لکھاری لکھاری » بلاگ » خالص دودھ ندارد– انس انیس

ad

بلاگ

خالص دودھ ندارد– انس انیس


15211797_343929095965789_1974900382_n

وطن عزیز میں روشنی کا سفر تیزی کے ساتھ جاری وساری ہے؛ اس روشنی نےوطن کے ذرے ذرے گوشے گوشے کو روشن کر دیا ہے؛ اس لیےان تاریکی چیزوں کو مٹانا از حد ضروری ہو چکا ہے جو روشنی میں خلل ڈالتی ہیں ؛ مستورات پبلک مقامات پر مکشوفات نظر آئیں گی ؛مشرقی تہذیب وتمدن بھی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اس لیے ابتداء میں اس پر مغرب کی ملاوٹ کی گئی پھر آہستہ آہستہ حمیت نام تھا جس چیز کا گئ تیمور کے گھر سے؛ تاریک دور کی اشیاء میں خالص دودھ خالص لسی ہوا کرتی تھی جس کو جدید شکل میں بدل دیا گیا؛ کہ صاحب اب آپکا معدہ خالص اشیاء ہضم نہیں کرتا اب ملاوٹ شدہ دودھ؛ پانی کی پوری بالٹی اور اندر ایک پاؤ خالص لسی؛ اور امریکی ڈالڈا کھانا پڑے گا اس سے آپ اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کریں گے؛ ماشاءاللہ یہاں آپ کو ایک سے لیکر دس نمبر تک چیز بازار سے سستے داموں مل جائے گی ایک پاکستانی انگلینڈ گورے کی دوکان پر گیا کہا ایک نمبر دینا یار؛ اس نے فوراً کہا یہاں سب ایک ہی نمبر ہوتا ہے؛ ہم کتنے خوش نصیب ہیں دودھ بھیڑوں؛ بکریوں؛ گائیوں ؛بھینسوں کی صورت میں اکٹھا معجون مرکب کی صورت میں دستیاب ہو جاتا ہے جو کہی نہیں ملتا؛ اس سے آپ مختلف ذائقوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں؛ معاشرے میں خالص دودھ لانا جوئے شیر لانے کے برابر ہے ؛ ہم نے خود ایک صاحب کو دیکھا اندر جاتے وقت ایک ڈبا لیکر جاتے باہر نکلتے تو ماشاءاللہ چار ڈبے ساتھ ہوتے؛ ایک بڑے دارالعلوم کے شیخ الحدیث صاحب نے اپنی لاگ لگا رکھی تھی؛ بابا روزانہ ان کو دودھ دے جاتا ایک دن سخت بارش تھی باباجی مسجد کے اندر داخل ہوئے پھسل گئے دودھ برتن سے بہہ گیا؛ بابا جی نے دائیں بائیں کسی کو نہ پایا فوراً سامنے نلکے سے پورا ڈبہ بھرا اور دودھ دینے آ گئے شیخ الحدیث صاحب یہ نظارہ اوپر کی کھڑکی سے دیکھ رہے تھے انہوں نے اب کا دودھ وصول کیا پیسے دییے اور کہا باباجی آئندہ اپنا راستہ ناپیں ؛ ہمارے ایک خطیب صاحب کو جب کہا گیا آپ کے لیے چائے لائ جائے آگے سے کہا بھائی اس میں وہی پانی پڑا ہو جو پھینس نے پیا تھا مزید ڈالنے کی ضرورت نہیں؛ تو بھائیوں اب تو خالص دودھ کی جگہ لسی نے لے لی لسی کی جگہ دودھ نے پر کرلی کس کس چیز کو روئیں؛ زمانہ جو ترقی پذیر ہے؛