لکھاری لکھاری » بلاگ » آئیں ہم "پاگل"بنیں—اسامہ بن نسیم کیانی

ad




ad




اشتہار




بلاگ

آئیں ہم "پاگل"بنیں—اسامہ بن نسیم کیانی


15094939_653277674846455_2474933605601746897_n-1

اکثرو بیشتر ہمیں دورانِ سفر شاہراؤں اور چوراہوں پر کچھ ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جنہیں عرفِ عام ” پاگل ” کے ”لقب” سے پکارا جاتا ہے ۔ لیکن کبھی کبھار ان لوگوں کی کچھ سرگرمیاں ہم جیسے عام انسان کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ ” کیا یہ واقعی پاگل ہیں ؟ ” مثلا” کہیں کوئی ” پاگل ” کچرا اُٹھا رہا ہوتا ہے ، کہیں کوئی کوڑا جلا کر ماحول سے ” سالڈ ویسٹ ” کو ختم کررہا ہوتا ہے ۔

گزشتہ دنوں میں ایک ” اعلیٰ تعلیم یافتہ” صاحب کے ساتھ ان کی گاڑی میں سفر کررہا تھا ، راستے میں ایک شخص نظر آیا جو شاید کسی نفسیاتی بیماری کا شکار تھا اور سڑک کے کنارے سے کچرا چُن رہا تھا ۔ وہ کہنے لگے ” اتنے غور سے کیا دیکھ رہے ہو ، یہ پاگل ہے ”۔ میں اسی سوچ میں گُم تھا کہ کچھ دیر بعد سگریٹ کی بدبو نے میری ناک کے نتھنوں کا رُخ کیا۔ اور پھر سگریٹ ختم کرکے انھوں نے ڈبیا سڑک پر پھینک دی ۔ اُن کی اس حرکت نے میرے ذہن میں سوالات کی ایک پٹاری کھول دی ۔

میں یہ سوچے جارہا تھا کہ پاگل کون ہے ؟ وہ جو دوسروں کا پھینکا ہوا گند اُٹھا کر ماحول کو صاف کرتا ہے ؟ یا وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کے منہ سے چھوڑا ہوا دھواں پاس بیٹھے لوگوں کو ناک بند کرنے پر مجبور کردیتا ہے ۔ وہ جو چلتے چلتے صاف ستھری شاہراہ کو گندا کرکے چلا جاتا ہے ؟ معاشرہ ایسے افراد سے بھرا پڑا ہے جو زمانے کی بھٹی میں پستے ہوئے اپنا دماغی توازن تو نہ برقرار رکھ پائے مگر پھر بھی یہ لوگوں اپنی سرگرمیوں سے ہم صحت مند انسانوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتے رہتے ہیں ۔ ہمارا معاشرہ زندگی کی ہر نعمت ، سہولت اور فطرت کی رنگینیوں سے لدا ہوا ہے مگر کمی ہے تو بس احساس کی ۔ بے حس صحت مند معاشرے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔

وقت کے ساتھ ساتھ سہولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ، لیکن ہماری بے حسی اور بے احتیاطی کے سبب امراض ، جرائم اور آلودگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ ضرورتِ وقت یہی ہے کہ پڑھے لکھے افراد آگے آئیں اور خود کو گندی سیاست و فرقہ واریت وغیرہ کی پُرخار وادیوں میں دھکیلنے کے بجائے معاشرتی ترقی اور شعور و آگہی پھیلانے کے لیے وقف کردیں ۔ اگر ایک شخص جو پوری طرح سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہے اور وہ سڑک سے کچرا اُٹھا کر اردگرد کے لوگوں کے لیے مثال بن سکتا ہے ، تو وہ لوگ جو تعلیم کے زیور سے آراستہ و پیراستہ ہیں وہ معاشرے کے لیے کتنی بڑی مثال قائم کرسکتے ہیں ۔

ہم نے تعلیم سے بہت کچھ پایا ہے مگر ایک چیز نہ پاسکے اور وہ ہے احساس ۔ لوگوں میں احساسِ ذمہ داری اُجاگر کرکے ہم معاشرے کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرسکتے ہیں ۔ اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے بعد ہی شہری حقوق کے حصول کی بات کرسکتے ہیں ۔ مختصرا” عرض ہے کہ اگر سڑکوں سے کچرا اُٹھا کر ٹھکانے پہ لگانا ، کوڑا کوڑے دان میں پھینکنا ، کُوڑے کو مناسب جگہ پر آگ جلا کر تلف کرنا ، اپنے عمل سے دوسروں کو ذمہ داری کا احساس دلانا ” پاگل پن ” ہے تو آئیے معاشرے میں کچھ پاگلوں کا اضافہ فرمائیں ۔ ایسے پاگل جو دوسروں کے دلوں میں احساس کی شمع جلا ڈالیں اور خود بھی شہری ذمہ داریوں کی ایمانداری سے ادائیگی کا تہیہ کرلیں ، تاکہ صاف ستھرے صحت مند معاشرے کا خواب پایہِ تکمیل کو پہنچ سکے ۔ تو پھر آئیں ہم بھی پاگل بنیں


About the author

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک لکھاری ڈاٹ کام

1 Comment

Click here to post a comment