والدین کی ذمہ داری—راحیلہ ساجد


‘يار ، ميں نے امی کو بتايا ہے کہ آج ميری ايکسٹرا کلاس ہونی ہے اس ليے ليٹ آؤں گی ۔’ ہاں نا يار مين نے بھی کل صبح 11 بجے کلاس شروع کرنی ہے ليکن ميں نے کسی کو نہيں بتايا جلدی ہی گھر سے نکل آؤں گی ” پھر ايک مشترکہ قہقہ گونجا۔۔

يہ گفتگو بس ميں ميرے پيچھے والی سيٹ پر بيٹھی دو لڑکياں کر رہی تھيں جو ديکھنے ميں کالج سٹوڈنٹس لگ رہی تھيں ۔ ميرے کان کھڑے ہوۓ (جو کہ بہت بری بات ہے ليکن اس وقت ، اس بات نے مجھے تجسس ميں مبتلا کر ديا تھا)۔

پہلی والی کی آواز آئی ‘ کتنے دن ہو گۓ نا ملے ہوۓ وہ ناراض ہو رہا تھا ، گھر ميں بھی فون پر بات نہيں ہو سکتی ہر وقت کوئی نہ کوئی آس پاس ہوتا ہے ۔ کالج سے نکلنا مشکل لگتا ہے ۔ شکر ہے آج جلدی چھٹی ہوئی تو ملنے کا موقع نکل آيا ۔’ دوسری آواز آئی ۔ ‘ سچی سے کيا کريں ، گھر والے نکلنے ہی نہيں ديتے سواۓ کالج کے ۔ اب کوئی موقع تو نکالنا ہی پڑے گا نا ملنے کے ليے ۔ 

ميرا سٹاپ آ گيا تھا ۔ ميں اتر آئی اور گھر کی طرف چل پڑی ۔ راستے ميں  دماغ کو ايک ہی سوچ نے جکڑا ہوا تھا کہ گھر والوں نے ان بچيوں کو کالج بھيجا ہے اور يقينا” بےفکر بھی ہيں کہ بچياں پڑھ رہی ہيں مگر يہ نہيں جانتے کہ بچياں پڑھنے کے ساتھ ساتھ کن کاموں ميں لگ گئی ہيں ؟ اب نہ جانے کس بچی نے کس کو غلط راہ پر لگايا ہے ليکن دونوں اپنا مستقبل داؤ پر لگانے کو تيار ہيں ۔ ايک آج جھوٹ بولے گی ، دوسری کل اور اس طرح جھوٹ بولتے بولتے نہ جانے کس طرف نکل جائيں گی ۔ 

ہم نے بھی سکول کالج سے پڑھا ۔ليکن ہماری ماں (اللہ بخشے) شير کی نظر رکھتی تھی ہم پر ۔ مجال ہے جو ان 14 سالوں ميں کبھی کسی سہيلی کے گھر جانے کی اجازت ملی ہو ۔ ہاں اگر کوئی آۓ تو سو بسماللہ ۔ ادھر ادھر بسوں ، ويگنوں پر جانے کے بجاۓ پکی وين لگی ہوئی تھی جو گھر سے سکول/کالج اور وہاں سے گھر لاتی تھی ۔ کبھی جو ہنستے ہوۓ گھر کی بيل بجائی تو اماں کی گھوری اتنی شاندار ہوتی تھی کہ ہنسی کو بريک لگ جاتے تھے ، اور ان کی اس گھوری کا مقصد صرف يہی ہوتا تھا کہ کوئی غلط بات نہ ہو يا کسی کوغلط موقع نہ ملے ۔ ميری اماں 10 سوال کرتی تھيں ، اس ليے جھوٹ بولنا تو مشکل ہی ہوتا تھا ۔ 
يہ بات ميں نے صرف اس ليے بتائی کہ جو لوگ تعليم کو قصوروار ٹھہراتے ہيں وہ جان سکيں کہ يہ قصور تعليم کا نہيں گھر کے ماحول کا ہے ۔ اگر آپ بچيوں کو سکول بھيج کر فارغ ہو جاتے ہيں ، کوئی چيکنگ نہيں کوئی باز پرس نہيں ، سکول ، کالج سے کوئی رابطہ نہيں ، نہ ہی سہيليوں کے بارے ميں خاص معلومات ، تو ايسی بچيوں کے ليے بھٹکنا بہت آسان ہو جاتا ہے ۔ ہرادارے ميں گمراہ کرنے والے دوست ، سہيلياں موجود ہوتی ہيں ۔ جب بچيوں کو پتا ہے کہ ماں کو سيٹ کرنا مشکل نہيں، اور جن کی ماں ‘اچھا ‘ کہہ کر کے فارغ ہو جاۓ تو ايسی بچيوں کے ليے اپنی حدود سے  نکلنا کوئی مشکل نہيں رہتا۔ باہر جو بھی ہوتا رہے، گھر ميں کسی کو کچھ  پتا نہيں ہوتا ۔  ابا کام پر ہوتے ہيں ، بھائی اپنے اللے تللے ميں مصروف ہو گا ، يا وہ بھی باہر کسی کی بيٹی کو اپنے ساتھ سيٹ کرنے ميں لگا ہو گا تو گھر پر نظر کون رکھے ۔ 
رہی سہی کسر اس موبائل اور انٹرنيٹ  نے پوری کر دی ہے ۔فری پيکيجز نے ان معاملات کو اور آسان کر ديا ہے ۔ والدين کو پتا ہی نہيں ہوتا ، سيل لے کر دے دينے سے ذمہ داری تو پوری کر ديتے ہيں مگر آگے کوئی چيک رکھنے کی ذمہ داری نبھا نہيں پاتے تو معاملات بگڑ جاتے ہيں اور جب پانی سر سے اونچا ہو جاتا ہے تو غيرت جاگ اٹھتی ہے ۔ اس وقت نہ اپنی کوتاہياں ياد رہتی ہيں ،نہ زيادتياں ۔ ياد رہتا ہے تو صرف يہ کہ ہماری بيٹی نے ہماری عزت رول ڈالی ، ہماری بہن نے ہميں کہيں کا نہيں چھوڑا ۔ ميری نظر ميں  يہ قصور نہ اس بچی کا ہے نہ تعليم کا ، قصور صرف گھر والوں کا ہے ۔ جنہوں نے اپنے فرائض صحيح طرح سے انجام نہيں ديے ۔
بات بچيوں سے شروع ہوئی ليکن اس کا مطلب ہر گز يہ نہيں کہ لڑکے دودھ کے دھلے ہيں ۔ وہ شايد لڑکيوں کی نسبت اس آزادی کا زيادہ فائدہ اٹھاتے ہيں کيونکہ لڑکوں کو ويسے ہی ہمارے معاشرے ميں فری ہينڈ ديا جاتا ہے گھر پر بھی اور باہر بھی ۔ ان سے پوچھ تاچھ ذرا کم ہی کی جاتی ہے ۔ ليکن اس کا مطلب يہ بھی نہيں کہ سب لڑکے يا سب لڑکياں ہی بھٹک جاتے ہيں ۔ مضبوط کردار کے لڑکے اور لڑکياں بھی ہم نے ديکھے ہيں ۔ الحمد للہ 
ميری والدين سے گذارش ہے کہ اپنے کان اور آنکھيں کھلی رکھيں تا کہ بچوں کو پتا ہو کہ ہميں چيک کيا جا رہا ہے اور ہم پر نظر رکھی جا رہی ہے ۔ شايد اس طرح بہت سے بچے اور بچياں بھٹکنے سے محفوظ ہو جائيں۔  
تحرير ۔ راحيلہ ساجد


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *