برکتوں اور سعادتوں کا مہینہ—اعزازاحمدکیانی


14681840_2171894652930806_4952095295185623106_n
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں۔۔اقبالؒ
ماہ ربیع الاول کے آتے ہی ہمارے ہاں بازار، سڑکیں، چوک، چوراہے، گلیاں،عمارتیں، دوکانیں اور مکان سجنا شروع ہو جاتے ہیں۔ چاروں اور رنگین بتیوں اور برقی قمقوں کی سجاوٹ کی جاتی ہے ،سڑکوں اور عمارتوں کے دونوں اطراف بس روشنی ہی روشنی نظر آتی ہے۔
ماہ ربیع الاول یقیناَ برکتوں اور سعادتوں والا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اور خصوصاَ 12 ربیع الاول کو حبیب کبریا، محبوب رب تعالیٰ، امام الانبیاء، خاتم المرسلین، سراج الرسل، وجہ کائنات،شافع محشر، خیر البشر،ہادی اعظم، مدبر اعظم، کامل العلم، معلم اعظم جناب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو تشریف لائے۔ آپ ﷺ تشریف لائے تو ایران کے آتشکدے ٹھنڈے پڑھ گئے، کعبے کے بت اوندے منہ کر پڑے، دنیا سے جہالت کے اندھیرے، ظلمت کے بادل، درندگی کی روایات ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئیں، غرضیکہ آپ کے آنے سے ایک نیا عہد شروع ہوا اور ایک پورا عہد، عہد جہالت رخصت ہوا۔اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت (رحمت العالمین) بنا کر بھیجا ہے۔ آپ کے وجود کو مسلمانوں پر اپنا احسان عظیم قرار دیا اور ہم پر احسان عظیم یہ کیا کے ہم ناچیزوں کو محمد مصطفیٰ ﷺ کا امتی کر دیا جسکی خواہش نبی خدا حضرت موسیٰؑ کے دل میں بھی تھی۔
آپ ﷺ سے محبت داخل از ایمان ہے اور آپ سے عداوت اور بغض خارج از اسلام ہے۔آپ کی محبت ہر مسلمان پر فرض کر دی گئی ہے اور اس محبت کا لازمی نتیجہ یہ کے آپکی اطاعت کی جائے آپ کی ہر بات کومن و عن تسلیم کیا جائے اس حقیت کو اللہ نے اپنے قرآن میں یوں بیان کیا ہے:
جس نے میری اطاعت کی گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی
اور فرمایا کہ:
قسم ہے تیرے رب کی یہ ایماندار نہیں ہو سکتے جب تک کے آپس کے تمام اختلافات میں تجھے ہی حاکم نہ مان لیں (نساء)
اور نبی پاک ﷺ نے فرمایا تم اس وقت تک ایمان دار نہیں ہو سکتے جب تک مجھے تمام دنیا کی چیزوں سے زیادہ محبوب نہ بنا لوں یہاں تک کے ماں باپ او ر اولاد سے بھی زیادہ۔چنانچہ اسی لیے جب ہم اصحاب پاک کی زندگیاں دیکھتے ہیں اور اصحاب پاک کی آپ جناب محمد ﷺ سے گفتگو دیکھتے ہیں تو اصحاب پاک کا انداز تکلم یوں ہوتا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں۔آپ ﷺ نے مزید فرمایا کے تین خصلیتین ایسی ہیں جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا اور جناب امام بخاری ؒ نے پہلی خصلت اللہ اور اسکے رسولﷺ کی محبت نقل کی ہے۔
جیسا کے پہلے عرض کیا جا چکا ہے کے آپﷺ سے محبت اور عشق ہر مسلمان پر لازم ہے جس نے آپ سے محبت نہیں کی اسے اسکے اعمال کچھ نفع نہیں دیں گے اور جس نے آپ ﷺ سے محبت کی اسکے لیے اسکے کم اعمال بھی خوب خوب فائدہ مند ہوں گے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپﷺ سے محبت کس طرح کی جائے؟ کیا موجودہ انداز محبت درست ہے؟
اس سے پہلے کے میں اپنی رائے دوں بہتر ہے ابتدا رب جلیل کے پاک کلام سے کی جائے اللہ فرماتا ہے
(کہہ دو) اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری اطاعت کرو وہ اللہ تم سے محبت کرے گا (القران)
میرے رب نے اس آیت میں اپنے محبوب محمد ﷺ سے محبت کے انداز کا پورا بیان کر دیا۔
آپ ﷺ سے محبت کا بہترین انداز سوائے اسکے اور کوئی ہو نہیں سکتا کے آپکی اطاعت کی جائے جو رب تعالیٰ کا حکم بھی ہے، آپکی شریعت پر عمل کیا جائے، آپ کی سنتوں پر عمل کیا جائے، آپکی سنتوں کو زندہ کیا جائے، جن کے بارے میں اس کامل ہستی ﷺجس کی محبت اور عشق کے آج ہم دعوے دار ہیں نے کہا کے جو ایک سنت زندہ کرے گا اسے 70 شہیدوں کو سواب ملے گا، اور سب سے بڑھ کر یہ کے آپکے دین اسلام کو اپنے آپ، اپنے گھر اور اپنے دائرہ اختیار میں مکمل نافذ کیا جائے اس سے بڑھ کر بہترین انداز محبت اور کوئی نہیں ہو سکتا۔
12 ربیع الاول کی نسبت سے اگر کوئی محفل میلاد منعقد کرتا ہے، سیرت کی کانفرنس کا انعقاد کرتا ہے یا ایسا ہی کوئی اور کار خیر کرتا ہے تو اس میں نہ کچھ برا ہے اور نہ کوئی چیز باعث تعجب ہے۔ ایسی محفلیں جہاں اللہ اور اسکے رسولﷺ کا ذکر ہو، جہاں آپ ﷺ کی نعت، جہاں خدا تعا لیٰ کی حمد بیان کی جائے،جہاں نبی آخر زماں پر درود و سلام بھیجا جائے،جو کے خود اللہ اور اسکے فرشتے بھی بھجتے ہیں ان محافلوں میں اللہ کے فرشتے اترتے ہیں ان محفلوں اور ان علمی اجتماعت کو اللہ کے نبیﷺ نے جنت کی کیاریاں کہا ہے۔
لیکن یادر رہے کے ان اجتماعت کا اور ان محافل کا پہلا مقصد اصلاح احوال، نفاذاسلام،اطاعت الہی اور اطاعت مصطفیٰﷺ ہونا چاہئیے۔ اور دوم یہ کہ ان محافل اور اجتماعت کے لیے وقت، دن اور ایام کی کوئی قید نہیں ہے۔
مگر ایک بات جس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے وہ یہ برقی قمقمے، رنگین لائیٹس وغیرہ ہیں۔
بھلا یہ کون سا انداز ہے محبت کا،؟بھلا اس سیایمان کی تازگی کیوں کر ممکن ہے،؟اس سے کیسے تربیت ممکن ہو سکتی ہے؟ بھلا ان قمقوں میں ایسی کون سی تاثیر ہے جو اظہار محبت کا ذریعہ بنایا جا رہہا ہے؟آخر وکون سی ایسی پوشیدہ حکمت ہے ان برقی قمقوں میں؟ کیا اس سجاوٹ اور آرائش سے دین کی خدمت ہو سکتی ہےَ؟کیا محب اور عاشق ہونا اتنا آسان ہے؟ کیا وہ وفا جس سے لوح و قلم ہاتھ آہ جاتے ہیں اس ہلکی سی کوشش سے ممکن ہے؟ کیا دہر میں اسم محمد سے اجالا محض ان مصنوعی روشنیوں سے ہو جائے گا؟ کیا یہ رنگینیاں اللہ کے اس فرمان کے اپنے رب کی نعمتوں کا چرچا کرو کی کی عملی اور صیحح صورت ہے؟
اگر تمام جوابات نفی میں ہیں تو انداز محبت پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ یہ تمام چیزیں محض اسراف ہیں، ان کا اسلام سے نہ کوئی ظاہری تعلق ہے نہ کوئی باطنی تعلق۔
12 ربیع الاول کو نئے کپڑے سلوانا اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور نہ یہ کوئی انداز محبت ہے اس کی نہ کوئی مثال اسلاف میں ملتی ہے اور نہ دور حاضر میں کوئی تاویل اسے درست ثابت کر سکتی ہے۔اسلام مہنگا دین نہیں ہے اسلام عدل کا اور میانہ روی کا درس دیتا ہے۔ لہذا ہمیں چاہئیے کہ اسلام کی اصل روح کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔
قریب میں اگر کوئی محفل ہے تو اس میں بھلا جایا جائے اگر ممکن ہے ،بلکہ کوشش بھی کی جائے،اگر ممکن نہیں ہے تو خود ہی بنی پاکﷺ پر درود و سلام بھیجیں جس قدر ہو سکے یہ بہترین انداز محبت ہے۔ محفلوں میں جاتے ہیں تو اپنا احتساب کریں آیا ہم اس ذات جس سے ہم عشق کے دعویدار ہیں کی سنتوں پر کتنا عمل کرتے ہیں اور اسلام سے ہمیں کتنی محبت کرتے ہیں؟ اور یہ سب امور بھی فقط ربیع الاول سے خاص نہیں ہیں بلکل یہ وہ مستقل امور ہیں جو وقت کی قید سے مطلق آزاد ہیں۔
خدا تعالیٰ ہمیں صیح معنوں میں آپ ﷺ سے محبت و عشق کی توفیق دے اور آخرت میں ہمارے حصے میں آپکی شفاعت اور قرب لکھ دے۔ امین۔
تو اے مولا یثربؐ آپ میری چارہ سازی کر
میری دانش ہے افرنگی ،میرا ایمان ہے زناری (اقبالؒ )


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *