پاکستان میرا نقطہ نگاہ

جماعت اسلامی -کیا ہوا-اب کیا کرناچاہیے—-ڈاکٹرظہیرالدین بہرام


محترم سردار جمیل خان صاحب کے ایک مضمون اور مختلف پوسٹس کے جواب میں اپنا تبصرہ احباب کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ سردار صاحب کی آراء کا خلاصہ (جو میں سمجھا ہوں) وہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کو ایک اصلاح پسند جدید جماعت کے طور ملائیت سے دور رہ کر کام کرنا چاہیے اور سیاسی اصلاحات کے حوالے سے عمران خان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ میرا تبصرہ ملاحظہ ہو:

مجموعی طور پر آپ کی آراء سے اتفاق ہے تاہم بعض امور وضاحت طلب ہیں۔
اصل اختلاف اس نکتے پر ہے کہ آپ سیاسی مفادات کے لیے (ملائیت کے نام پر ) اسلامی تشخص سے دستبرداری کا جو مطالبہ فرما رہے ہیں وہ جماعت اسلامی کے بنیادی فکر اور اس کے قیام کے مقاصد سے متصادم ہے۔ ویسے جماعت اسلامی میں ملائیت کا کوئی نام ونشان بھی نہیں اور نہ ہی اس پر کسی مسلک یا فرقے کی چھاپ ہے۔ سید مودودی کے بعد مرکزی امراء کو ہی دیکھ لیں وہ سب کے سب دینی تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل علماء نہیں بلکہ مروجہ تعلیمی اداروں کے تعلیم یافتہ ہیں یہی حال اکثر صوبوں، ضلعوں اور مرکزی شوری کا ہے۔ فکری ملائیت کا الزام لگانے سے بات نہیں بنے گی۔ حقیقت یہی ہے جماعت اسلامی اور ملائیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ ہاں اگر داڑھیاں، نمازیں، اسلامی اقدار اور شعائر سے وابستگی آپ کے نزدیک ملائیت ہے تو اس سے چھٹکارہ دعوت دین کے لیے قائم جماعت کے لیے ممکن نہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ جماعت اسلامی کے اندر دینی جماعتوں کی اتحاد کے نام پر مسلکی اور فرقہ وارانہ جماعتوں کے ساتھ سیاسی مفاہمت کا تصور پایا جاتا ہے جس سے ہمیں بھی شدید اختلاف ہے۔ تاہم جو جماعت اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا علم لے کر میدان سیاست میں کود پڑی تھی اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اسلامی تشخص اور دینی اقدار سے جان چھڑاکر عام سیاسی جماعت بن کر اصلاح کی بات کرے تو کم از کم میرے نزدیک یہ ناممکن ہے۔ لوگوں کی بات چھوڑیں ان کے لیے قابل قبول ہونے کے چکر میں تو جماعت اسلامی کا حلیہ ہی بدل جائے گا۔ جماعت اسلامی اگر ان کے لیے قابل قبول نہیں اور اس میں خامیاں تلاش کرتے ہیں تو ان کو نواز، زرداری، فضلو اور عمران میں کونسی خوبیان نظر آتی ہیں؟ کیا وہ کسی خوبی کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں؟ یہ تو صرف بہانے ہیں اور وہ بھی خوئے بد والے بہانے۔
سوڈان، ترکی، ملائشیا حتی کہ مصر اور مراکش کی مثالیں پاکستانی معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ملائیت کا خول واقعی بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن اس سے نکلنے کے لیے بڑی حکمت اور طویل و صبر آزما ذہن سازی کے عمل کی ضرورت ہے۔ مرحلہ وار تبدیلی کو بھی قدامت پسند معاشرہ ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرتا چہ جائے کہ جدیدیت کا لبادہ اوڑجا جائے۔ آپ کے مطالبے کے مطابق یکایک داڑھیاں منڈھواکر ، گٹار گلے میں ڈالے ماڈرن اسلام کے علمبردار کے طور پر سامنے آئیں گے تو ایک اور تماشہ بنے گا۔ اس لیے بڑی حکمت اور قوم کے مزاج کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی دیرپا لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ ملائیت کا ٹیگ اتارنے کے چکر میں دین بیزاری کو فروغ دینے کا باعث تو نہیں بنا جا سکتا ہے۔ جماعت اسلامی پر ملائیت کی بھپتی کسنے سے پہلے سید مودودی کے فکر و عمل کا از سر نو اور بغور مطالعہ ضروری ہے۔ آپ کے پاس ملائیت کے الزام سے نجات حاصل کا کونسا قابل عمل منصبہ ہے؟ اور اس بات پہ بھی غور کی ضرورت ہے کہ جن باتوں پر ہم دوسری جماعتوں کو ہدف تنقید بناتے ہیں انہی باتوں کا مطالبہ جماعت اسلامی سے کیوں کیا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کی ایک تاریخ ہے اور اس کے کارکنان کا اپنا ایک الگ طرز فکر ہے اور پھر ہمارے معاشرے کے کچھ مجبوریاں ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی مثبت تبدیلی کی کوشش کی جائے تو وہ کامیاب ہو سکتی ہے لیکن صرف خیالی اور مثالی باتوں کی بنیاد پر دوسروں کی دیکھا دیکھی نئے نئے تجربات سے جماعت اسلامی کو فائدہ کے بجائے نقصان کا اندیشہ ہے۔
سیاسی سرگرمیوں کے لیے علیحدہ پلیٹ فارم کا تصور اچھا ہے اور اس پر کافی عرصے سے غور بھی ہور ہا تھا لیکن قاضی حسین احمد صاحب کی طلسماتی شخصیت اور جذباتی طرز فکر کی وجہ سے بغیر مناسب تیاری اور ذہن سازی کے قبل از وقت اسلامی فرنٹ کے قیام کے فیصلے نے جماعت کے اندر پائی جانے والی اچھی جدید فکر کو خراب کرنے کا سبب بنا اور پاکستانی سیاست میں دو خاندانوں کے مقابلے میں تیسری قوت کے طور پر جماعت اسلامی کی گنجائش کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔ اب آپ سمیت نہایت مخلص اور تحریک کو سمجھنے والے لوگ بھی متبادل کے طور جماعت اسلامی کے بجائے عمران کی طرف دیکھتے ہیں اور اصلاحی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بھی ادھر ادھر دیکھتے ہیں۔ یہ سب قاضی حسین احمد مرحوم کے جذباتی فیصلے کا شاخسانہ ہے جو پاسبان اور اسلامی فرنٹ کے قیام کے وقت تجربہ کار اور مخلص کارکنان کو اعتماد میں لیے بغیر بلکہ مرکزی شوری کے مخالفت کے باوجود چند ناپختہ ذہن کے مشیروں (اور بعض جماعت مخالف عناصر جو دو مروجہ قوتوں کے مقابلے میں جماعت اسلامی کو ناکام بنانا چاہتے تھے) کے مشورے پر ہنگامی طور پر کیے گیے فیصلے کی وجہ سے ایک زرین موقع جماعت اسلامی کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اب بھی اگر کوئی نیا تجربہ کرنا ہے تو طویل مشاورت اور دور رس منصوبہ بندی اور مناسب ذہن سازی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ورنہ ایک مرتبہ پھر ناکام تجربے کا مزہ چکھنا پڑے گا اور موجودہ اتحادی سیاست کی پالیسی کو جاری رکھنے کی صورت دوسرے جماعتوں کے لیے ٹشو پیپر کے طور پر استعمال ہوتے رہنا ہی اس کا مقدر بنا رہے گا۔ امید ہے کہ جماعت اسلامی کے فیصلہ ساز افراد و ادارے وقتی فوائد سے بالاتر ہوکر اور اتحادی سیاست سے جان چھڑاکر دور رس اثرات پر مبنی منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی ہمت کریں گے اور جماعت اسلامی کو مقبول خلائق بنانے کے لیے مثبت اور قابل عمل پروگرام ترتیب دیں گے۔
واللہ اعلم۔