لکھاری لکھاری » بلاگ » فکراورفقرکے بھنورمیں پھنسی عوام! –قاسم اقبال راؤ

ad

بلاگ

فکراورفقرکے بھنورمیں پھنسی عوام! –قاسم اقبال راؤ


14359190_1262819087084806_1079783495211866624_n-1

ایک عورت جو بڑھیا تھی اسکی بینائی کم ھوگئی. اس خیال سے کہ وہ کہیں اندھی نہ ھو جائے ایک دن ایک حکیم کے پاس گئی اور اس سے کہا! “حکیم جی! میری بینائی دن بدن کم ھوتی جا رھی ھے، مجھے ڈر ھے میں کہیں اندھی نہ ھو جاوں. میرا علاج کرو.اگر میری بینائی ٹھیک ھو گئی تو منہ مانگی دولت دوں گی، خدا کا دیا سب کچھ ہے میرے پاس، لیکن یاد رکھو اگر میری بینائی ٹھیک نہ ہوئی تو ایک پائی نہ دوں گی “.

یہ شرط حکیم نے منظور کر لی. بڑھیا کا علاج کرنے روز اس کے گھر آنے لگا. آنکھیں دھو کر دوا لگانے لگا لیکن حکیم کو دوسروں کی چیزیں چرانے کی عادت بھی تھی.ہر روز بڑھیا کے گھر سے ایک نہ ایک چیز چرا لاتا تھا.حکیم کے مسلسل علاج سے بڑھیا کی بینائی تو ٹھیک ہو گئی لیکن حکیم نے اس عرصے میں اس کے گھر کا مکمل صفایا بھی کر دیا.

ایک دن حکیم نے بڑھیا سے اپنی اجرت مانگی تو وہ بولی کہ میں تو ایک کوڑی تجھے نہ دوں گی.ھاےغضب! میرا بھرا بھرایا گھر تو نے صاف کر دیا. تنکا بھی اس میں نہیں چھوڑا. میں جوتیوں سے تیری خبر لوں گی.حکیم نے دعوی’ دائر کر دیا اور بڑھیا کو عدالت میں بلوایا. قاضی نے بڑھیا سے سوال کیا تو بڑھیا نے سارا حال اس کو سنایا. بولی! “بے شک میں نے اقرار کیا تھا کہ اگر میری بینائی ٹھیک ہو گئ تو اسے منہ مانگی اجرت دوں گی. اس نے میرا علاج کیا مگر میرا حال اتنا ابتر کر دیا ہے کہ پہلے تو میں گھر کی ھر شے دھندلی دھندلی پاتی تھی لیکن اب مجھے کوئی شے نظر ھی نہیں آتی”

یہ حکایت میں نے بوستان سعدی میں پڑھی تو مجھے پیارے ملک پاکستان کی عوام بھی بالکل اس بڑھیا کی طرح لگی مگر فرق صرف یہ ھے بڑھیا کی بڑھاپے میں بنیائی کمزور ھوئی تھی مگر میری عوام بچپین سے ھی آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ھے اور یہ بیماری شاید ھمارے حافظے تک پھیل گئی ھے،

ھم نے ہر نئے آنے والے سیاستدان سے بس یہی چاھا ھماری بیماریاں “غربت، لاچاری، انفراسٹکچر، کرپشن، سسٹم کی خرابی کو ٹھیک کر دیں ھم تمہیں منہ مانگی قیمت دئیں گے، عزت، شہرت، پیسہ، جان مال، دنیا و مافہا کی.ہر چیز آپ کے قدموں میں ڈھیر کریں گے، مگر ھماری بیماریوں کا علاج کردؤ، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دعا کی، حکیم نے بڑھیا کی آنکھیں تو ٹھیک کر دیں تھیں مگر ھمارے ملک میں نہ تو بیماریوں کا علاج ھوا اور نہ ھی کوئی چیز بچی، سیاستدانوں کے نشتر برداشت کیے، حالات واقعی بدل گئے ملک کے تو نہیں سیاستدانوں کے، کسی نے ادارؤں کی nationalization کی دوا دی تو کسی نے privatezation کے انجکشن لگائے.

کسی نے اسلام اور شریعت کے نام کی ھیوموپیتھی کی میٹھی گولیاں دیں تو کسی نے لبرل ازم کی ایلوپیتھی کی کڑوی کیسلی گویاں دیں، مگر بیماریوں کا علاج تو درکنار عوام تین وقت کی روٹی سے دو وقت کی روٹی پہ آگئے. زبان سے دیس دھرتی کو یہ پاکستان بھی کہتے ھیں مسلماں ھیں وفا کو حاصل ایماں بھی کہتے ھیں مگر غیرت نا جانے کیا ھوئی اھل ارباب کی وطن کو لوٹتے بھی ھیں وطن کو ماں بھی کہتے ھیں


1 Comment

Click here to post a comment