​:نگاہ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر:–ظفراللہ



رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (ہماری جانیں حضورؐپرقربان ہوں)اخلاق میں،حسن وجمال میں،شجاعت وسخاوت اور دوسری تمام انسانی خوبیوں میں حضورﷺ سب سے افضل اور اعلی اور سب سے بڑھ چڑھ کرتھے،وہ عظمت انسانی کا مینارہ ہیں۔محسن انسانیت ہیں،وجہہ تخلیق کائینات ہیں۔تاریخ انسانی میں آج تک حضورﷺ جیسی کامل الاکمال اور نمونہ عمل ہستی نہ آئی ہے نہ آئے گی

بلاشبہ اللہ رب العلمین نے دونوں جہاں میں کامیابی کی ضمانت حضور اکرم ص کے اسوہ حسنہ کی پیروی میں رکھی ہے۔اس کے لئے اللہ نے قرآن مجید میں مختلف انداز سے اہل ایمان کو نبی کریم ص کے طریق زندگی پر عمل کرنے کی خصوصی تاکید بھی کی ہے۔اوریہ ایک ایسی واحد کسوٹی مقرر کی گئی ہے جس پر کامیابی اور ناکامی ماپا جائے گا۔جو اس اسوہ پر عمل کرے گا وہ سرخرو ٹھیرے گا اور جو روگردانی اختیار کرے گا ناکامی اس کا مقدر ٹھیرے گی۔اللہ رب العلمین نے قرآن مجید میں جس طریق زندگی کو اپنی پسند قرار دیا ہے وہ دین اسلام ہے۔فرمایا؛بے شک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے؛اور پھر دوسری جگہ اسوہ حسنہ کو اس طریق زندگی کا نچوڑ بتایا ہے۔نبی اکرم ص کی پوری زندگی اس آیت مبارکہ کا پرتو ہے لہذا اللہ رب العزت نے حضور ؐ کی سیرت طیبہ کا تعارف کراتے ہوئے مؤمنوں کے لئے واحد مثال قرار دہا ہے جس پر عمل کرنے کے لئے کسی بھی طرح کے زمان ومکان کی قید نہیں رکھی گئی ہے۔یہ ایک ایسی سیرت ہے جس کی اہمیت ہر زمانے میں اہم رہی ہے اور آج تو اس کی اہمیت مزید دوگنی ہوگئی ہے قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے۔

                                                            ؛بے شک تمہارے لئے نبی کریم ؐ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے؛

یقینّا عالمگیر اور دائمی نمونہ عمل صرف محمد رسول اللہ ؐ کی سیرت طیبہ ہے۔چونکہ آپ ؐ پر نبوت کا خاتمہ ہوچکاہے اس لئے آپ کی تعلیم دائمی وجود رکھنے والی تھی۔یعنی قیامت تک اس کو زندہ رھنا تھا۔اس لئے آپ کی ذات پاک کو مجموعہء کمال اور دولت بے زوال بنا کر بھیجا گیا،یہ امت مسلمہ پر اللہ کا احسان عظیم ہے۔مگر بدقسمتی دیکھ لیں وہ امت مسلمہ جو حامل قرآن ہے جس کے پاس اسوہ حسنہ کی صورت میں ایک بہترین شاہراہ موجود ہے جس کو باقاعدہ ایک فریم ورک بنا کردیا گیا ہے وہ آج گومگو کی کیفیت سے دوچارہے اور خود کو جہالت کے اندھیروں کی نذر کئے رکھی ہے اور مختلف نظام زندگی میں اپنی نجات ڈھونڈ رہی ہے۔آج یہ سوال ہم میں سے ہر شخص کیلئے اور دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے ایک پریشان کن گھتی بنی ہوئی ہے۔کہ آخر ہم مسلمانوں کی زندگی سے امن چین کیوں رخصت ہوگیا؟کیوں آئے دن ہم پر مصیبتیں نازل ہورہی ہیں؟ کیوں ہماری زندگی کی کل بگڑ گئی ہے؟کیوں تنزلی کا دور دورہ ہے؟ہم کیوں آپس میں دست وگریبان ہیں؟

ان سب کا ایک ہی جواب ہے ہمیں نبی اکرم ؐ کی سیرت طیبہ کی طرف فی الفور پلٹ کر آنا ہوگا۔اس کے بغیر ہمارے پاس اور کوئی چارہ بچتا بھی نہیں۔  یاد رکھیں اس میں ہم جتنی دیر کریں گے کسی بھی طرح کی شیرازہ بندی ہمارے لئے ناممکن ہے۔ سیرت رسول ﷺ کی روشنی میں ہمیں یہ طے کرنا پڑے گا کہ آیا ہمیں اس امت کو ایک باعمل امت بنانی ہے یا صرف زبانی جمع خرچ کرنے والی امت۔عشق رسول ؐ کے اس جذبے کو بجائے یہ کہ افیون بنایا جائے اور اس کو بھنگروں،کیک کھانے کی نذر کی جائے اس جذبے کو عمل کا محرک بنانا ہوگا۔لوگوں کو اسوہ حسنہ کے حقیقی مفہوم سے آشنا کرنا ہوگا۔اوریہ ایسی کوئی چیستان بھی نہیں ہے جو سمجھ میں نہ آسکے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ابلاغی سطح پر لوگوں کی ذھنی تربیت اس خطوط پر کرنے کا اہتمام ہونا چاھئیے جس کی نشان دہی سیرت طیبہ میں کی گئی ہے اور سیرت طیبہ کے ہر پہلو کو اجاگر کرنا چاھئیے تاکہ زندگی کے اس کینوس میں سیرت طیبہ کے خوشنما رنگ بکھرجائیں۔

یونانی فلسفہ کے شیدائیوں،کنفیوشس اور مانی کی تعلیم کے عاسق زاروں،کمیونزم اور سیکولرازم کے دیوانوں سے کیا گلہ،یہاں عظیم المیہ یہ رہاہے کہ مذھبی طبقہ نے فرقہ واریت کے نام پہ اپنا کاروبار چمکانے کے لئے عوام الناس کو نبی کریمﷺ کی سیرت طیبہ سے دانستہ دور رکھا ہے۔  نتیجتا غیر مسلم تو مسلمان ہونے سے رہے یہاں مسلمان کی مسلمانیت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔چنانچہ آج:مقدس اکابروں:کے ایسے ایسے بت تراشے گئے ہیں اور ان کی شان اقدس کا غلغلہ اس طور بلند کیا گیا ہے کہ سیرت رسولﷺ خود مسلمانوں میں اجنبی بن کر رہ گئی ہے۔

اسوہ حسنہ اور ہمارے اعمال کے  بییچ جو خلیج موجود ہے۔اس کو پاٹنے کی ضرورت ہے یہ ہمارے دین کا بھی تقاضہ ہے اگر ہم دنیا میں پھر سے باعزت مقام چاہتے ہیں تو اپنے اوپر یہ لازم کریں کہ ہمیں سیرت سول ؐ پر نہ صرف خود بھی عمل کرنا ہوگا بلکہ دوسروں کی زندگیوں کو بھی صرف اسی چشمے سے سیراب کرنا ہوگا۔ ہم نے زندگی کے ہرپہلو چاہے وہ انفرادی ہو یا اجتماعی سب کو نبی اکرم ؐ کی سیرت طیبہ کے سانچے میں ڈھالنا ہے۔اسی میں اس امت کا عروج مضمر ہے۔


You may also like...

1 Response

  1. September 7, 2017

    […] یہ بھی پڑھیں : نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *