لکھاری لکھاری » کالم » وکلاء اور ججزکامعاملہ—ذیڈاے قریشی ایڈوکیٹ

ad




ad




اشتہار




کالم

وکلاء اور ججزکامعاملہ—ذیڈاے قریشی ایڈوکیٹ


15129897_343456152679750_348466919_n-1
“بطور ایڈووکیٹ ہمیشہ ایک ہی بات ذہن نشین رکھی کہ بار اور بنچ ایک دوسرے کا ”پارٹ اور پارسل“ ہوتے ہیں، اگر ان دونوں کے درمیان کوئی بھی رنجش آجاۓ، گویا کہ اُسکی بنیادی وجہ کوئی بھی ہو لیکن نقصان ہمیشہ نظام عدل سے منسلک تمام عناصر کا ہی ہوتا ہے خواہ وہ سائرین ہی کیوں نہ ہوں۔ کسی بھی ریاست کے تین بنیادی ستون ہوتے ہیں جن میں سے ایک نظام عدل ہوتا ہے، اس لیے اس بنیادی ستون کی عمارت سے منسلک وہ تمام عناصر ہی، جن کو یکجا کرکے نظام عدل سے انصاف کی توقعات رکھی جاتی ہیں، اگر ان عناصر میں کوئی چھوٹی سی بھی دراڑ آجاۓ تو پھر اُس سے ہمیشہ ہی معاشرتی نقصان کا خدشہ رہتا ہے۔ ایسے نظام کو نقصانات سے بچانے کیلئے بھی تمام محرکات کو اپنی ذمہ داریوں کا ادراک ہونا چاہیے، کیونکہ اگر کوئی بھی فرد یا لوگوں کا گروہ اپنے پسندیدہ مقاصد کے حصول کے لیے ضد پر اڑ جاۓ گا تو نقصان نظام عدل کا ہی ہوگا اور عوام کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچے گی، جس سے تمام لوگ جو بھی اس نظام کا حصہ ہیں، انھیں ناقابل تلافی نقصان بھگتنا پڑے گا، خواہ وہ قصور وار ہے یا نہیں، اس لیے تمام مسائل کا حل بات چیت سے ہی ہونا چاہیے بشرطیہ کہ کوئی قانونی پیچدگئیاں نہ ہوں۔ کافی عرصہ سے بار اور بنچ کے متعلق ایسی خبریں گشت کر رہیں تھیں کہ دونوں میں کئی معاملات پر اختلافات پاۓ جاتے ہیں۔ مثلاً ١. لاہور ہائیکورٹ کے مزید بنچ قائم کرنے کا مطالبہ اور ہائیکورٹ کا انکار۔ ٢. ہائیکورٹ کے ججز کی تعیناتی پر وکلاء کے تحفظات۔ ٣. اسلام آباد ھائیکورٹ میں غیرقانونی بھرتیوں پر سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ اور اُسکا نفاذ۔ پہلے دو مسائل تو کافی عرصہ سے چلے آرہے ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے کئی دفعہ مذاکرات بھی ہو چکے لیکن حل ابھی تک نہ ہوسکے اور ویسے بھی ان تمام مسائل کا حل، بات چیت سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ تیسری بات دراصل قانونی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جب سے سپریم کورٹ نے 26 اکتوبر کو فیصلہ سنایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں کی گئی تقریباً 74 لوگوں کی بھرتیاں غیر قانونی ہیں اور اُنکو فی الفور نو کریوں سے فارغ کیا جاۓ۔ میری ذاتی اور آسان فہم راۓ ہے کہ اگر کوئی غیرقانونی نوکری حاصل کرے تو وہ غلط (غیرقانونی) ہے تو پھر جو غیر قانونی بھرتی کرے گا اُسے بھی تو سزا ملنی چاہیے نا؟ اگر اس بات سے اتفاق کیا جاۓ تو سمجھ آتی ہے کہ سپریم کورٹ کے جناب جسٹس اقبال حمیدالرحمٰن صاحب نے استعفی دیکر یہ ثابت کیا کہ اُن میں اخلاقی جُرات اور وہ عدالت عظمیٰ کے ہر فیصلے کی تائید کرتے ہیں۔ تو پھر دوسری طرف جسٹس ”کانسی“ صاحب کو بھی اخلاقی جُرات کا مظاہرہ کرنا چاہیےتھا کیونکہ ان تمام تقریوں میں آپ بھی تو ملوث تھے لیکن ہر انسان کی اپنی اپنی سوچ اور فیصلوں کی صلاحیت بھی مختلف ہوتی ہے تو ہمیں سب کا ہی احترام کرنا چاہیے لیکن اُن کے ظرف کو ضرور مد نظر رکھنا چاہیے۔ برکیف جو کچھ دو دن قبل اسلام آباد ھائیکورٹ کی جنرل باڈی کے اجلاس میں ہوا، کہ ایک معزز جسٹس صاحب وکیلوں کے اجلاس میں تشریف لے آۓ اور صفائیاں دیتے رہے، اُسکی مثال دنیا کے کسی بھی کونے سے نہیں ملتی کیونکہ بار اور بنچ کے اپنے اپنے معاملات ہوتے ہیں اور کسی ایک کو دوسرے کے معاملے دخل اندازی کا حق نہیں ہوتا لیکن یہ تو اب ہوچکا ہے جناب۔ تو میں اب یہ سمجھتا ہوں کہ وکیلوں کا جسٹس کانسی صاحب سے استعفی کا مطالبہ درست ہوگیا ہے۔ کیونکہ جب تک یہ ماجرہ رونما نہیں ہوا تھا تو وکیلوں کے پاس بھی ایک قانونی حق تھا جسکا وہ استعمال بھی کررہے تھے کہ سپریم جوڈیشل فورم میں شکایت درج کروا چکے تھے، تو اُنھیں بھی اُسکے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا لیکن دوروز قبل والے واقع نے ثابت کردیا کہ دونوں اطراف سے ہی اس معاملے کے لیے آٶٹ آف دی وے جا کر حل تلاش کرنا چاہتی ہیں تو اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن معاملہ احسن طریقے کی بات چیت کے ذریعے سے حل ہونا چاہیے۔ میری اس سارے معاملے میں ایک ہی درخواست ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو اپنے اجلاس کی کاروائی جلد از جلد نمٹانی چاہیے، فیصلہ چاہے کسی کے بھی حق میں ہو لیکن تاخیر سے معاملات بہت آگے نکل جاتے ہیں اور نقصان کے خدشات بھی بڑھتے جاتے ہیں لیکن ہم عوام ہمیشہ عدل و انصاف کی فراہمی والے تمام اداروں کی ہی جیت چاہتے ہیں۔
زیڈ اے قریشی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، ویزٹنگ لیکچرار لاء، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد۔