پاکستان کیوں بنا اور لوگوں نے عزتیں اور جانیں کس لئے قربان کیں


کمزور قوموں پر قدرت جب مہربان ہوتی ہے تو کرشمے ظہور پذیر ہوتے ہیں. خواب جب تعبیر بن جاتے ہیں تو لوگ حیرت میں ڈوب جاتے ہیں. اللہ تعالی منکروں کواپنی نشانیاں دکھاتا رہتا ہے. پاکستان اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے. مورخ جب قوموں کے عروج و زوال اور فتح و شکست کی داستان رقم کرتا ہے تو وہ متاثرکن واقعات کو تاریخ کی زینت بناتا ہے.

تحریک پاکستان کے وقت امت مسلمہ مقامی اور لسانی قومیتوں اور ملکوں میں تقسیم ہوچکی تھی. ترکوں نے خلافت کی قبا اپنے ہی ہاتھوں سے چاک کردی تھی. عربوں نے عرب قومیت کا پرچم بلند کرکے امت کی وحدت کو پارہ پارہ کردیا تھا عرب وعجم کا فتنہ اپنے عروج پرتھا. مشرق و مغرب کی قوموں نے مذاہب کی بنیادیں ڈھاکر اس کے ملبہ پر رنگ ونسل, حسب ونسب, علاقے اور زبان کے بت نصب کرکے لادین جمہوریت اور سلوشلزم کو ریاست کا دین قرار دیدیا تو دنیا نے بھی اس غالب تہذیب اور نظریے کے سامنے سرتسلیم خم کرلیا.

دنیا ان حالات سے دوچار تھی جب برعظیم کے مسلمانوں نے ایمان و عقیدے اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہند کا مطالبہ کیا مسلم لیگ کی تنظیمی حیثیت ایسی نہیں تھی کہ وہ اپنی تنظیم کی قوت سے مطالبہ منوالیتی اور ابتداء میں مسلم لیگ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت بھی نہ تھی. لیکن جب 23 مارچ 1940 کو لاہور میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور مسلم لیگ نے پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ کا نعرہ لگایا اور مسلمانوں کو خدا, رسول اور قرآن و اسلام کا واسطہ دیکر پاکستان کی حمایت کا مطالبہ کیا تو دیکھتے ہی دیکھتے مسلم لیگ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت بن گئی مسلمانوں کی عظیم اکثریت نے کمزور قوموں پر قدرت جب مہربان ہوتی ہے تو کرشمے ظہور پذیر ہوتے ہیں. خواب جب تعبیر بن جاتے ہیں تو لوگ حیرت میں ڈوب جاتے ہیں.

اللہ تعالی منکروں کو اپنی نشانیاں دکھاتا رہتا ہے. پاکستان اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے. مورخ جب قوموں کے عروج و زوال اور فتح و شکست کی داستان رقم کرتا ہے تو وہ متاثرکن واقعات کو تاریخ کی زینت بناتا ہے. تحریک پاکستان کے وقت امت مسلمہ مقامی اور لسانی قومیتوں اور ملکوں میں تقسیم ہوچکی تھی. ترکوں نے خلافت کی قبا اپنے ہی ہاتھوں سے چاک کردی تھی. عربوں نے عرب قومیت کا پرچم بلند کرکے امت کی وحدت کو پارہ پارہ کردیا تھا عرب وعجم کا فتنہ اپنے عروج پرتھا.

مشرق و مغرب کی قوموں نے مذاہب کی بنیادیں ڈھاکر اس کے ملبہ پر رنگ ونسل, حسب ونسب, علاقے اور زبان کے بت نصب کرکے لادین جمہوریت اور سلوشلزم کو ریاست کا دین قرار دیدیا تو دنیا نے بھی اس غالب تہذیب اور نظریے کے سامنے سرتسلیم خم کرلیا. دنیا ان حالات سے دوچار تھی جب برعظیم کے مسلمانوں نے ایمان و عقیدے اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہند کا مطالبہ کیا مسلم لیگ کی تنظیمی حیثیت ایسی نہیں تھی کہ وہ اپنی تنظیم کی قوت سے مطالبہ منوالیتی اور ابتداء میں مسلم لیگ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت بھی نہ تھی.

لیکن جب 23 مارچ 1940 کو لاہور میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور مسلم لیگ نے پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ کا نعرہ لگایا اور مسلمانوں کو خدا,رسول اور قرآن و اسلام کاواسطہ دیکر پاکستان کی حمایت کامطالبہ کیا تو دیکھتے ہی دیکھتےمسلم لیگ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت بن گئی مسلمانوں کی عظیم اکثریت نے نظریہ پاکستان اور دوقومی نظریہ کو قبول کرلیا اور سر سےکفن باندھ کر میدان عمل میں کودگئے. مسلمانوں نے اپنی علاقائی, لسانی قومیتوں اور ریاستوں کو اسلامی قومیت میں ضم کردیا.

انگریز اور ہندو سامراج نے اتحاد اور جوش وجذبہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے. کلمہ طیبہ کی طاقت,جوش آزادی اتحادملت, بےمثال جرات وہمت قائداعظم کی پرخلوص ولولہ انگیز قیادت اور اللہ کی تائید و نصرت سے پاکستان وجود میں آگیا دنیا حیران تھی مذہب بیزار اقوام کیلئے پاکستان کا قیام حیران کن ہی نہیں پریشان کن بھی تھا تقریبا تمام قوموں نے لادین جمہوریت اور سوشلزم کو قبول کرلیا تھا. مسلم حکمران بھی بلاشریعت مذہب کے قائل ہوچکے تھے یعنی وہ مسلم پرسنل لاء تک محدود ہوگئے اسلام کو ریاست کا دین بنانے سے وہ دست بردار ہوچکے تھے.

پاکستان کاقیام مذہب کی بنیاد پر ہواتھا مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اسلام ضابطہ حیات ہے انسان کے انفرادی و اجتماعی زندگی کا احاطہ کرتا ہے. دنیا نے پاکستان کو تسلیم کرلیامگر وہ یہ بھی دیکھنا چاہتی تھی کہ پاکستان جس نعرہ اور نظریہ پر وجود میں آیا ہے کیا پاکستان ایک ریاست کی حیثیت سے دنیائے اسلام کو عملی نمونہ پیش کرنے میں کامیاب ہوگا. ابتدائی ایام تو پاکستان کی پریشانی کے تھے. لاکھوں لٹے پٹے مہاجروں کی آبادکاری, بھارت کی حیدرآباد دکن, جوناگڑھ اور کشمیر میں جارحیت جیسے مسائل درپیش تھے. بانئ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کو زندگی نے مہلت نہ دی اور اپنا کام پورا کرکے اپنے رب سے جاملے.

بانئ پاکستان کے جانشین شہید ملت لیاقت علی خان نے علماء کے تعاون سے قرارداد مقاصد کے ذریعے مملکت کا قبلہ درست کردیا اور اللہ تعالی کی ذات کو طاقت کا سرچشمہ قراردیکر قرآن وسنت کو سپریم لاء قرار دیا یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکمرانی کی جائیگی. اس جرم کی پاداش میں اسلام دشمن طاقتوں نے سازش کرکے راولپنڈی کے جلسہ میں وزیراعظم لیاقت علی خان کو شہید کردیا.

قائد اعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد طالع آزما جرنیلوں, غود غرض حکمرانوں, مفاد پرست سیاستدانوں,فرقہ پرست مولویوں, انگریز کے غلام جاگیرداروں, دولت کے پجاری سرمایہ داروں, قوم پرست رہنماوں اور فرائض سے غافل عوام پاکستان کے اسلامی فلاحی مملکت بننے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے. ان ضمیرفروشوں نے اپنے ذاتی مفاد اور اقتدار کی خاطر نظریہ پاکستان کو فراموش کردیا انہوں نے تحریک پاکستان کے لاکھوں شہیدوں کے خون سے غداری کی انہوں نے تحریک پاکستان میں جان ومال کی قربانی دینے والے بھارتی مسلمانوں کے ساتھ بیوفائی کی.

انہوں نے دکن اور جوناگڑھ کے بعد سقوط ڈھاکہ کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلیا انکی بزدلی اور بے حسی سے ابتک کشمیر آزاد نہیں ہوسکا. دنیا نے ان حکمرانوں کا مکروہ چہرہ پہچان لیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے مفاد کےلئے اپنے اصول اور نظریات تک قربان کردیئے. دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ جس وعدہ اور نعرہ پر انکے رہنماؤں نے ہندوسامراج اور انگریز سے لڑ کر پاکستان جیسے عظیم مملکت کا انکو وارث بنایاتھا انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ اپنے ذات اور مفاد کے سوا کسی چیز کو اہمیت دینے کوتیار نہیں ہیں انہوں نے معیشت میں سود, معاشرت میں فحاشی و عریانی, بیوروکریسی میں رشوت, سیاست میں دھوکہ فریب اور دغا بازی, حکومت میں اقربا پروری, خیانت,لوٹ مار اور بددیانتی کو رواج دیا.

آج دنیا میں پاکستان کرپشن, جھوٹ, فریب, وعدہ خلافی,بھتہ خوری, رشوت, ٹارگٹ کلنگ, غربت جہالت عدم برداشت میں سرفہرست ہے. آج ہماری نسل نو ہم سے سوال کرتی ہے کہ کیا یہ ہے وہ پاکستان جسکا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا کیا یہ ہے وہ پاکستان جس کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے خون سے لازوال تاریخیں رقم کیں تھیں کیا یہی ہے وہ پاکستان جسے قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں ہندوسامراج اور انگریز سے حاصل کیا تھا کیا یہی ہے وہ پاکستان جس کے لئے سہاگ لٹے. تہذیب وتمدن کے نشان مٹے.

مسجدیں ویران اور خانقاہیں برباد ہوئیں. جس کے لئے عصمتیں پامال ہوئیں اور انکی قربانیوں کا تم نے یہ صلہ دیا کہ ایک متحدہ قوم کو اپنے مفاد کے لئے قومیتوں اور فرقوں میں تقسیم کردیا. خدا اور دنیا کو تم کیا منہ دکھاؤ گے تم وعدہ فراموش اور بد عہد ہو اس ملک نے تمہیں کیا نہیں دیا؟ 70 سال پہلے تم کیا تھے اور اب تم کیا ہو تم سائیکل اور گدھے کی سواری کرنے والوں کچے مکانوں میں رہنے والے روکھی سوکھی کھانے والے ہندووں کے زیردست, انگریزوں کے جوتے چاٹنے والے جاگیرداروں انگریز کی فوج میں ملازمت کرکے اپنوں ہی پر گولی چلانے والوں تمہارے پاس عیش و عشرت کا سامان کہاں سے آیا؟ تمہارے پاس دولت کہاں سے آئی, کیا تمہارے پاس کوئی الہ دین کا چراغ یا قارون کاخزانہ تھا.

تم نے نظریہ پاکستان سے بے رخی برتی. خدانے پاکستان کو نہیں تمہیں زمانے میں رسوا کیا کسی نے آمریت کے نام پر عوام کو غلام بنانے کی کوشش کی تو کسی نے جمہوریت کے نام پر دھوکہ دیا کوئی روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاکر آیا تو کسی نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگایا. سب بے نام ونشان ہوگئے. پاکستان قائم و دائم ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جو اس سے غداری کریگا مٹ جائیگا. دنیا کی ساری کافرو ظالم طاقتیں ملکر بھی پاکستان کو زیر نہیں کرسکتیں.

حکومتیں آتی جاتی رہیں گی مگر پاکستان چٹان کی طرح کھڑا رہے گا اسکی روشنی چہار دانگ عالم پھیلتی رہے گی دنیا کے سارے فرعون ملکر بھی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہم اپنا 70واں جشن آزادی منارہے ہیں آؤ سب ملکر عہد کریں کہ ہم پاکستان کی بقا, سالمیت, استحکام آزادی اور اسلام کے عدل اجتماعی کیلئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کردیں گے
پاکستان زندہ باد اسلام پائندہ باد


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *