بڑے دل والے–سعدیہ کامران

ad



ad

بلاگ

بڑے دل والے–سعدیہ کامران


15135533_1079822035464022_1133889835_n

میرا اکثر کام کے سلسلے میں سینٹرل جیل جانا ہوتا ہے۔یہاں کئی کہانیاں کئی قصے دم توڑ رہے ہیں۔ سسک رہے ہیں۔ غلام قادر تھیپو آئی جی سندھ جب سے آئے ہیں سینٹرل جیل کے حالات کافی حد تک سدھار کی جانب ہیں۔ بعض مجرموں کو دیکھ کر ان سے بات کرکے انکے ملزم ہونے کا یقین ہوتا ہے۔ جو انکا کیس ری اوپن ہونے کا محرک ہوا کرتا ہے۔

یہ مجرم یہ ذہنی مریض یہ فرقہ واریت لڑائی جھگڑا مذہبی انتشار و نفرت اسکا سیٹ بیک ہمارے آپس کے رویے ہیں جو ہم ایک دوسرے کے ساتھ برتے ہیں۔ یہ قیدی جب سلاخوں کے پیچھے جاتے ہیں تو محض بند نہی کردیے جاتے بلکہ انکے سدھار کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو مستحسن ہے۔ جیل میں بھلے کنول مونٹیسوری سے لیکر میٹرک بورڈ کا اسکول ہو۔ دینی تعلیم کا مدرسہ ہو۔ ڈسپینسری کی مکمل سہولت ہو۔ قیدیوں کی کانسلنگ ہوتی ہو۔لیکن کیا یہ ساری چیزیں اُن کے دکھوں کا ازالہ کرتی ہیں۔

تین ماہ قبل عمر قید کاٹنے والی اماں نزیراں نامی قیدی کی خود کشی کی ایک چھوٹی سی خبر اخبار میں چھپی۔ چھپنے کی وجہ ان کی موت کے پیچھے کا راز تھا جو عوام کو معلوم نا ہوسکا۔ کیونکہ آلہ خودکشی برآمد نہی ہوسکا۔ **- اندر کی بات جب انکا پوسٹ مارٹم ہوا تو وجہ پوٹاشیم کلورائڈ کی بھاری مقدار انکے خون سے برآمد ہوئی۔ جب کے زہر کے ٹریسیس سیل میں موجود نہی تھے نا ہی انکے کپڑوں پر اسکی کوئی نشانی ملی۔

اماں نزیراں وہ عورت جس پر اسکے چار جوان بیٹوں اور شوہر کو نیند میں ذبح کرنے کا سنگین الزام تھا۔جبکہ وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی تھیں۔ جسکی بنا پر سزا میں نرمی برتی گئی اور انکو عمر قید کے ساتھ علاج فراہم کیا گیا۔ پورے عرصے میں اماں نزیراں اکیلے سیل میں رہیں ۔ اور ان سے کسی قسم کے وائیلنس کی کوئی رپورٹ نہی ملی۔

جس ماہ انکی موت ہوئی اس سے اگلے چار دن بعد اماں کی رہائی تھی۔شاید انکے اچھے رویوں کو دیکھ کر یا —— *- سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو عورت چار دن بعد چھوٹنے والی تھی اچانک اس نے خودکشی کیوں کی۔ *- اسکا کوئی ملاقاتی اتنے عرصے میں نہی آیا تو وہ زہر کس نے فراہم کیا۔ *- اگر اماں کو مرنا ہی تھا تو اپنی آخری خوراک جو جیل سے فراہم کی گئی تھی اس میں ہی زہر ملا کر کھانے کی کیا ضرورت تھی۔

ان باتوں کو لیکر کوئی ایکشن نہی لیا گیا اور لاش کو سپرد خاک کیا گیا۔ اپنے طور پر معلومات سے میں نے جانا کے اماں نزیراں ایک گھریلو خاتون تھی۔ پنجاب میں کافی زمینیں تھی۔ جن پر جھگڑا چل رہا تھا۔گو اسکے لئے کوئی عدالتی کاروائی عمل میں نہی لائی گئی تھی۔اماں کا ایک ہی دیور تھا جو قتل والی رات وہیں سورہا تھا۔ جسکو اماں نے اپنا سگا جناب مان کر چھوڑ دیا اور اپنے چار جوان بیٹوں اور میاں کو سوتے میں سفاکی سے ذبح کردیا

یہ کامن سینس پہ مبنی اوپن اینڈ شٹ کیس تھا——اور واقعی اوپن اینڈ شٹ کیس ہی ثابت ہوا جب دیور کی حلفیہ جھوٹی گواہی مرڈر ویپن پر اماں کے فرنگر ٹریسیس پائے گئے اور ڈیفنس کے نامکمل ہوم ورک کی بناء پر پبلک پراسیکؤٹر کے ہاتھوں کیس ہارجانے کا دکھ اور زلت اماں کو اٹھانا پڑا۔ معلومات کے مطابق اسکا دیور الطاف عرف مجو زمین گھر بیچ کر فرار ہے۔

لیکن یہ ساری باتیں ہمارے یہاں نظر انداز کرنا عوام اور قانون کا شیوہ ہے ہم بڑا دل رکھنے والی قوم ہیں۔ بھولا دیتے ہیں ۔ پھر چاہے وہ بے قصور و مظلوم اماں نزیراں ہوں یا اس جیسے ہزاروں مظلوم قیدی یا ہمارے بیمار سیاستدان جن کو اپنے ملک کے ڈاکٹرز اور ہاسپٹلز پہ بھروسہ نہی یا چاہے پنامہ لیکس——یا قطری لو لیٹر —ہم سب بھول جاتے ہیں۔اور بھول جائیں گے۔ ہم بہت بڑا دل رکھتے ہیں۔


2 Comments

Click here to post a comment