لکھاری لکھاری » بلاگ » اردوہماری نیشنل لینگویج ہے! —قاسم شہزاد

ad

بلاگ

اردوہماری نیشنل لینگویج ہے! —قاسم شہزاد


15027751_822309707872335_8932105097923164175_n

بیس اوورز کے کرکٹ مقابلے میں ایک باری کے خاتمے پر پندره” منٹ” کا وقفه هوتا هے اگر میچ انٹرنیشنل هو تو وه پندره منٹ زیاده تر اشتهارات میں هی گزرتے هیں اور کوئی لیگ هو تو مختصر تبصره، تو ایک” انٹرنیشنل میچ” میں بهی دیکھ رها تها اور وقفے کے وقت میں نے سوچا که فضول اشتهارات دیکهنے سے بهتر هے که خبریں سن لی جائیں. گھڑی پر نظر دوڑائی تو آٹھ بج کر کچھ منٹ هوگئے تھے جو که پاکستانی نیوز چینلز پر “بک بک ” جسے عرفِ عام میں “ٹاک شو” کها جاتا هے کا وقت هوتا هے.

بهرحال ایک معروف چینل لگایا تو سکرین پر کچھ اس طرح کے الفاظ نظر آرهے تهے *هماری قومی زبان اردو کی زبوں حالی کی وجوهات کیا هیں؟* جو صاحب گفتگو کر رهے تھے وه پروگرام میں بطور مهمان شریک تھے اور وه اردو زبان کی اهمیت اور زبوں حالی کی وجوهات پر گفتگو کررهے تهے تو جناب کچھ یوں گویا هوئے دیکھئے اردو هماری نیشنل لینگوئج هے لیکن هم اسے کیا امپورٹینس دے رهے هیں ؟ آج تک هماری جیوڈیشل لینگوئج انگلش هی هے جب که عام عادمی اتنا ایجوکیٹڈ نهیں که وه اسے سمجھ سکے، کیا پرابلم هے که هم اردو کو جیوڈیشل لینگوئج کے طور پر یوز نهیں کرسکتے،

بلکه آپ اس بات کو چهوڑیں همارے پریزیڈنٹ صاحب جب پارلیمنٹ کو ایڈریس کرتے هیں تو انگلش میں کرتے هیں همارے پرائم منسٹر نے کسی بهی انٹرنیشنل فورم پر سپیچ کرنی هوتو وه بهی انگلش میں کرتے هیں جب که چائنه،ٹرکی،ملائیشیا سمیت همارے هی فرینڈز اینڈ نیبر کنٹریز کے هیڈ آف سٹیٹس اپنی هی لینگوئج میں سپیچ کرتے هیں. اتنی “پیور اردو” میں اردو کی وکالت سن کر میں سوچ هی رها تها که جب اردو کے حق میں بولنے والا اردو کے حق میں دلائل هی اردو میں نهیں دے سکتا تو اردو کا کیا هوگا ؟

یه هماری قومی ﺫمه داری هے که اپنے گهروں میں صحیح اردو کو رائج کریں ، اتنے میں میرے کانوں میں میرے هی گهر سے میرے بهتیجے کی آواز پڑی، چاچو چینل چینچ کردیں میچ سٹارٹ هوگیا هوگا کیا بورنگ پروگرام لگا رکها هے آپ نے، پته نهیں کیا مل جاتا هے آپ کو ان ٹاک شوز سے ” دے آر میکنگ اس فول چاچو” میں نے چینل بدلا اور میچ کو یکسر نظر انداز کر که غم اردو میں ڈوب کر سوچنے لگ گیا که هماری اردو کا کیا هوگا ؟

ایک تو پهلے هی یه کٹهن دور سے گزر رهی هے اوپر سے نئی پیڑی تو بلکل هی شدھ اردو سے کوسوں دور هے ٹیلیویژن پر انڈین کانٹینٹ اور سکولز میں انگلش میڈیم تعلیم نے هماری بُدهی میں هندی اور انگلش کو اس طرح پیوست کردیا هے که اگر هم ابهی سے ان کو نکالنے کی کوشش کریں تو بهی ان سے مکمل جان چهڑانے میں ورشوں لگیں گے بحیثیت نیشن همارے دلوں میں جتنا پریم اپنی دهرتی کیلئے هے اتنا هی اپنی بهاشا اردو کیلئے بهی هونا چاهئے اور هندی اینڈ انگلش مکسچر سے هنڈرڈ پرسنٹ نجات حاصل کرنے کیلئے همیں نه صرف اپنے تعلیمی نظام میں چینجز کرنے کی آوشکتا هے بلکه اپنے گهروں میں بهی سختی سے اردو کو هی رائج کریں تاکه همارا دردِ اردو همارے کام بهی آئے
اینڈ میں گریٹ پوئٹ چاچاغالب ٹی سٹال والے کا دردِ اردو میں ڈوبا هوا ایک پیور پنجابی لینگوئج میں شعر پیش کر که اجازت چاهوں گا
لُک ویکهو آسمان سکائی
پیجن کبوتر اڈن فلائی


7 Comments

Click here to post a comment

  • قاسم شہزاد کی اردو زبان کی ترویج سے متعلق تحریر پڑھ کر بہت اچھا محسوس ہوا خوشی ہوئی کہ ہمارے وطن پاکستان میں ابھی اردو کا درد رکھنے ہم جیسے کچھ بھائی وجود رکھتے ہیں. جزاکم اللہ خیراً کثیرا

  • اردو کی زبوں حالی پر بہت اچھا تبصرہ ھے قاسم شہزاد بھائی آپ بہت اچھا لکھتے ھیں موضوع مزاح اور اتنا اچھا مزاح واہ واہ، اب میرا تجزیہ سنئیے سب سے اچھوتی چیز کہ موضوع یکسانیت کا شکار نہ دکھا۔ موضوع کو تین زبانوں میں بیان کرتے ھوئے چند سطروں میں سمیٹنا آپکا منفرد عمل محسوس اس لئے ھوا کہ لکھاری اس موضوع پر کہیں سے کہیں نکل جاتے دیکھے۔خیر مزاح کے پیرائے میں جنازہ تو آپ نے بھی نکال دیا ھائے اردو وائے اردو