کالا جا دو  ، حقائق،اسباب و سدباب


زندگی کے اسرار انسان کے لیے صدیوں سے معمہ بنے ہوئے ہیں، انسان آج تک یہ نہیں سمجھ پایا کہ اس کی زندگی کا تعین کرنے میں اس کی قسمت کا زیادہ عمل دخل ہے یا اس کی تقدیر اس کے اپنے عمل پر حاوی ہے، زندگی کے حالات بدلنے میں تدبیر کا کتنا عمل دخل ہوتا ہے، کہا جاتا ہے کہ تقدیر کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں، البتہ قسمت تدبیر کا سہارا لے کر بدلی جا سکتی ہے، بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو قسمت بدلنے کے لیے عاملوں کی مدد لیتے ہیں جو جادو ٹونے کو بروئے کار لاتے ہوئے انہونی کو ہونی میں بدل دینے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

مشرق تو تو ہم پرستی کی وجہ سے مشہور ہے ہی مگر مغرب میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے، جو جادو پر یقین رکھتے ہیں، کیا جادو میں واقعی کوئی اثر ہے؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا مکمل اور واضح جواب آج تک کوئ نہیں دے پایا۔ اسی لیئے سلسلہ “معمہ” میں آج کا موضوع ہے، کالا جادو۔۔

جادو کسے کہتے ہے؟

واقعات کے غیرفطری طور پر ظہور پزیر میں لانے کافن جادو کہلاتا ہے۔ یہ فن ہر زمانے میں ہر قوم کے افراد کے عقیدے میں داخل رہا۔ اور مختلف اشخاص ہر جگہ اس کا دعوی کرتے چلے آئے ہیں۔ قدیم مصر کے پجاری اسی دعوے پر اپنی عبادت اور مذہب کی بنیاد رکھتے تھے۔ چنانچہ قربانیاں جادو ہی کی بنیاد پر دی جاتی تھیں۔ قدیم مصری ، بابل ، ویدک اور دیگر روایتوں میں دیوتاؤں کی طاقت کا ذریعہ بھی جادو ہی کو خیال کیا جاتا تھا۔ یورپ میں باوجود عیسائیت کی اشاعت کے جادو کا رواج جاری رہا۔ افریقا میں اب تک ایسے ڈاکٹر موجود ہیں جو جادو کے ذریعے علاج کرتے ہیں۔

سیاہ علم یا کالا جادو جنوں ، دیوتاؤں اور بدروحوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ اور علم سفید یعنی سفید جادو نیک روحوں اور فرشتوں کے ساتھ ملاتا ہے۔ اس کے علاوہ قدرتی جادو قدرت کے واقعات میں تصرف کے قابل بناتا ہے۔ رمل ، جفر ، جوتش ، اور نجوم بھی اسی کی شاخیں ہیں ۔ جو توہم پرستی پر مبنی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی جادو کئی شکلوں میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ مثلا تعویز ، گنڈے ، جن اور بھوت کا چمٹنا اور اتارنا وغیرہ۔

تاریخ پڑھی جائے تو ایسا کوئ دور نہیں گزرا ہوگا جس میں جادو کا زکر نہ ملے۔ دنیا کے تمام مذاہب بھی جادو پر یقین رکھتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود ایسا کیوں ہے کہ دنیا کا ہر شعبہ جادو کے متعلق الگ الگ خیال رکھتا ہیں۔

کوئ اس کے اثر کے ماننے والے کو توہم پرست سمجھتا ہے تو کوئ اس کے اثر سے انکار کرنے والے کو کافر قرار دیتا ہے۔

کوئ جادو کے اثر کو شیطانی تاقت سمجھتا ہے تو کوئ اسے دماغ کا خلل۔

کوئ اسے جن پریوں کی کہانی کہتا ہے تو کسی نے اسے سائنس کا حصہ کہا۔

کسی کی نظر میں جادو شعبدہ بازی ہے تو کوئ اسے باقاعدہ علم مانتا ہے۔
جادو کیسے اثر کرتا ہے۔

منفی تعویذ لکھنے والے تعویذوں کے دائیں بائیں جانب فرعون، نمرود، ہامان، قارون اور شداد کا نام لکھتے ہیں۔ بہشتی زیور میں اشرف علی تھانوی اور کئی مقامات پر احمد رضا خان بریلوی نے بھی کچھ تعویذات اپنی کتابوں میں لکھ کے دکھائے ہیں۔ یہ لوگ غیر اللہ سے، ابلیس سے بھی مدد مانگتے ہیں۔ اس لئے ابلیس کا نام بھی لکھا ہوتا ہیں۔ میں نے خود اپنے ہاتوں میں لے کے ایسے تعویز پڑھے ہیں جن میں کفریا کلمات لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔

کہتےہیں کہ جادوگر بننے کےلیے پہلا کام جو کرناپڑتا ہے وہ گندگی اور غلاظت کھانا ہے۔ جب تک غلاظت اور گندگی نہ کھائے وہ جادوگر نہیں بن سکتا۔​خانیوا ل کے ایک عامل نے اپنے زیر علاج ایک شخص سے یہ کہہ کر آٹھ نو ماہ کا بچہ ذبح کرا دیا تھا کہ تم پر کالی مائی کا جادو کرایا گیا ہے لہٰذا اس کے توڑ کے لئے انسانی بھینٹ ضروری ہے. بعد میں عامل اپنے مریض سمیت گرفتار ہوگیا تھا.

کراچی میں رینجز نے اورنگی ٹاؤن کے ایک قبرستان کے نزدیک ایک عامل کے ہمراہ خاتون کو پکڑا تھا۔ اس کے شاپنگ بیگ سے پانچ ماہ کا حمل برآمد ہوا تھا جسے وہ کسی مخصول عمل کو پورا کرنے کے لئے دفنانے جا رہے تھے. پھر دونوں سلاخوں کے پیچھے چلے گئے۔

کالا جادو سفلی کہلاتا ہے اور یہ سراسر شیطانی عمل ہے۔ اس عمل کے لئے غلیظ اور ناپاک رہنا اولین ہے. کالا علم سیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کے بعض عملیات ایسے بھی ہیں جس میں عامل کو 31 دن کے چلے میں روز شراب پینا اور زنا کرنا لازمی ہوتا ہے ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ اسے اپنا فضلہ کھانا اور پیشاب پینا پڑتا ہے. سفلی کے بعض 21 روزہ عمل بیت الخلا میں کرنے پڑتے ہیں. سفلی عملیات میں عموما قرآن پاک کی آیات کو الٹا پڑھنا ہوتا ہے (نعوذبالله) جس سے ان کا مفہوم بھی بالکل الٹ ہو جاتا ہے. کراچی کے عاملوں کے باپ رتن سائیں مختلف لوگوں کو حیض کے خون سے تعویز لکھ کر دیتا تھا۔ اس کے علاوہ اس کے پاس ایسی عورتوں کا بھی تانتا بندھا رہتا تھا جو شوہر کو تابع کرنے کی خواہش مند تھیں. ایسی خواتین سے وہ حیض کا کپڑا منگواتا پھر اس پر چند منتر پڑھ کر ہدایت کرتا تھا کہ کسی وقت موقع دیکھ کر اس کپڑے کو پانی میں گھول کر شوہر کو پلا دینا، وہ کتے سے زیادہ تمہارا وفادار ہو جائے گا، جو کرتی پھرو ، کوئی روک ٹوک نہیں کریگا.

23 جلائی کو میں نے اسی گروپ میں اپنا ایک سچا واقعہ شیئر کیا تھا جس میں ایک خاتون خودکشی کرنا چاہتی تھی۔ جب میں نے اسے ٹرین کے نیچے آنے سے پچایا تو اس کی کہانی سننے کو ملی۔ اس خاتون نے ایک بدکردار شخص کے لئے اپنا ہنستا بستا گھر چھوڑا تھا اپنا پیار کرنے والا شوہر اور اپنا خاندان چھوڑ دیا تھا۔ اس نے مجھے اپنی کہانی سناتے ہوئے تتایا تھا کہ اسے پورا یقین آگیا کہ اس شادی شدہ شخص نے اسے کسی جادو کے ذریعے حاصل کیا تھا۔ وہ روتے ہوئے بتا رہی تھی کہ مجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا تھا کہ میں اس کی ہر بات ماننے کو تیار ہوگئ تھی۔ میں اب سوچتی ہوں تو خود پہ حیرت ہوتی ہے۔ اللہ جانے اس کی باتوں میں کتنی سچائی تھی۔

پاکستان میں 99 فیصد عاملوں کی تعداد جعلی ہے جو مختلف شعبدے دکھاکر سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں مصلاً کیمیکل کے ذریعے بغیر تیلی کے آگ لگا دینا، سرنج کے زریعے لیموں کا رس نکال کر پھر سرنج کی مدد سے ہی اس میں سرخ رنگ بھر کر لیموں میں خون ٹپکتا دکھانا وغیرہ. اس کے برعکس اصل عامل اور حقیقی سفلی گر اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتے. اس معاملے میں وہ سخت رازداری برتتے ہیں، اور ہمیشہ اپنے قابل اعتماد کارندوں کے زریعے ہی بھروسے کی پارٹیوں سے سودا کرتے ہیں۔

تو کیا اس دور میں بھی واقعی اصلی کالے جادو کے ماہر موجود ہیں؟

جو واقعی محبوب کو آپ کے قدموں میں ڈال سکتے ہیں؟

جادو کا حملہ انسانی جسم پر نہیں بلکے اسکی نفسیات پر ہوتا ہے اور یہ کسی ہپناٹزم کے ماہر کی طرح آھستہ آھستہ ذہن پر اپنا تسلط قائم کرتا ہے۔

مشاہدہ ہے کہ اکثر جادو و جنّات کا شکار خواتین یا کم سن بچے ہوتے ہیں. اسکی وجہ بعض لوگ غلط طور پر یہ بیان کرتے ہیں ک جنّات شاید حسن پرست ہیں اور اسی لئے وہ عورتوں پر عاشق ہوجاتے ہیں. بات یہ نہیں ہے بلکہ سمجھ میں آنے والی بات یہ ہے کہ بچے اور خواتین عمومی طور پر وہم کا شکار جلدی ہوجاتے ہیں. خوف کی کیفیت ان پر با آسانی طاری ہوجاتی ہے. لہٰذا جادو کا ان پر کارگر ہونا زیادہ آسان ہوتا ہے.

یہ نفسیاتی حملہ ایسی جگہ مزید آسان ہوجاتا ہے جہاں انسانی ذہن سستی یا خوف محسوس کرے، جیسے رات میں کوئی برگد کا پرانا درخت یا پھر کوئی بوسیدہ قبرستان. کیونکہ یہ خالص نفسیاتی معاملہ ہے، اسلیے اسکے توڑ کے لئے نفسی علوم اور انکے ماہر موجود ہیں.

یہ ماہرین ہر مذہب میں پاۓ جاتے ہیں اور انکا طریقہ علاج دین سے زیادہ ‘یقین’ پر بنیاد رکھتا ہے. اسلام نے بھی ایسی صورت میں جن آیات کی تلاوت کا حکم دیا ہے، وہ واضح طور پر پڑھنے والے کے یقین کو اپنے رب پر قوی کرتی ہیں. اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہندو جنتر منتر پڑھ کر، ایک عیسائی کراس یا ہولی واٹر دکھا کر اور ایک مسلمان قرانی آیات کی تلاوت کرکے جنّات و جادو کا کامیاب توڑ کرلیتا ہے. جس طرح طبیعاتی علاج میں مریض کی قوت مدافعت کے بناء کوئی بہترین ڈاکٹر بھی کچھ نہیں کر پاتا، بلکل اسی طرح ایک آسیب زدہ جب تک یہ ٹھان نہ لے کہ وہ اس بیرونی اثر کا آگے بڑھ کر مقابلہ کرے گا تب تک کوئی پیر، فقیر یا عامل اسکی مدد نہیں کر سکتا.
اسلام اور جادو۔

قرآن کی سورۃ بقرہ کی آیت میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے:

“وَاتَّبَعُواْ مَا تَتْلُواْ الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ ”

لوگ سلیمان علیہ السلام کی باتوں کو چھوڑ کر ان کی باتوں کے پیچھے چل پڑے جو سلیمان علیہ السلام کی دورحکومت میں پڑھی جاتی تھیں۔ جو جادو سیکھا سکھایا جاتا تھا یہ اس جادو کے پیچھے لگ گئے۔

“وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـكِنَّ الشَّيْاطِينَ كَفَرُواْ”

سلیمان علیہ السلام نے کفر نہیں کیا سیاطین نے کفر کیا۔

جادو سیکھنا، جادو سکھانا، جادو کرنا، جادوکرانا اسلام میں کفر ہے۔ سلیمان علیہ السلام کے بارے میں اس وقت کے لوگ اور آج کے دور میں، ہمارے اس دور میں بھی کچھ لوگ یہ عقیدہ اور نظریہ رکھتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام جادو گروں کے بڑے ہیں حالانکہ ایسی بات نہیں ہے فرمایا:

“وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ”

سلیمان علیہ السلام نے ایسا کوئی کفر نہیں کیا۔

“وَلَـكِنَّ الشَّيْاطِينَ كَفَرُواْ”

لیکن شیطانوں نے کفر کیا۔

وہ کفر کیا تھا؟

” يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ ”

لوگوں کو جادو سکھا تے تھے۔

پھر لوگوں کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جادو نازل کیا ہے۔ جادو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ اللہ نے اس کی بھی نفی فرمادی ۔ الہ تعالیٰ نے فرمایا:

” وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ”

بابل شہر میں ہاروت اور ماروت پر کچھ بھی نازل نہیں کیا گیا۔ شیاطین کفر کرتے تھے، سلیمان علیہ السلام نے کفر نہیں کیا۔ یہ شیاطین لوگوں کو جادو سکھا تے تھے۔ اور

“وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولاَ ”

ان دونوں ملکین ، دونوں فرشتوں، ہاروت اور ماروت کو جادو آتا تھا۔ شیاطین سے انہوں نے جادو سیکھا۔ لوگ ان فرشتوں سے جادو سیکھنے لگ گئے۔ اور لوگ جاتے جادو سیکھنے کےلیے تو وہ کہتے:

“إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ ”

ہم تو مبتلائے آزمائش ہوچکے ہیں ،

” فَلاَ تَكْفُرْ”

تو کفر نہ کر۔

لیکن اس سب کے باوجود، تنبیہ، نصیحت اور وعید کے باوجود۔

” فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ”

وہ ان دونوں سے کچھ ایسا کلام اور ایسا جادو سیکھتے کہ جس کے ذریعے وہ آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی پیدا کردیتے۔

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

” وَلَقَدْ عَلِمُواْ لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاَقٍ”

ان کو پتہ تھا کہ جو بھی یہ جادو سیکھے گا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ یعنی آخرت میں اس کےلیے نقصان ہی نقصان، عذاب ہی عذاب ہے۔ اور وہ ان سے ایسا کچھ سیکھتے کہ:

” مَا يَضُرُّهُمْ وَلاَ يَنفَعُهُمْ”

جو ان کو نقصان دیتا تھا ، نفع نہیں پہنچاتا تھا۔

” وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْاْ بِهِ أَنفُسَهُمْ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ”

کاش کہ وہ ہوش کے ناخن لیتے، وہ سمجھ لیتے، جان لیتےکہ جس چیز کے بدلے وہ بیچ رہے ہیں اپنی زندگی کو، اور اپنی آخرت کو داؤ پر لگا رہے ہیں وہ چیز بہت بری ہے۔

اس آیت سے ایک تو یہ پتہ چلا کہ جادو کوئی چیز ہے جسے اسلام مانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لفظ “سحر” بولا ہے۔ جادو کے وجود کو ثابت کیا ہے۔ کہ جادو کا وجود ہے۔ مگر دیگر اسلامی مسائل کی طرح اس مسلے میں بھی لفظ “سحر” کا معنی، لفظ جادو کا معنی مختلف لوگ مختلف کرتے ہیں۔

کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہاں جادو سے مراد شعبدہ بازی ہے جس سے لوگ گمرہ ہوئے۔ جیسے آج کل کے جالی عامل لوگوں کو گمرہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں جادو شعبدہ بازی ہے۔ مگر آیت پہ غور کریں،

“مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ”

جس (جادو) کے ذریعے وہ آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی پیدا کردیتے تھے۔

یعنی جادو کچھ ایسی چیز ہے کہ جس کی بنا پر آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی پیدا ہوجاتی ہے۔ آدمی کا دماغ خراب ہوجاتا ہے وہ بیوی کو طلاق دے بیٹھتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر میاں بیوی اکھٹے مل کر جائیں دونوں شعبدہ دیکھنے کےلیے، تو پھر کیا شعبدہ دیکھ کر وہ آپس میں لڑنے لگیں گے؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ جادو کوئی ایسی چیز ہے جس کے ذریعے دلوں میں اختلاف پید ا ہوسکتا ہے۔

قرآن کے مطالعہ سے یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ جادو ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعے جادوگر کسی قدر انسانوں کو نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اور جادوگر کا یہ نفع یا نقصان پہنچانا اللہ تعالیٰ کے اذن کے ساتھ مشروط ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت، اللہ تعالیٰ کا اذن اور اجازت ہوگی تو جادوگر جادو کے ذریعے نقصان پہنچا سکے گا۔ اللہ تعالیٰ کے اذن اور اجازت کے بغیر کسی کو کوئی فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

نبی کریم ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو فرمایا:

“اے معاذ! اگر امت ساری کی ساری تجھے نفع پہنچانے کےلیے جمع ہوجائے تو جو اللہ تعالیٰ نے تیرے مقدر میں لکھا ہے اس کے علاوہ اور کوئی نفع یہ تجھے نہیں پہنچا سکتے۔ اور اگر یہ سارے کے سارے اکھٹے ہوجائیں کہ تجھے نقصان پہنچادیں تو تجھے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے مگر جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے تیرے مقدر میں لکھ دیا ہے۔

کچھ لوگ اس لئے بھی جادو کو نہیں مانتے وہ انہی باتوں کا حوالہ دیتے ہیں مگر یہاں ایک شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر اپ حق پر ہو جیسے کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ آپ دشمن سے بے فکر مت رہو اور پوری تیاری کے ساتھ رہو۔ مگر دوسری طرف اللہ کہتا ہے فکر مت کرو تم ہی فاتح رہوگے اور اگے پھر وہی شرط ہے کہ بشرطیکہ تم مومن ہو۔

جادو میں بالکل اثر ہے مگر ایمان میں جادو سے زیادہ اثر ہے اگر آپ کا ایمان جادو سے زیادہ اپنے اللہ پر ہے تو جادوگر آپ کا کوئ نقصان نہیں کر سکتا۔

اسی طرح اسلام نے کبھی نہیں کہا کے باقی انسانی عملیات میں اثر نہیں صرف جادو میں اثر ہے۔ اسلام کہتا ہے محنت میں بھی بہت طاقت ہے۔

اگر ایک شخص خوب محنت کرتا ہو اور کوئ اس پر جادو کرے تو محنت کا اثر جادو کے اثر پہ ہاوی ہو سکتا ہے۔

جادو ایک شیطانی عمل ہے جس طرح شیطان کو اللہ نے اختیار دیا ہے کہ وہ انسانوں کو گمراہ کر سکتا ہے اسی طرح جب کوئ جادوگر کسی پہ جادو کرتا ہے تو شیطان جادوگر کی خاطر اس شخص کو گمراہ کرنے کی خصوصی کوشش جاری کرتا ہے۔ اگر اس کا ایمان کمزور ہوگا تو شیطان اسے آسانی سے ورغلا پائیگا۔ اس کو غصہ دلائگا اور وہ لڑنے جھگڑنے پر آجائیگا۔

اگر ایک شخص محنت کش ہو اور اس پہ ناکامی کے لئے جادو کیا گیا ہو تو شیطان اسے محنت سے جی چرانے والا بنانے کی کوشش کرئیگا۔

شیطان چونکہ جادوگر کی اللہ سے سخت نافرمانی پہ خوش ہوتا ہے اور جادوگر کو مذید گمراہ کرنے کے لئے اس کی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
جادو پہ اٹھائے گئے سوالات:

آج تک کوئی ایسا جادو یا دم یا کڑا یا چھلہ یا دھاگہ یا گنڈہ یا تعویذ دریافت نہ ہو سکا جس سے بلا مادّی وظاہری اسباب کے جان و مال ، گھروں، بینکوں کی حفاظت ہو سکے یا بغیر کھائے پیئے کے پیٹ بھر جایا کرے۔ جنتر منتر سے ہی کام چلایا جائے پڑھنے کی ضرورت کیا۔ فوج کی کیا ضرورت۔کسی جنتر منتر سے بینک میں نوٹ اور ملز میں کپڑے نہیں جل سکتے شہنشاہ جادوگر بغیر ٹکٹ کے اپناشو نہیں بتاتے اور اپنی بیماری کا علاج اپنے جادو یا عمل عملیات سے کرنے کی بجائے حکیم یا ڈاکٹر ہی سے کرواتے ہیں کوئی بھی امتحان میں نقل کی بجائے جادو یا کوئی اور تعویذ یا دم سے کام نہیں لیتا۔

تاریخ انسانی گواہ ہے کہ کوئی جادوگر اپنے جادو سے یا کوئی عامل اپنے عملیات سے کبھی بھی نہ بادشاہ بن سکا نہ کوئی ملک کا صدر نہ کوئی الیکشن ہی جیت سکا اور نہ کوئی اپنے موکلوں کے ذریعہ بینک کے نوٹ حاصل کر سکا نہ کسی ملز کے کپڑے کے تھان چوری کر سکا، یا موکلوں کی مدد سے ایک دیوار سے لگا دھاگہ توڑ سکا۔؟

کراچی کے علاقے رنچھوڑ لین کے رہائش سفلی گر رتن سائیں کو کئی برس پہلے ایک بلوچ نے قتل کر دیا تھا. اس بلوچ کی فیملی کے تقریبا تمام افراد کسی نامعلوم بیماری کا شکار ہو کر مرے تھے، اسے شک تھا کہ رتن سائیں نے اس کے مخالفین سے بھاری رقم لے کر اس کے اہل خانہ پر کالا جادو اور سفلی کرایا تھا لہٰذا ایک روز وہ بہانے سے رتن کو میوہ شاہ قبرستان لے گیا اور گولیاں مار کر ہلاک کر دیا. اس طرح اپنے زمانے کا بدنام ترین سفلی گر اپنے انجام تک پہنچا. کہا جاتا ہے کہ رتن کے نام کے بغیر کراچی میں کالے جادو اور سفلی عمل کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی اور جادو ٹونے سے وابستہ شاید ہی ایسا کوئی فرد ہو جو اس کے نام سے واقف نہ ہو. اس کے شاگردوں کے دعوے کے مطابق رتن کے پاس ایک ایسا عمل بھی تھا جسے پڑھ کر وہ کافی فاصلے تک اڑ بھی لیتا تھا.

مگر سوال یہ ہے کہ اس کے باوجود وہ ایک عام شخص سے دھوکہ کھا گیا۔ اس کے موکلوں میں سے کسی نے رتن کو نہیں بتایا کہ بلوچ اسے بہانے سے قتل کرنے لے کے جا رہا ہے۔
جادو میڈیکل کی نظر میں۔

شیزوفرینیا کیا ہے؟

شیزوفرینیا ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً ایک فیصد افراد کسی ایک وقت میں اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس بیماری کی شرح عورتوں اور مردوں میں برابر ہے۔ شہروں میں رہنے والوں کو اس بیماری کے ہونے کا امکان گاؤں میں رہنے والوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ پندرہ سال کی عمر سے پہلے یہ بیماری شاذ و نادر ہی ہوتی ہے لیکن اس کے بعد کبھی بھی شروع ہو سکتی ہے۔ اس بیماری کے شروع ہونے کا امکان سب سے زیادہ پندرہ سے پینتیس سال کی عمر کے درمیان ہوتا ہے۔شیزوفرینیا کی اہم علامت۔

ہیلوسینیشنز (Hallucinations):

اگر آپ کو کسی شے یا انسان کی غیر موجودگی میں وہ شے یا انسان نظر آنے لگے یا تنہائی میں جب آس پاس کوئی بھی نہ ہو آوازیں سنائی دینے لگیں تواس عمل کو ہیلوسی نیشن کہتے ہیں۔ شیزوفرینیا میں سب سے زیادہ مریض کو جس ہیلوسی نیشن کا تجربہ ہوتا ہے وہ اکیلے میں آوازیں سنائی دینا ہے۔ مریض کے لیے یہ آوازیں اتنی ہی حقیقی ہوتی ہیں جتنی ہمارے لیے ایک دوسرے کی آوازیں ہوتی ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ یہ آوازیں باہر سے آ رہی ہیں اور کانوں میں سنائی دے رہی ہیں، چاہے کسی اور کو یہ آوازیں نہ سنائی دے رہی ہوں۔ ہو سکتا ہے یہ آوازیں آپ سے بات کرتی ہوں یا آپس میں باتیں کرتی ہوں۔

اگر گھر میں کسی فرد کو شیزو فرینیا شروع ہو جائے تو باقی گھر والوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ ان کے بچے، ان کے شوہر یا بیوی، یا ان کے بہن بھائی کو کیا ہو رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ایسی باتیں کہنا شروع کردیں جو باقی گھر والوں کو عجیب و غریب لگیں یا ان کی سمجھ میں نہ آئیں۔

ایسے میں اکثر مریض خود اور اس کے گھر والے اس پر جادو یا جنات کا اثر سمجھتے ہیں۔

پاکستان کے دیہاتوں میں ایسے کیسس عام ہیں۔

ہسٹریا بھی ایک بیماری ہے جس میں عجیب و غریب دورہ پڑتے ہیں۔

مرگی کے مرض کو آج بھی دیہات میں سایہ سمجھاجاتا ہے۔ مریض عجیب و غریب حرکات اور باتیں کرتاہے۔ لوگ ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے عاملوں اور پیروں اور فقیروں کی طرف دوڑتے ہیں۔
جادو ایک یقین:

گروپ میں کچھ مہینے پہلے میں نے ایک پوسٹ کی تھی جس میں ایک قیدی جسے پھانسی سنائی گئ ہوتی ہے، پہ تجربہ کرتے ہیں۔ اسے سانپ دکھا کر اس کی آنکھوں پہ پٹی باندھ دیتے ہیں۔ اور پھر اسے اس خطرناک سانپ سے ڈسوانے کے بجائے دو پن ایک ساتھ چبو دیتے ہیں۔ وہ سمجھ جاتا ہے کہ اسے سانپ سے ڈسوا دیا۔ اس کو پورا یقین ہوتا ہے کہ اب اس کے جسم میں وہاں سے زہر پھیلنے لگ جائیگا جہاں سانپ نے کاٹا ہے۔ جہاں پہ اصل میں پن چبوئ ہوتی ہے۔ کچھ دیر میں قیدی کی حالت خراب ہوجاتی ہے۔ جب اسے تجربے کے لئے لیجا کے دیکھتے ہیں تو اس کے اسی حصے سے واقعی زہر نکل کے باقی جسم میں پھیل چکا ہوتا ہے۔

اس پوسٹ پہ کافی لوگوں نے ایتراز کیا کہ یہ بات ہضم نہیں ہوئ۔ یہ کیسے ممکمن ہے۔

ظاہر ہے کے ہمارے لئے یہ ایک ناممکن سی ہی بات ہے۔ ہمارا دماغ اس قیدی کے دماغ کی کنڈیشن کبھی سمجھ سکتا کہ جس کی آنکھوں میں موت کا خوف انتہا کو پہنچ چکا تھا۔

اب میں آپ کو ایک دو مثالیں دیتا ہوں پر اس سے پہلے یہ بتاوں کہ جسم اور دماغ کے درمیان یقین کیسے کام کرتا ہے۔

انسان کو جب چوٹ لگتی ہے تو جسم کے اس حصہ سے دماغ کو درد کے سگنلز ملتے ہیں اور اس کے بعد انسان درد محسوس کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ 100 فیصد سگنلز ہوتے ہیں کیونکہ انسان اپنی آنکھوں سے بھی دیکھتا ہے کہ اسے چوٹ لگ گئ ہے۔

مثال: دنیا میں ایسے کئ لوگ ہیں جنہیں چوٹ لگے تو وہ اپنے دماغ تک چوٹ کے سگنلز نیہں پہنچنے دیتے۔ اس طرح انہیں درد بھی نہیں ہوتا۔ طاہر جاوید مغل کی “للکار” میں انہوں نے “باروندا جیکی” کے کردار سے اس بات کو اچھی طرح سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

ایک اور مثال: میرے دوست نے ایکسیڈنٹ کیا تھا جس میں ایک بائک والے نے مخالف سمت سے بائک اس کی گاڑی میں دے ماری تھی۔ اکسیڈنٹ اتنا زور کا تھا کے بائک کے لگتے ہی بائک والے کا پاوں باقی ٹانگ سے الگ ہوگیا تھا۔ وہ زمین پہ پڑا تھا۔ میرا دوست اتر کے نیچے گیا تو وہ اس سے بھس کرنے لگ گیا کہ آپ کی غلطی ہے۔ میرا دوست سمجھ گیا کہ اس کو ابھی پتہ نہیں کہ پاوں جھوتے کے ساتھ الگ ہوگیا ہے۔ وہ اٹھ کے ٹھیک طرح بیٹھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ نظر پاوں پہ پڑی اور پھر دیکھتے ہی بے ھوش ہوگیا۔

یعنی اس کے دماغ نے ابھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا کہ اسکا پاوں ٹانگ سے الگ ہو سکتا ہے۔ پاوں کٹ چکا تھا اور دماغ کو سگنلز تب ملے جب اس کی نظر پاوں پہ پڑی۔

ایسا سب تب ممکن ہوتا ہے جب 100 فیصد یقین ہو۔

100 فیصد یقین کی بہترین مثال خواب ہے۔

کبھی آپ نے ایسا ڈراونا خواب دیکھا ہوگا کہ آپ جاگتے ہیں تو دل زور سے دھڑک رہا ہوتا ہے۔ آپ نے وہ خوف اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہوتا ہے اور نہ ہی وہ حقیقت میں ہوتا ہے پھر بھی دل دھڑک رہا ہوتا ہے کیونکہ دل کو دماغ کی طرف سے سگنلز مل چکے ہوتے ہیں۔ آپ کے ظاہری جسم پہ ایک ایسا اثر کام کر جاتا ہے جس کا حقیقت سے کوئ تعلق نہیں ہوتا۔

مردوں کو ایسے خواب اکثر آتے ہیں جس کے ظاہری اور جسمانی نتیجے سے وہ جاگ جاتے ہیں۔ ان کے جسم کو کسی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا ہوتا ہے مگر خواب کے ماحول سے اس کا دماغ جسم کو سگنلز دیتا ہے اور جسم کام کر دکھاتا ہے۔

انسان جب خواب دیکھتا ہے تو اسے سب کچھ 100 فیصد سچ لگتا ہے اور اس 100 فیصد یقین کا نتیجہ آپ کے سامنے ہوتا ہے۔

اسی لئے یقین پہ ایمان رکھنے والے کہتے ہیں کہ درحقیقت یہ جادو شعوری طاقت کا نام ہے جو جادو کرنیوالے عامل اور کرانیوالے شخص کے درمیان یقین کی طاقت کو پیدا کرتے ہیں، ہم جسے جادو کا اثر کہتے ہیں وہ لفظوں کی طاقت ہے، ہر لفظ اپنی تاثیر میں طاقت کا سرچشمہ ہے، جسے ایک عام ذہن سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے، انسان کے اندر کی بے یقینی کئی چیزوں کے حصول میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ بعض اوقات اس بے یقینی کی وجہ سے بنتے کام بھی بگڑ جاتے ہیں، ایک شخص کو کسی بزرگ نے تعویذ دیا جب اس کا کام ہو گیا اور وہ بزرگ کے پاس اسے نتیجہ بتانے آیا تو بزرگ نے اسے کہا کہ جو تعویذ میں نے تمہیں دیا ہے اسے کھول کے دیکھو، اس شخص نے تعویذ کھول کے دیکھا تو وہ ایک سادہ سا کاغذ تھا، وہ شخص بہت حیران ہوا اور اس کے استفسار پر جواب ملا کہ یہ تعویذ کا کرشمہ نہیں بلکہ تمہارے یقین کی طاقت تھی۔

گروپ میں موجود میڈیکل کے لوگ “پلیسیبو” سے واقف ہونگے۔ جو نہیں جانتے انہیں بتاوں کہ پلیسبو ایک ایسی دوا ہے جس میں دوا کے اجزاء شامل نہیں ہوتے بلکہ ایک جالی دوائ یا گولی ہوتی ہے جو مریض کے اطمینان کے لیے اسے دی جاتی ہیں، یورپ میں ویسے بھی دوا کا استعمال کم کیا جاتاہے اور بعض اوقات مریض دوا لیے بغیر ٹھیک ہونے کا نام نہیں لیتے، یہ بھی ایک نفسیاتی اثر ہی سمجھ لیجیے، ایک ریسرچ کے مطابق بیمار مریضوں کو اصلی دوائیں اور پلیسبو دوا ایک ساتھ دی گئیں، پلیسبو دوا لینے والے مریض بھی صحت یاب ہو گئے۔ پلیسبو ٹیبلٹ اور کیپسولز کی طرح ہوتی ہیں مگر ان میں سیلائن یا ڈسٹل واٹر بھرا ہوتا ہے، انھیں شگر ہلز بھی کہا جاتا ہے، یہ دوائیں لے کر بھی مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

میری امی ایک بار گاوں کے واحد ڈاکٹر کے پاس گئ تو ڈاکٹر نے امی کو ہنستے ہوئے بتایا کہ آپ کا ایک رشتےدار ہے جس کا میں نام نہیں بتاونگا، مجھے ایک ہفتے سے تنگ کر راہا تھا میں نے ہر طرح کی دوا دی مگر ہر روز پھر تنگ کرنے آجاتا تھا اور کہتا تھا مجھے سرنچ لگاو جب کے اس کی بیماری ایسی نہیں کہ سرنچ لگاتا دو دن پہلے مجھے غصہ آیا میں نے اس بوڑھے کو بارش کے پانی کا سرنچ لگا دیا مگر عجیب بات ہے دوبارہ نہیں آیا اب مجھے ملا تو بتایا کہ ڈاکٹر صاحب اب میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوگیا ہوں۔ پلیسبو اثر کی یہ مثال میری امی آج بھی لطیفے کے طورپر سناتی ہیں۔

انسانی ذہن طاقت کا سرچشمہ ہے، چونکہ عام لوگوں کا ذہن یکسوئی کا حامل نہیں ہوتا اس لیے ان کے لفظوں میں وہ اثر نہیں ملتا، اثر وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں آپ کی سوچ ایک نکتے پر مرکوز ہو، روحانی ماہر ہوں یا عامل انتشار میں بھی ارتکاز کی کیفیت میں رہتے ہیں۔

ریکی جاپان کا دریافت کردہ علم ہے جو چائنا کے ساتھ یورپ بلکہ پوری دنیا میں مقبول ہے۔ ریکی کا ماہر مریض کے جسم پر ہاتھ رکھ کر اس مرض کو ٹھیک کر دیتا ہے۔ یہ تک کہا جاتا ہے کہ کسی خاتون کو ریکی دیتے وقت اگر ماہر کے دل میں نفسانی خواہش بیدار ہو جائے تو ریکی کا اثر زائل ہو جائے گا۔ لہٰذا ریکی سیکھتے وقت ان ماہرین کو ذہنی و روحانی طور پر مضبوط کرنے کے لیے مشقیں کرائی جاتی ہیں تا کہ یہ عام لوگوں سے مختلف ہوں اور ان کے ذہن کی سچائی و شفاف عکس دکھی انسانیت کو شفا دے سکے۔

ریکی بھی تحت الشعور کی طاقت کا علم ہے۔ ریکی کا ماہر اپنے جسم کی قوت کو کائنات کی توانائی سے ہم آہنگ کرنے کی مشقیں کرتا ہے اور ان طویل مشقوں کے بعد اس کے ہاتھوں سے شفا کی لہروں کا اخراج ہونے لگتا ہے۔ ریکی مثبت سوچ کا سرمایہ ہے۔ جب کہ جادو ایک منفی علم ہے۔ اس میں بھی عامل مختلف قسم کی مشقیں کرتے ہیں اور مخصوص تکرار کے حامل الفاظ ان کی طاقت کا ذریعہ بنتے ہیں اس علم میں بھی ذہن کی کرشماتی طاقت موجود ہے۔ منفی سوچ اپنے اندر ایک بہت بڑی طاقت سمیٹے ہوتی ہے بدی بہت جلد جڑ پکڑتی اور پھلتی پھولتی ہے۔ منفی سوچ اکثر نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ ایک شخص جب بہت نفرت و غصے کے عالم میں باہر نکلتا ہے تو کبھی اس کی گاڑی خراب ہو جاتی ہے یا پھر اس سے ایکسیڈنٹ ہو جاتاہے۔

یا کم از کم اس کا باقی کا دن بھی برا گزرتا ہے۔

منفی لہروں کا ارتعاش ماحول وارد گرد کے لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے یہی وجہ ہے کہ زبان و عمل کا اثر ہمیں اپنی زندگی میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ نظر لگ جانے کے واقعات بھی اکثر سننے میں آتے ہیں۔ دراصل یہ نظر بھی پریشان کن سوچ کا ٹکراؤ ہے۔ خاموش نفرت اور احساس کمتری بھی دوسروں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ بعض اوقات یہ مبالغہ آرائی پر مبنی سوچیں انسان کی اپنی ذات کو زیادہ تکلیف دیتی ہیں۔ جسم کے سیلز تباہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور جسم بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔

ہر نفسیاتی بیماری کے جسم پر ظاہری اثرات ہوتے ہیں۔ اسلام حسد، بغض اور کینا کو بیماری کا نام دیتا ہے اور ان بیماریوں کے بھی دیگر نفسیاتی بیماریوں کی طرح اثرات ہوتے ہیں۔

اور اسی لئے اسلام انہیں بیماریاں کہتا یے اور ان سے بچنے کی تلقین کرتا ہے کہ یہ انسانی صحت کے لئے مزر ہیں۔
جادو ایک حقیقی علم:

اصولی بات یہ یاد رکھنی چاہیے کہ ہر منظم انسانی علم مخصوص معاملات کی بابت مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لیے علت و معلول کے کسی نظام کا ایک سلسلہ قائم یا تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر انسانی علم میں کی جانے والی اس کاوش کی اپنی حدود و قیود ہوا کرتی ہیں، ایسے کسی انسانی علم کی شاخ کا وجود نہیں جو ”تمام مسائل و معاملات“ سے متعلق علت و معلول کے قواعد جان چکی ہو (اگرچہ سائنس کے بارے میں کسی دور میں یہ بلند و بانگ دعوی کیا گیا تھا کہ اس کے ذریعے ایسا ممکن ہوسکےگا)۔ چنانچہ یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ علم کی ایک شاخ جو ایک قسم کے مقاصد یا مسائل میں اثر انگیزی کی حامل ہوتی ہے، دوسرے قسم کے مسائل حل کرنے میں بالکل بیکار ہوا کرتی ہے اتنا ہی نہیں بلکہ ایک ہی علم کی شاخ کے مختلف دھارے چند قسم کے مسائل میں مؤثر ہوتے ہیں تو چند دیگر میں ناکام۔ مثلا انسانی صحت کی مثال لیجیے۔ چنانچہ بہت سی بیماریاں جو ایلوپیتھ طریقہ علاج میں سوائے آپریشن قابل علاج نہیں، ہومیو پیتھ با آسانی ان کا علاج کردیتا ہے، اسی طرح بہت سے جسمانی مسائل ایسے ہیں جو صرف چائنیز طریقہ علاج (آکوپنچر) سے قابو میں آتے ہیں وغیرہ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ میڈیکل کے شعبے میں بےتحاشا ترقی ہوجانے کے باوجود آج بھی بے تحاشا لاعلاج بیماریاں موجود ہیں، اتنا ہی نہیں بلکہ لوگ ایسی بیماریوں کے سبب بھی ہر روز ہسپتالوں میں مر رہے ہیں جن کا علاج معلوم کی لسٹ میں شمار ہوتا ہے۔ تو اس سب پر کوئی یہ کہے کہ اگر میڈیکل سائنس واقعی مؤثر ہے تو لوگ ان بیماریوں سے کیوں مر رہے ہیں جن کا علاج معلوم ہے یا میڈیکل سائنس فلاں فلاں مسئلے کا حل کیوں نہیں کر رہی؟

پس جاننا چاہیے کہ جادو (یا اس نوع کے دیگر علوم و فنون) کی اثر انگیزی بھی دیگر علوم کی طرح محدود معاملات میں ہی مؤثر ہوتی ہے، وہ بھی ظنی طور پر نہ کہ قطعی کہ ہر ہر معاملے میں یہ لازما سو فیصدی نتائج دکھا کر رہےگا۔ عام طور پر جادوگر اپنے فن کا دائرہ عمل ”دلوں کے پھیرنے“ یا ”غیر مادی اسباب کے ذریعے احوال بدلنے“ جیسے معاملات بتایا کرتے ہیں (مثلا ناخلف اولاد کی اصلاح، محبوب قدموں میں، ساس کو قابو کرنا، رشتوں و روزگار کی بندش وغیرہم۔ قرآن میں میاں بیوی کے درمیان لڑائی ڈلوانے کے حوالے سے اس اثر انگیزی کا خصوصی ذکر موجود ہے) اور بعض اوقات بعض نوعیت کے ”مادی اثرات“ کے پیدا کرنے یا ان کے ضیاع کو بھی اس فن کے ماہرین اپنے فن کا دائرہ عمل بتاتے ہیں (مثلا بعض نہ ٹھیک ہونے والی بیماریوں کا علاج وغیرہ؛ جیسے احادیث میں رسول اللہ ﷺ پر جادو کی وجہ سے جسمانی ضعف کے اثرات مرتب ہونے کا ذکر آتا ہے)۔ چنانچہ ایسی کوئی عقلی وجہ اور دلیل نہیں جس کی بنا پر ان ”مخصوص معاملات“ میں ”مخصوص پیمانے“ پر جادو کی اثر انگیزیت ماننے سے انکار کر دیا جائے۔ ایسا انکار یا تو ہٹ دھرمی کی علامت ہوتا ہے اور یا اس فن کی ماہیت سے لاعلمیت کا اظہار۔ اس وسیع و عریض کائنات میں علل و معلول کے نجانے کتنے سلسلے موجود ہیں، ان میں سے ہر سلسلے کی اپنی جداگانہ حدود ہیں۔ انسان ان سلسلوں میں سے شاید ابھی بہت کم کو دریافت کرسکا ہے۔

سلسلہ “معمہ” میں ایسے 5 کیسس پہلے بھی پوسٹ کئے گئے ہیں جن کا جواب سائنس نے دیا ہے نہ ہی کسی اور علم سے ان کو جانا جا چکا ہے۔ تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کے سائنس کا کوئ وجود نہیں اگر سائنس واقعی ہے تو پر ان معموں کیوں حل نہیں کر دیتی۔

ایک ڈاکٹر صرف اس لئے جادو کو نہیں مانتا کے یہ میڈیکل سائنس کی سمجھ سے باہر ہے تو کیا میڈیکل سائنس بتا سکتی ہے کہ ایک ایسا سیال مادہ جو انسان اپنے آنکھوں سے دیکھنا نہ چاہے اس میں ایسی انرجی کہاں سے آتی ہے کہ نو ماہ تک ایک جان کی خوراک کا انتظام ہو جاتا ہے؟

وہ نظام کس نے بنایا ہے کہ نو ماہ بعد یہ ننھا انسان ماں کے پیٹ سے باہر آنے پر مجبور ہے؟

اس ننھے انسان میں کون ایسی بجلی بھرتا ہے کہ کڑیل جوان بن جاتا ہے؟

دنیا بھر میں دستیاب بہترین خوراک اور ورزش کے باوجود وہ کون سی طاقت ہے جو اس کڑیل جوانی کی بہار کو بڑھاپے کی خزاں میں ڈھال دیتی ہے؟

کڑیل جوان جب ایک بوڑھا انسان بن جا تا ہے تو پانی، خوراک اور آکسیجن وافر مقدار میں موجود ہونے کے باوجود مر کیوں جاتا ہے؟

سائنس یہ کہتی ہے کہ انسان کی زندگی کے لئے خوراک، پانی اور ہوا لازمی ہیں، ہسپتال کے ایک وارڈ میں پچاس افراد موجود ہیں جن میں سے کچھ مریضو ں کے تیماردار ہیں، یہ سب ہوا میں موجود آکسیجن سے سانس لے رہے ہیں اور زندہ ہیں، لیکن صرف ایک انسان ایسا کیوں ہے جسے ڈاکٹر آکسیجن لگانے پر مجبور ہے؟ اور پھر آکسیجن لگانے کے باوجود وہ انسان مر کیوں جاتا ہے؟

جادو کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ کچھ معاملات کو قابو کرسکتا ہے اور کچھ اس کے بس میں نیہں۔

اتنی تحقیق کے باوجود آج بھی انسان جادو کو پوری طرح سمجھ نہیں سکا آج بھی جادو ہزاروں لوگوں کے لئے ایک معمہ ہی ہے. امان سعید خان


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *