کوئی حسرت کوئی ارمان نہیں


ہمارا معاشرہ مرد اور عورت دونوں سے مل کر بنتا ھے۔اکیسویں صدی جس کو ہم نے جدید دور تصور کیا ہوا ھے۔جس میں یہ بات واضح ھے کہ مرد اور عورت کو برابر کا درجہ حاصل ھے۔لیکین اگر ہم عملی زندگی میں دیکھیں تو ابھی بھی بہت سے علاقوں میں عورت کے درجےکومرد سے کم تر سمجھا جاتا ھے۔ہر گھر میں عورت کو اپنی خواہشات کا گلا گھوٹنا پڑتا ھے۔کبھی ماں بن کر,کبھی بیٹی بن کر تو کبھی شریکِ حیات کی چادر اوڑھے چپ چاپ اپنے ارمانوں کا جنازہ نکلتے دیکھتے رہتی ھے۔انکی آواز کو عزت کے نام پر دبا دیا جاتا ھے۔ تقریباًہر روز اخبار اور ٹی وی پرمعصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی٬گھرسےچیزلینےکےلیےنکلنےوالی بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل٬گھریلوں ملازمائیں ٬فیکٹریوں میں کام کرنے والی عورتیں گھریلوں تشدد کا شکار عورتیں۔ایساہی لگتا ھےنا کہ ظلم اور زیادتی کا شکار صرف اور صرف عورت۔۔۔!!!

کوئی اداکارہ نامناسب لباس پہن کر سگریٹ کا کش لگا لے تو سوشل میڈیا پر بے غیرت کی غیرت جاگ جاتی ھے٬اسلام خطرے میں پڑ جاتاہے۔اسلامی روایات کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عزت پر حرف آجاتاہے۔مگرجب ملتان کے علاقے مظفرآباد میں پنچایت نے ایک لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی حرکت پر لڑکے کو سزا دینے کے بجائے سزا کے طور پر لڑکے کی بہن سے زیادتی کا فیصلہ سنا کر ایک اور لڑکی کی زندگی تباہ کردی۔شاید جنگل کے قانون میں بھی ایسا نہ ہوتا ہو٬مگر ایک اسلامی جمہوری ملک میں ایسا ہوا اور سزا پر عملدرآمد بھی ہوامگر کہیں سوشل میڈیا پر کسی کی غیرت نا جاگی٬کسی کے کانوں پر غیرت کی جوں نہ رینگی٬ کوئی احتجاج ہوا نہ کوئی دھرنا٬ نہ کوئی جلوس نہ ہی این جی اوز کی ریلی۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔۔جب عورت کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔۔یوں لگتا ہے کہ عورت کے جزبات اور احساسات کی اس بےحس معاشرے میں کوئی اہمیت ہی نہیں۔۔

کسی لڑکی کے ساتھ زیادتی ہو٬ زمین جائیداد کا جھگڑا ہو٬خاندانی تنازع ہو٬ قتل کے مجرم کی معافی کا معاملہ ہو٬ عورت کو قربانی کے لیئے تیار رہنا چاہئے۔۔۔!!! کیا فرق پڑتا ہے آگر نا بالغ لڑکیوں کو ادھیڑ عمر مردوں کے ساتھ بیاہ دیا جائے۔ ان کی مرضی کے خلاف انہیں بیچ دیا جائے۔۔ ہمارے قول اور فعل کا تضاد دیکھے کہ بات کرتے ہیں عورت کی عزت ٬ تقدس٬ چادر اور چار دیواری کی مگر ہر کا ہدف ماں٬بہن ٬بیٹی اور بیوی ہوتی ہے۔ کیا کمال ہے ناں کہ عورت اپنی مرضی کا اظہار کرے تو غیرت کے قانون لاگو ہوجاتے ہیں۔

معصوم بچیوں ٬ لڑکیوں اور عورتوں کا قصور کیا ہے؟ سوچوں تو احساسات جھلسنے لگتے ہیں دم گھٹنے لگتا ہے۔دل سے آہ نکلتی ہے۔کون سوچتا ہے کوئی عورت کیوں روی ہے۔ اس کے اندر کچھ ٹوٹا تو نہیں یا کہیں اس کا اعتبار تو نہیں ٹوٹا۔۔!!ہمارے معاشرے میں عورت کی عزت کیوں نہیں کی جاتی؟ کیوں اس کی عزت کو پیروں تلے روند دیا جاتا ھے؟ کیوں اس کے حقوق کے لئے آواز بلند نہیں کی جاتی۔ جبکہ ہمیں زندگی دینے والی بھی عورت ہی ہوتی ھے۔ ہر جگہ کیوں عورت کے ساتھ وحشانہ سلوک کیا جاتا ہے؟ کیوں اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا نہیں جاتا۔۔؟؟

ان سوالوں کے جوابات آج تک پوشیدہ ہے۔ اور شاید قیامت تک پوشیدہ رہینگے۔نجانے ان سوالات کا جواب ہمیں کب کہاں اور کشمس سے ملے گا ۔ یا پھر یہ معاشرہ یونہی چلتا چلا جائیگا۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *