لکھاری لکھاری » بلاگ » جہیزکے خطرناک نتائج–سلیم صدیقی پورنوی

ad




ad




اشتہار




بلاگ

جہیزکے خطرناک نتائج–سلیم صدیقی پورنوی


15151463_343449432680422_1200677961_n
بہت ساری غریب لڑکیاں بن بیاہی زندگی گزارنے مجبور ہوتی ہیں جب حالت ناگفتہ بہ ہوتی ہیں تو پھر وہ عفت و عصمت بیچنے کیلیے گھروں سے نکل جاتی ہیں ـ پھر دنیا اسے طوائف کہ کر گناہوں کی سمندر میں ڈوبنے کیلیے چھوڑ دیتی ہےـ لوگ انہیں طوائف کا طعنہ دے کر معاشرہ سے باہر کردیتے ہیں ـ مگر کوئی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ وہ طوائف بنی تو کیوں ؟ اپنا جسم بیچا تو کیوں؟ اس کے بارے میں لوگ سوچنے کی بھی زحمت نہیں کرتےـ چند سال قبل اک ٹی وی اینکر نے اس بات کا خلاصہ کیا تھا کہ ہمارے ملک میں طوائف خاندانی نہیں ہوتیں بالکہ جہیز کی لعنت ، والدین کی بیچارگی اور سسرال والوں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر ہی طوائف بنتی ہیں اور اپنے قیمتی زیور (عزت) کو سرعام بیچنے کیلیے سڑکوں پر اترجاتی ہیں ـ جہاں جہیز کی کثرت سے قتل جنین اور جسم فروشی کی بیماری پیدا ہوتی ہے وہیں کثرت جہیز کے سبب طلاق کی کثرت بھی ہوتی ہے ـ اور پھر صرف دو زندگیاں نہیں پورے دوخاندانوں کا چین و سکون ہمیشہ کیلیے ختم ہوجاتا ہے ـ مثل مشہور ہے اگر چھوٹی پھنسی کا بر وقت علاج نہ ہو اور اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کردیا جائے تو وہی چھوٹی سی پھنسی کبھی کینسر کی شکل اختیار کرکے جان لیوا ثابت ہوتی ہے ـ اسی طرح اگر جہیز کو معمولی برائی سمجھ کر نظر انداز کردیا جائے تو ایک دن معاشرے کیلیے یہی زخم ناسور بن جائے گی اور بنتی بھی جارہی ہے ـ اور یہ بھی حقیقت ہے اگر اک بیماری کا علاج نہ ہوتو اسی ایک سے سینکڑوں بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ـ جہیز کی وجہ سے بہت سی برائیوں کے ساتھ جنس پرستی کی وبا بھی تیزی سے پھیل رہی ہے ـ اور جہیز کا سد باب نہ کیا گیا تو ملک میں امریکی لعنت ہم جنس پرستی کی سرکاری چھوٹ ہوجائےگی ـ کیوں کہ لوگ جہیز کے ڈر سے بیٹیوں کو پیدا ہونے نہیں دیتے اور پھر نتیجۃً عورت کا تناسب مرد سے کم ہوتا جارہا ہےـ دوہزار سات کی رپورٹ کے مطابق ۱۰۰۰ ایک ہزار مردوں کے مقابلے میں ۹۰۰ نو سو لڑکیاں ہیں ـ اب آپ خود غور کیجیے صرف نو سو مردوں کی شادی ہوپائے گی اور سومرد یوں ہی کنوارے رہیں گےـ تو ہم جنس پرستی کی برائی کا پیدا ہونا فطری بات ہے…. اس لیے ہم میں سے ہر شخص کو جہیز کی روک تھام کرنے کیلیے میدان عمل میں آنا ہوگا