش کی؛ مضمون کیا ہے اتہام وبغض کا مجموعہ؛ جس کے کسی واقعہ کا ثبوت ان سے پیش نہ ہو سکا البتہ موصوف کی علمی خیانتوں کی قلعی مشہور مؤرخ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے خوب کھولی.

فکری یتیموں کی دشمنی علامہ اقبال اور بانی پاکستان ہر دوحضرات سے ہے اول لذکر کو تو سرعام نشانہ بنایا البتہ مؤخر کے بارے میں ذرا احتیاط سے کام لیا اور اس کے انہوں نے نوابزادہ لیاقت علی خان اور علامہ شبیر احمد عثمانی کا سہارا ڈھونڈا تاکہ اس پر تکیہ لگا کر پیٹھ پیچھے وار کیا جائے؛ لبرلز حضرات اپنا مشق ستم انہیں حضرات کو بناتے ہیں.

وجاہت مسعود سے قرارداد مقاصد ہضم نہیں ہوتی اور اس سلسلے میں ان کی دلیل یہی ہوتی کہ یہ کچھ حضرات کی سازش تھی جس کو انہوں نے عملی جامہ پہنایا؛ پہلے وجاہت صاحب نے قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے مابین اختلاف کو ڈھونڈا اور کہا کہ لیاقت علی خان قائداعظم کے سیاسی موقف کی مخالفت کے لیے علامہ شبیر احمد عثمانی کے مذہبی تشخص کا فائدہ اٹھایا.

اب کیسے اٹھایا کہاں اٹھایا جواب ندارد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے؛ اسی ضمن میں وجاہت مسعود نے علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب کو مختار مسعود کے حوالے سے زبان وادب میں کوتاہ قرار دیا؛ لیکن مختار مسعود کا اس سے کیا مطلب تھا یہ بیان نہیں کیا ایک سطر پہلے مختار مسعود نے علامہ شبیر احمد عثمانی کی تعریف فرمائی وہ بھی وجاہت صاحب اڑالے گئے.

اہل علم ونظر بخوبی جانتے ہیں کہ مولانا کیسے اہل زبان تھے ان کی تقاریر و تحریرات کیسی سحر انگیز ہوتی تھیں؛ تجلیات عثمانی خطبات عثمانی اس کی چشم دید گواہ ہیں پھر مولانا کا علم حدیث وتفسیر میں مقام اہل عرب و عجم تسلیم کرتے ہیں تفسیر عثمانی میں انہوں نے جس انداز سے تفسیر مباحثات کو سمیٹا یہ انہی کا خاصہ تھا گویا دریا کوزے میں بند کردیا.

وجاہت مسعود نے الزام لگایا کہ مولانا ہر بات پر اپنے خواب سنا دیتے مثلاً پاکستان بنانے کا ذکر آیا خواب سنا دیا بانی پاکستان کی نماز جنازہ کا مسئلہ آیا مولانا نے خواب بیان کردیا وجاہت صاحب الزام لگاتے ہیں کہ مولانا کی اپنے بارے میں خود آرائی کسی سے مخفی نہیں.

اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان کے متعلق موقف اختیار کرنے کے سلسلے میں مولانا اشرف علی تھانوی اور ان کے خلفاء کو کن کن مراحل سے گزرنا پڑا بالخصوص علامہ ظفر احمد عثمانی وعلامہ شبیر احمد عثمانی رح کہ انہوں نے کس طرح ابتداء قائداعظم سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا انہی ملاقاتوں کے سلسلے میں قائداعظم کے موقف اور ان کی وضع قطع میں تبدیلی محسوس کی گئی؛ لبرلز اور وجاہت مسعود جیسے لوگوں سے صاف طور پر پاکستان کے ساتھ لگا اسلام کا لاحقہ ناقابل قبول ہے اور قرارداد مقاصد ان کے گلی میں ہڈی بن کر اٹکی ہوئی ہے کیونکہ اس قرارداد کا بیانیہ ہی بنیادی طور پر اللہ تعالٰی کی حاکمیت ہے اور حاکم وقت کی حیثیت نیابت کی سی ہے.

سوال یہ ہے کہ کیا قرارداد مقاصد عوامی خواہشات کے مطابق منظور ہوئی کہ نہیں؟ 1973 کے آئین کے تحت پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان عوامی امنگوں کے مطابق قرار دیا گیا یا نہیں؟ وجاہت مسعود ،ایاز، امیر حسن نثار ودیگر اس قبیل کے دانشوروں کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے لیکن جان بوجھ کر ان کا آئین مذہبی شناخت اور پاکستان کے پس منظر سے انحراف کرنا کسی مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے.

ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے خوب ان کی علمی خیانتوں کا پردہ چاک کیا کیا خوب فرمایا ڈاکٹر صاحب نے؛ دلچسپ اور قابل غور بات یہ ہے کہ ایک طرف تو یہ جمہور اور عوام کی بالادستی کے علمبردار بنتے ہیں اور پارلیمنٹ کی حاکمیت میں ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں اور دوسری طرف عوام کے منتخب کردہ پارلیمنٹ کے بنائے آئین کے بارے میں شاکی رہتے ہیں .

پاکستان کو اسلامی جمہوریہ دستور ساز اسمبلی نے قرار دیا اور اسے اسمبلی کا حصہ بنایا پارلیمنٹ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے تشکیل کردہ آئین کو بھی کھلے دل سے قبول کر لیجیے اور ان مباحث سے اجتناب کیجئے جس سے آئین کی بنیاد پر زد پڑھتی ہو؛


About the author

انس انیس

محمد انس ہزارہ ڈویژن کے علاقے حضرو سے تعلق رکھتے ہیں لکھاری ڈاٹ کام کے معاون چیف ایڈیٹر ہیں ،روزنامہ نئی بات میں کالم بھی لکھتے ہیں ،بقول انس انیس
علمی دنیا کا مسافر ؛ دلیل کا طالب؛ سچائی کی جستجو میں سرگرداں اک ذرہ بے نشان.

Add Comment

Click here to post a comment