کیا جماعت اسلامی کو سیاست چھوڑ دینی چاہیے؟-احسن سرفراز


کچھ نام نہاد جماعت کے ہمدردوں کو شوق چرایا ہے کہ محض ایک حلقے کے ضمنی الیکشن رزلٹ جسمیں پچھلے الیکشن میں بھی جماعت کی حالت تقریباً ایسی ہی تھی جتنے ووٹ آج ملے ہیں کی بنیاد پر اسے سیاست چھوڑ کر خدمت خلق کے میدان میں “قوم” کی خدمت کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ اسی حلقے میں ملک کی تین بار حکمران رہنے والی پیپلز پارٹی کو بھی تقریباً جماعت سے تھوڑے بہت ہی زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ لیکن اسے تو کسی ایک نے بھی ایسے مشوروں سے نہیں نوازا۔

ان ہمدردوں میں زیادہ تر وہ افراد شامل ہیں جنکی کسی دور میں نظریاتی وابستگی ضرور جماعت سے رہی ہے یا وہ اب بھی یقیناً کسی نہ کسی حوالے سے جماعت کو پسند کرتے ہوں گے لیکن اب انھوں نے اپنے من کے مندر میں کچھ دوسرے “بت” سجا لیے ہیں۔ کوئی ان حضرات سے پوچھے کہ سیاست کے میدان میں جو نئے محبوب انھوں نے تلاشے ہیں انکا ملکی سیاست میں کونسا ایسا انقلابی کارنامہ جماعت سے بڑھ کر ہے کہ وہ اس پر فخر کر سکیں؟ سوائے اسکے کہ انھیں نام نہاد نیب زدہ الیکٹیبلز کے مرہون منت جماعت سے زیادہ ووٹ ملتے ہیں۔ کرپشن کے خلاف راگ الاپنے کے باوجود انکے دائیں بائیں پانامہ زدہ اور قرض معاف کروانے والے ارب پتی ہی پائے جاتے ہیں اور نظریاتی جہت کے حوالے سے تو انکی تہی دامنی تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کچھ پتہ نہیں وہ ملک کو نظریاتی طور پر کس سمت لے کر جانا چاہتے ہیں؟ جو کلچر اب انکی محبوب جماعتوں میں متعارف ہے اسمیں کوئی ایسی قابل فخر بات جسے جماعت کو بھی اپنانا چاہیے؟

جماعت کو دیا جانے والا مبینہ سیاسی ناکامی کا طعنہ کچھ زیادہ ہی زیب داستان کیلیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جماعت مختلف ادوار میں صوبائی ،مرکزی و بلدیاتی حکومتوں کا حصہ رہی، آج بھی جماعت سندھ کے ضلع ٹنڈو آدم ، kpk کے چار اضلاع میں چئرمین ایک ضلع میں وائس چئر میںن اور تیس کے قریب تحصیلوں میں حکمران ہے، ایک صوبائی حکومت میں اسکی شرکت ہے۔ مختلف ادوار میں اسکے ارکان اسمبلی، مئرز و وزراء پر اگر کرپشن کا داغ ہو، عدم کارکردگی کے الزامات ہوں یا اسی نوعیت کے کچھ اور طعنے ہوں تو پھر تو جماعت یقیناً سیاست میں ناکام ہے لیکن اگر جماعت کے ارکان اسمبلی کی کارکردگی آزادانہ سرویز میں بھی سب سے اچھی قرار پائے، اسکے کراچی جیسے بڑے شہر میں مئرز کی کارکردگی اسکے بدترین مخالف بھی مثالی قرار دیں، اسکے وزراء کی محنت کا اعتراف اسکی اتحادی جماعت کا سربراہ بھی کرے تو کیا یہ سیاست میں جماعت کی ناکامی کی مثالیں ہیں؟ ملکی سیاست میں کرپشن کے خلاف اسکی عوامی و قانونی جدوجہد بھی جاری و ساری ہے اور وہی واحد ایسی جماعت ہے جو “احتساب سب کا ” کی بات کرتی ہے۔

ہاں جماعت مروجہ پیسے کی سیاست میں مطلوبہ وسائل خرچنے اور نام نہاد الیکٹیبلز اکھٹے کرنے میں ناکام ضرور ہے کہ جسکی وجہ سے اسے انتخابی سیاست میں فیصلہ کن ووٹ بنک حاصل نہیں ہو پاتا۔ مزید کمزوریوں کوتاہیوں پر بھی بات ہو سکتی ہے کہ جسکی طرف جماعت کی قیادت و کارکنان کو بھرپور توجہ دینی چاہیے، لیکن یکسر جماعت کو سیاست میں ناکام قرار دے دینا قطعاً درست نہیں۔ سیاسی میدان میں دین وملت کی خدمت سے سرشار جان ہتھیلی پر رکھنے والے مخلص کارکنان کی تیاری، کرپشن سے پاک سیاسی قیادت کی فراہمی، قابل تقلید جمہوری روایات کی حامل اور وراثتی اثرات سے پاک جماعت اسلامی کئی لحاظ سے مروجہ سیاست میں اپنی ہمعصر سیاسی جماعتوں سے بہت آگے ہے۔
اگر انسان محض خواہشات یا کسی بغض کی بنیاد پر تجزیہ و تبصرہ کرے تو دنیا کی ہر شخصیت، نظام یا سیاسی جماعت میں کیڑے نکالے جا سکتے ہیں اور اسے مختلف انداز میں کامیاب یا ناکام قرار دیا جا سکتا ہے لیکن وہ تجزیے و تبصرے جو ہمدردی و اخلاص سے خالی ہوں انکی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

میری نظر میں جماعت کا اصل ہمدرد وہ ہے جسکی آج بھی سپورٹ اور ووٹ خالصتاً جماعت کیلیے ہے اور وہ جماعت کی سیاسی ترقی کا دل سے خواہاں ہے اور کسی نہ کسی لحاظ سے اسکے لیے اپنا حصہ بھی ڈال رہا ہے۔جو محض ہمدرد بننے کا ڈرامہ یا دعویٰ کرتے ہیں لیکن انکی تمام ترسپورٹ اور ووٹ دیگر سٹیٹس کو کی پہچان نمائندہ جماعتوں کیلیے ہے تو انکا جماعت سے ہمدردی کا دعویٰ اور سیاست چھوڑنے کے رنگ برنگے مشورے پرکاہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔ لگتا ہے وہ سیاست کے میدان سے جماعت کو نکال کر اپنے ضمیر کا کوئی بوجھ ہی ہلکا کرنا چاہتے ہیں جو شائد اب بھی جماعت کی پرانی تربیت کے زیر اثر انھیں کبھی محسوس ہوتا ہو کہ جماعت کے ہوتے ہوئے وہ کسی اور جماعت کی زلف گرہ گیر کے اسیر بن چکے ہیں۔ اب جب جماعت انتخابی سیاست میں ہو گی ہی نہیں تو یہ کل کو اللہ کی عدالت میں کم از کم کوئی تو عذر گھڑ سکیں گے۔
سچی بات ہے کہ جماعت کیلیے حقیقی جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنان کیلیے تو جماعت کا سیاست میں ہونا ایک نعمت غیر مترقبہ ہے۔ اس بات کا سوچ کر ہی ابکائی آتی ہے کہ اگر جماعت بھی سیاسی میدان میں نہ ہو تو ہمارے جیسے نظریاتی لوگ کسے اپنے ووٹ اور سپورٹ سے نوازیں گے

اور کل کو اللہ کی عدالت میں جماعت کے علاوہ اپنی محبوب سیاسی جماعت اور اسکے قائدین کی کرتوتوں کی کون کونسی تاویلیں پیش کریں گے؟
جماعت کے “نام نہاد ہمدردوں” سے اتنی ہی گذارش ہے کہ وہ اگر اب جماعت کو اپنی سپورٹ و ووٹ سے نہیں نوازسکتے تو ہمارے جیسے کارکنان کی سیاسی جدوجہد کا خیال کرتے ہوئی ہی کچھ اپنے طعنوں اور پھبتیوں میں کمی لے آئیں اور آئے روز جماعت کو بزعم خود سیاسی ناکام قرار دے کر سیاست چھوڑنے کا مشورہ دینے سے باز رہیں۔ جماعت اپنے امیر سراج الحق کی قیادت میں پرعزم بھی ہے اور متحرک بھی۔ بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے اور رہنی بھی چاہیے، کوتاہیوں کا اعتراف پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے، مزید محنت اور اچھی پلاننگ کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

جماعت کی سٹیٹس کو توڑنے کیلیے کرپشن سے پاک عام آدمی کی نمائندہ سیاسی جماعت کے طور پر ملکی سیاست میں موجودگی اور مضبوطی ناگزیر ہے اور سیاست کی آلودگی میں لتھڑی فضا میں اسکا کھڑے رہنا کسی نعمت سے کم نہیں۔ جماعت کو اس انتخابی نظام کی خرابیوں کی اصلاح کیلیے بھی بھرپور تحریک چلانی چاہیے، متناسب نمائندگی کا نظام کرپٹ الیکٹیبلز کا زور توڑنے اور نظریاتی سیاست کی حوصلہ افزائی کیلیے انتہائی اہم ہے۔
اگلے الیکشن میں جماعت کا ٹارگٹ بالخصوص kpk میں حکومت سازی کا حصول ، باقی صوبوں میں کامیابی کی امید والی نشستوں پر بھرپور قسمت آزمائی اور پچھلے الیکشن سے اپنے ووٹ بنک کی ترقی ہے۔ ان شاء اللہ جماعت اپنے اس ٹارگٹ کے حصول کیلیے پوری جان کھپائے گی اور امید ہے کہ اسکا ہر ہمدرد اور کارکن اس ٹارگٹ کے حصول کیلیے انتخابات میں رہنے والے چند ماہ کا بھرپور استعمال کرے گا۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *