چیچنیا اور کریملن ایک راہ پر—-Vadim Dubnov


اپنی حیثیت برقرار رکھنے کی رمضان قادروف کی بھرپور کوشش کے باوجود ماسکو اور چیچنیا کے درمیان پرانے اطوار کے ساتھ کام کرنے کی روایت دم توڑتی جارہی ہے۔ اب فریقین نے ایک نیا معاہدہ کرلیا ہے۔ بیس سال پہلے کے اور آج کے چیچنیا میں بہت فرق ہے۔ تب سب کچھ تباہ ہوچکا تھا۔ ہر طرف تباہی کے آثار نمایاں تھے۔ آج چیچنیا مفاہمت کی راہ پر گامزن ہے۔ یہ سب کچھ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اور موجودہ چیچن لیڈر رمضان قادروف کے والد احمد قادروف کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا نتیجہ ہے۔ ۲۰۰۰ء کے بعد سے چیچنیا اور روس کے درمیان معاہدے پر عمل سے بہت کچھ تبدیل ہوا ہے۔ چیچنیا میں تعمیر و ترقی کا کام بھی بے مثال رفتار سے ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چیچنیا اب بھی بہت حد تک ماسکو کی طفیلی ریاست معلوم ہوتی ہے۔ پہلے سے طے کردہ شرائط کے مطابق کام کرتے رہنے پر چیچن قائدین کو ڈیڑھ عشرے کے دوران ماسکو سے غیر معمولی مراعات دی جاتی رہیں۔

ماسکو اور چیچنیا کے درمیان معاہدہ غیر تحریری ہے مگر پھر بھی ۱۶ برس کے دوران یہ معاہدہ ہر طرح کے حالات کا سامنا کرتا آیا ہے۔ ۲۰۰۴ء میں احمد قادروف کا قتل بھی اس پر زیادہ اثر انداز نہ ہوسکا۔ اور پھر رمضان قادروف نے ۲۰۰۷ء میں اقتدار سنبھالا۔ اس دوران چیچنیا میں چند ایک قوتوں نے ماسکو سے معاہدے کی شدید مخالفت بھی کی ہے اور اس کے نتیجے میں ریاست کے طول و عرض میں اچھی خاصی کشیدگی بھی رہی ہے۔

رمضان قادروف نے ستمبر ۲۰۱۶ء میں تقریباً ۹۸ فیصد ووٹروں کی تائید سے ایک بار پھر چیچنیا کے قائد کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ کریملن کے پالیسی ساز چیچنیا سے تعلق رمضان قادروف کی شرائط پر نہیں چاہتے۔ خطے میں اپنی پوزیشن کو خطرات لاحق ہونے کے خوف سے ولادیمیر پوٹن نے چیچنیا سے معاہدے پر نظر ثانی کی ہے اور اس بار اپنی شرائط کو اولیت دی ہے۔

پہلا معاہدہ

عام تاثر یہ ہے کہ چیچنیا کے مسئلے نے روس کی طرف سے ۱۹۹۰ء میں متعارف کرائی جانے والی وفاق کی تحریک کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ تاتارستان کی مثال واضح ہے۔ اس نے رشین فیڈریشن سسٹم کو قبول کیا تو اسے وسیع تر خود مختاری ملی۔ چیچنیا نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا۔ اس کے نتیجے میں تصادم کی کیفیت پیدا ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ چیچنیا کی قیادت اب تک یہ فیصلہ نہیں کرسکی کہ بدلتی ہوئی صورت حال میں کیا کرنا ہے، کون سا ماڈل اپنانا ہے۔ ایک طرف تو چیچنیا کے قائدین تاتارستان کے ماڈل کا ایک خاص تناظر میں حوالہ دیتے ہیں اور دوسری طرف وہ چاہتے ہیں کہ چیچنیا مکمل خودمختاری سے ہمکنار ہو۔ کبھی اس امر پر زور دیا جاتا ہے کہ چیچنیا کو ایسی آزادی دی جائے جس میں سیاست اور معیشت پر اشرافیہ کا کنٹرول ہو۔ چیچنیا میں اب تک دو جنگیں لڑی جاچکی ہیں اور دونوں ہی جنگوں کے نتیجے میں چیچنیا کو کچھ حاصل نہیں ہوسکا۔ چیچن قائدین ماسکو سے مکمل آزادی کا مطالبہ کرتے آئے ہیں مگر معاملات وہیں کے وہیں ہیں۔

۲۰۰۰ء میں احمد قادروف کا چیچن لیڈر بنایا جانا دراصل روس کی چیچنائزیشن پالیسی کا تسلسل تھا۔ کریملن چاہتا تھا کہ علاقائی قائدین کو ان کے ہم نسل حریفوں سے متصادم کیا جائے۔ نومبر ۱۹۹۴ء میں چیچنیا کی پہلی جنگ کے موقع پر کریملن نے اس وقت کے چیچن سربراہ زوخار دودائیف کے مقابل اپوزیشن فورسز کو متحرک کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ یہ تجربہ ناکام ہونے پر ماسکو نے اپنی پسند کے چند چیچن لیڈروں پر مشتمل حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔ پہلے مرحلے میں سلام بیگ خازیئیف کو وزیراعظم بنایا گیا۔ یہ سلسلہ چند ہی ماہ چلا۔ پھر ماسکو نے دوکو زوگائیف کو وزیراعظم مقرر کیا۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ سلام بیگ خازیئیف اور دوکو زوگائیف میں سے کسی کا بھی اختیار دارالحکومت گروزنی سے باہر کچھ نہیں تھا۔ ماسکو نے چیچنیا کے مسئلے کا حل قدیم نوآبادیاتی انداز سے تلاش کرنے کی کوشش کی، جو بری طرح ناکام رہی۔

ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تاتارستان کو تو اہمیت دی جاتی رہی مگر روسی قیادت نے چیچنیا کو کبھی وفاقی سطح کا بڑا مسئلہ سمجھنے کی زحمت گوارا نہ کی۔ بورس یلسن کے دور میں اور اس کے بعد ولادیمیر پوٹن کے ابتدائی دور میں چیچنیا کو خاطر خواہ اہمیت دینے سے گریز کیا جاتا رہا۔ چیچنیا کو روس کا باضابطہ حصہ بنانے اور اس کے حقوق دینے کے بجائے اس بات کو اہمیت دی گئی کہ نو آبادیاتی دور کے طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے چیچن قائدین کو آپس میں لڑایا جاتا رہے۔ اس کے نتیجے میں قتل و غارت ہوئی اور نتیجہ روس مخالف رجحانات کی شکل میں برآمد ہوا۔ چیچنیا میں لڑی جانے والی دو جنگوں کے دوران ماسکو نے جلتی پر تیل چھڑکنے کا عمل جاری رکھا مگر یہ سب کچھ اسی کے خلاف گیا۔ ایک طرف تو چیچن اشرافیہ بری طرح منقسم ہوکر رہ گئی۔ آپس کی لڑائی نے شدت پکڑی تو پورا خطہ تباہی سے دوچار ہوا۔ ایسے میں روس کے خلاف جذبات کا ابھرنا حیرت انگیز نہ تھا۔ روس چاہتا تھا کہ چیچن صفوں سے اس کے لیے اتحادی ابھریں مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ کریملن کی پالیسیوں پر چیچن اشرافیہ کو زیادہ بھروسہ نہ تھا۔ چیچن قائدین اچھی طرح جانتے تھے کہ چیچنیا کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی خرابی ماسکو کی پیدا کردہ ہے۔ ماسکو کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ چیچنیا میں ایک گروپ کو دوسرے سے لڑایا جائے۔ اسی پالیسی کو بنیاد بناکر پہلے احمد قادروف اور پھر اس کے بیٹے رمضان قادروف سے دوستی، مفاہمت اور اشتراکِ عمل کا معاہدہ کیا گیا۔

چیچنیا کی پہلی جنگ تو خرابیوں میں ختم ہوئی۔ دوسری جنگ کے آخری دور میں ماسکو کے لیے کچھ امید پیدا ہوئی۔ ماسکو کے پالیسی سازوں کی اولین ترجیح یہ تھی کہ چیچن صفوں سے ایک ایسی فورس ابھرے جو اس کی ہم نوا ہو اور روسی سیکیورٹی فورسز کے لیے اہم معاون کے طور پر خدمات انجام دے۔

ماسکو نے چیچنیا میں علیحدگی پسند لیڈر شامل بسائیف سے الگ ہو جانے والے یمدائیف برادران کو دائرۂ اثر میں لانے کو ترجیح دی۔ رسلان، زبریل اور سلیم یمدائیف کا گودرمیز کے کوہستانی علاقوں میں غیر معمولی اثر و رسوخ تھا۔ ان کے تجربے کو دیکھتے ہوئے ماسکو نے اس بات کو ترجیح دی کہ ان کے ذریعے اپنے مفادات کو زیادہ سے زیادہ مستحکم کیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چیچنیا میں بہت سے جنگجو روسی افواج کے خلاف بھی لڑتے رہے تھے مگر یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی تھی کہ ان میں سے بیشتر قازقستان میں پیدا ہوئے تھے، جو سوویت دور میں بالجبر ایک بڑے اتحاد کا حصہ بنایا گیا تھا۔

یمدائیف برادران نے احمد قادروف کو اپنے والد کے معاون کے روپ میں دیکھا۔ وہ صورت حال کو یوں لیتے تھے جیسے ایک کمزور سیاسی رہنما سے کوئی طاقتور قبیلہ اپنے معاملات طے کرتا ہے۔ اگر ماسکو نے احمد قادروف کو عسکری سطح پر مدد فراہم نہ کی ہوتی تو اس کے لیے بھی بہتر انداز سے آگے بڑھنا ممکن نہ ہوا ہوتا اور وہ چیچنیا پر اپنا اقتدار قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوا ہوتا۔ ایسی صورت میں چیچنیا میں کئی بحران ایک ساتھ پیدا ہو جاتے اور ماسکو کے لیے معاملات کو کنٹرول کرنا پھر مزید دشوار ہو جاتا۔ احمد قادروف کو ماسکو سے بھرپور مدد نہ ملی ہوتی تو اس کی جگہ مذہبی رجحانات رکھنے والا کوئی ایسا رہنما اقتدار پر قابض ہو جاتا جو انتہا پسندی کو بہترین طریق کے طور پر اپناتا اور اپنی حکمرانی کو طول دیتا رہتا۔

دو جنگوں کے درمیانی وقفے میں چیچنیا تباہ شدہ حالت میں تھا مگر پھر بھی کسی نہ کسی حد تک سکون رہا۔ اسلان مسخدوف اور ان کے ساتھیوں کی کاوشوں سے معاملات کسی حد تک قابو میں رہے۔ اغواء برائے تاوان اور دیگر جرائم بھی رونما ہوتے رہے مگر پھر بھی کہا جاسکتا ہے کہ معاملات بہت خراب نہ تھے۔ اس کے بعد احمد قادروف کے بیٹے رمضان قادروف نے ماسکو کے تعاون سے اقتدار سنبھالا تو قدرے استحکام پیدا ہوا۔ اور ایسا دکھائی دینے لگا جیسے چیچنیا کی گاڑی دوبارہ راہِ راست پر آگئی ہے۔ روس نے احمد قادروف سے جو معاہدہ کیا تھا وہ اب اپنی وقعت سے محروم ہوچکا تھا کیونکہ حالات اور معاملات بھی بہت حد تک بدل گئے تھے۔ یہی سبب ہے کہ رمضان قادروف سے ماسکو نے نیا معاہدہ کیا۔

رمضان قادرف کی اپروچ

رمضان قادرف چیچنیا کے لیڈر کی حیثیت سے تیزی کے ساتھ اپنی اتھارٹی منوانے میں اس لیے کامیاب نہ ہوئے کہ ماسکو نے انہیں بالکل اسی طرح اتھارٹی نہیں دی، جس طور بیلاروس کے لیڈر الیگزینڈر لوکاشینکو کو دی گئی تھی۔ انسانی حقوق کے علم برداروں نے رمضان قادرف کے ارادوں سے ابتدا ہی میں خبردار کرنا شروع کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی دانشوری کی سطح پر نہیں آیا بلکہ اس کے واضح سیاسی عزائم ہیں۔

رمضان قادروف نے اس حقیقت کو کبھی نہیں چھپایا کہ اس نے کبھی روسی افواج کے خلاف بھی ہتھیار اٹھائے تھے۔ اس نے کئی بار یہ بات کھل کر بیان کی ہے کہ زوخار دودائیف نے جب چیچنیا کے نوجوانوں کو آزای اور خود مختاری کے لیے ہتھیار اٹھانے کی تحریک دی تب اس نے بھی ہتھیار اٹھائے۔ اس نے ۱۶ سال کی عمر میں چینچیا کی پہلی جنگ میں روسی افواج کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ مگر یہ کہ بعد میں جب اندازہ ہوا کہ روس کے ساتھ پرامن رہے بغیر بقا ممکن نہیں تب انہوں نے ہتھیار پھینک دیے۔ چیچنیا میں اب بھی بہت سے نوجوان آزادی کا خواب دیکھتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ان کی سرزمین آزاد حالت میں جیے۔ مگر رمضان قادروف کے ذہن میں کوئی شک یا شبہ نہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ روس کے ساتھ مل کر چلا جائے۔ نظریات وغیرہ کو اب بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔ پرامن بقائے باہمی کے نام پر اقتدار کو برقرار رکھنا اب اولین ترجیح ہے۔

نظریات کو خدا حافظ

ایک زمانہ تھا کہ اسلام کو زندگی کے ہر شعبے میں اطلاق پذیر کرنے کی خواہش نے چیچنیا کو آزاد کرانے کی تحریک شروع کروائی تھی۔ اب ایسا نہیں رہا۔ اسلام کو زندگی کے ہر شعبے پر محیط دیکھنے والے اب بھی ہیں مگر خاصی کم تعداد میں۔ چیچنیا کی سرزمین کو نظریات سے مبرّیٰ کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ رمضان قادروف اور ان کی قبیل کے دیگر افراد یہ نہیں چاہتے کہ کسی بھی نظریے کو بنیاد بناکر روس سے مزید لڑائی مول لی جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ریاست قدرے خود مختار رہے اور روس کی تابعداری قبول کرلے۔ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں چیچنیا میں آزادی کی جو لہر اٹھی تھی وہ کسی بھی اعتبار سے آزادی کی حقیقی خواہش کا مظہر نہ تھی بلکہ بہت حد تک سوویت یونین کی شکست و ریخت کا نتیجہ تھی۔ جب روسی افواج چیچنیا کے طول و عرض میں جمع ہونے لگیں تب چیچن نوجوانوں نے ہتھیار اٹھائے مگر یہ ہتھیار آزادی کے حصول کی خاطر نہ تھے بلکہ روسی افواج کا قبضہ روکنے کی خاطر تھے۔ پھر جب لڑائی نے زور پکڑا تو چیچنیا کے طول و عرض میں قومی آزادی کی لہر اٹھی اور اس کے نتیجے میں روسی افواج کے خلاف ایک باضابطہ جنگ شروع ہوئی۔

ابتدائی دور میں روسی افواج کے خلاف مزاحمت زیر زمین تھی۔ سب کچھ خفیہ طور پر ہوتا رہا۔ چیچنیا کے بہت سے نوجوان اپنی ریاست کو کسی بھی بیرونی قوت کے تصرف میں دیکھنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ جب باضابطہ مسلح جدوجہد شروع ہوئی تو بہت سے نوجوان تیزی سے اس کا حصہ بنتے گئے۔ ابتدائی دور میں مقاصد کچھ اور تھے۔ بہت سے سماجی اور علاقائی مسائل تھے مگر بعد میں یہ تمام مسائل پیچھے رہ گئے اور ایک اسلامی ریاست کا قیام مقصد بن کر دل و دماغ میں سماگیا۔ مگر خیر، یہ جوش و جذبہ زیادہ برقرار نہ رہ سکا۔ نظریاتی سطح پر زیادہ مدد مل سکی نہ عسکری پیمانے پر۔

ایسا نہیں ہے کہ چیچنیا کے عوام صرف لڑائی چاہتے تھے اور روسی افواج کے خلاف مزاحمت ہی کو زندگی کا سب سے بڑا مقصد سمجھتے تھے۔ بیشتر چیچن باشندے زیادہ سے زیادہ شخصی آزادی کے طالب تھے اور ان میں سے بیشتر نے اس وقت سکون کا سانس لیا جب احمد قادروف کے زمانے میں لڑائی بند ہوئی۔ وہ جانتے تھے کہ احمد قادروف کوئی آئیڈیل شخصیت نہیں اور اس کے دور میں ریاست کے تمام مسائل حل نہیں ہوجائیں گے مگر وہ چاہتے تھے کہ جنگ و جدل سے جان چھوٹے اور نارمل زندگی کی طرف جانے کی راہ ہموار ہو۔ اس کے بعد وہ مرحلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔ چیچنیا میں قوم پرست تحریک تھی جو آزادی کی بات کر رہی تھی اور دوسری طرف روسی حب الوطنی تھی۔ ایک وسیع تر وفاق میں رہتے ہوئے حب الوطنی کا جذبہ بیدار کرنے پر زور دیا جارہا تھا۔ اور یہ بھی فطری امر تھا۔ رشین فیڈریشن چاہتی ہے کہ جو بھی اس کے دائرے میں ہو وہ وطن سے محبت کی بات کرے، نظریات کی نہیں۔ نظریات کو ایک خاص حد تک قبول کیا جاسکتا ہے مگر وطن سے محبت سب پر مقدم ہے۔ اب کیفیت یہ ہے کہ اسلام بھی رشین آرتھوڈوکس چرچ کے ماتحت آگیا ہے یعنی چیچنیا اور تاتارستان کے باشندوں نے اسلام پسندی پر حب الوطنی کو ترجیح دے دی ہے۔

رمضان قادروف نے دو ایسی نسلیں دیکھی تھیں، جو روس کے خلاف لڑچکی تھیں۔ اس نے ایسا قائدانہ انداز اختیار کیا جو بھرپور قوت کا حامل تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ چیچنیا میں جنگ پسندی کا رجحان ختم ہوجائے۔ دوسری طرف کریملن نے بھی رمضان قادروف کی بھرپور مدد کی۔ کریملن چاہتا تھا کہ چیچنیا میں امن ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے۔ وہ اس کی کوئی بھی قیمت دینے کو تیار تھا اور دی۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *