لکھاری لکھاری » بلاگ » لکھیں ضرور! مگر ؟- محمودفیاض

ad




ad




اشتہار




بلاگ

لکھیں ضرور! مگر ؟- محمودفیاض


15139801_1326630354037012_1053556377_n
کسی بھی معاملے کا جائزہ لینے کے لیے بہت سے پہلو ہوتے ہیں، اور یہ ایک لکھنے والے پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اپنے علم ، تجربات، مشاہدات اور تعصبات کی روشنی (یا تاریکی) میں کونسے پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ لکھنے والا چونکہ انسان ہوتا ہے (یا کم از کم لگتا ہے)، تو اس پر انسانی رویے، جذبات و احساسات کا بھی اثر رہتا ہے۔ کسی معاملے پر کوئی جذباتی تحریر پڑھ کر، کسی ویڈیو یا تصویر کو دیکھ کر ہم جن ہمدردی کے جذبات سے مغلوب ہوتے ہیں، انکی موجودگی یا اثر کے وقت کوئی تجزیاتی تحریر لکھنا آپ کی تحریر پر بھروسہ کرنے والوں پر زیادتی ہے۔

جذباتی تحریر، کسی موٹیویشنل اسپیکر کی تقریر کی طرح ہوتی ہے، وقتی طور پر بڑے بڑے الفاظ، چبھتے ہوئے جملے، جواب الجواب، لفظی شعبدہ گری اور مخالف نکتہ نظر رکھنے والوں کی زاتیات پر حملے بہت مزیدار لگتے ہیں، اور لوگ کہتے نظر آتے ہیں کہ واہ واہ ادھیڑ کر رکھ دیا، پھٹے اکھاڑ دیے، اور ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ۔ ۔ مگر جیسے ہی پڑھنے والا تحریر کے اثر سے نکلتا ہے، اس کے علم میں کچھ اضافے کی بجائے تعصبات کی ٹوکری کا بوجھ بڑھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

ایسے میں آپ جگت کو سراہنے والے قارئین تو اکٹھے کر لیتے ہو، مگر اپنے مسائل کے حل کے لیے سوچنے والا ذہن ہرگز نہیں۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جذباتی تحریریں پڑھ پڑھ کر آپ کے مرید ہوئے ذہنوں میں سے کوئی اس لفظی و جذباتی ساحری سے نجات حاصل کر لیتا ہے، اور عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے افراد اپنے لاشعور میں ایک عجیب طرح کا غصہ پال لیتے ہیں، جو شائد انکو اپنے وقت کے ضیاع اور عقلی دھوکہ کھانے کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے۔ وہ اسکا تجزیہ تو نہیں کر پاتے مگر آپ کی تذلیل سے تسکین ضرور حاصل کرتے ہیں۔

اس لیے مجھے اکثر نوجوانوں کو اپنے جذباتی استادوں کے ساتھ بدتمیزی پر دکھ تو ہوتا ہے مگر حیرت نہیں ہوتی۔ ۔ اگرچہ فیشن تو یہی ہے کہ حالات حاضرہ پر تجزیہ و تبصرہ کرنے کے لیے آپ کے پاس فیس بک کا اکاؤنٹ اور اردو سافٹ وئیر ہونا کافی و شافی ہے، مگر کچھ باتوں کا اگر خیال رکھ لیا جائے تو آپ ایک اچھی تحریر کو مزید اچھا بنا سکتے ہیں۔

۔ کسی بھی مسئلے پر لکھنے سے پہلے اگر آپ اس کے متعلق تازہ ترین صورتحال، دیگر ہم عصر لکھاریوں کی آراء اور دلائل، اس سے ملتے جلتے مسائل اگر دنیا میں کہیں اور موجود ہیں، اور انکا کوئی حل آزمایا جا چکا ہے، اور عالمی و تاریخی تناظر کے بارے میں آپ کی معلومات جس قدر زیادہ ہونگی، آپ کی تحریر اتنی ہی پر اثر اور مفید ہو گی۔ ۔ کسی بھی تحریر کی عزت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب آپ زیر نظر مسئلے سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں، اور مخالفین کے ایسے دلائل کو وزن بھی دیتے ہیں جو علمی و منطقی اعتبار سے اہم ہوتے ہیں۔

جو لکھاری محض اپنے رائے بیان کر کے نتیجہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی تحریر خودکلامی سے زیادہ اہمیت نہیں حاصل کر پاتی۔ ۔ لکھنا ضروری ہے، کہ یہ ابلاغ کی اولین موثر ترین شکل ہے جو آج بھی اتنی ہی اہم ہے جتنا یہ اپنے آغاز میں تھی۔ مگر لکھتے ہوئے اگر آپ اس زمہ داری کا خیال کرلیں جو ایک لفظ لکھنے والے پر اخلاقی طور پر عائد ہوتی ہے، تو یہ آپ کی تحریر کی توقیر کا باعث ہوگا۔ ۔ رب قلم آپ کو روانی فکر عطا فرمائے۔ آمین