نواز شریف کی واپسی -کیا خطرہ ٹل چکا ہے ؟؟


مسلم لیگ ن کے سربراہ اور سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف پاکستان واپس آچکے ہیں ۔وہ لندن میں اپنی بیمار اہلیہ کلثوم نواز کی عیادت کیلئے گئے تھے ۔ان کی غیر حاضری کے دوران مسلم لیگ ن انتہائی مشکلات کا شکار نظر آئی اور این اے 120 میں ایک موقع پر ایسا محسوس ہوا کہ شاید ن لیگ اپنی مضطوط ترین سیٹ بھی ہارجائے

میاں نواز شریف کی وطن واپسی سے بہت سے افواہیں دم توڑ چکی ہیں۔جہاں ایک طرف دعویٰ کیا جارہا تھا کہ مسلم لیگ ن کی سیاسی بساط لپیٹی جاچکی ہے اور شہباز شریف بھی نااہل ہوجائیں گے اور چوہدری نثار لیگی رہنماؤں کو لیکر ایک نئی پارٹی بنالیں گے۔وہیں دوسری جانب یہ دعویٰ بھی کیا جارہا تھا کہ سیاسی جماعتوں کا کریک ڈاؤن کر کے آئندہ ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم کرنے کی راہ ہموار کی جائے گی جس کے پہلے مرحلے میں شریف فیملی اور پھر پیپلزپارٹی کو بے نظیر شہید کے قتل اور دیگر معاملات میں گھسیٹا جائے گا مشرف کا زداری سے بیان بھی حیران کن تھا جس کے بعد قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئیں۔جبکہ عمران خان ویسے ہی کئی معاملات میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کی نااہلی بھی کنفرم تھی۔

میاں نواز شریف وطن واپس آچکے ہیں اور انہوں نے نیب عدالتوں کا سامنے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سے قبل ایسا ماحول بنادیا گیا تھا کہ شاید میان صاحب واپس نہیں آئیں گے

لیکن شاید خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے ۔میاں نوازشریف اس وقت پاکستان کے ایسے رہنماء ہیں جو کسی بھی ادارے کو “نو” کہنے کی ہمت رکھتے ہیں ۔میاں نوازشریف انتہائی مضطبوط عوامی رہنماء ہیں جن کی مقبولیت پہلے سے کہیں ذیادہ ہوچکی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ انہیں دیگر مسائل میں الجھا دیا گیا ہے ۔نواز شریف کے علاوہ کوئی ایسا رہنماء اس وقت پاکستان میں نہیں ہے جو بیک وقت ملکی اور عالمی صورتحال کو ہینڈل کرسکے اور ملک کے اندر مضبوط اداروں کو بھی نو کرنے کی ہمت رکھتا ہو

میاں نواز شریف نے ماضی میں بھی کئی بار “نو” کیا ہے جس کا خمیازہ بھی انہوں نے بگھتا ہے لیکن نوازشریف نے ماضی کی طرح اپنا موقف برقرار رکھا ہے ۔جو قابل ستائش ہے ۔

اس بار بھی معاملات انتہا تک جاچکے تھے اور قریب تھا کہ میاں صاحب کیساتھ ماضی کی تاریخ دہرائی جاتی ۔اور ڈان لیکس و دیگر معاملات کی کسر نکال لی جاتی لیکن شہباز شریف نے ایسا نہیں ہونے دیا ۔شہباز شریف انتہائی زیرک سیاستدان ہیں وہ مقتدر حلقوں کے بہت قریب ہیں

شاید یہ طے کیا جاچکا تھا کہ میاں صاحب کو اب واپس نہیں آنا چاہیے اور وہ نہیں آئیں گے اور آئندہ حکومت انتہائی کمزور ہوگی جس سے ہر قسم کے فیصؒے کرائے جاسکیں گے

لیکن مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے بیک ڈور رابطوں اور مسلم لیگ کی جانب سے شہباز شریف کی مقتدر حلقوں سے کچھ دو اور کچھ لو پالیسی کے تحت مزاکرات نے اب صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں وزیراعظم کا دوٹوک موقف افواج پاکستان کے بیانیے کی من و عن تشریح تھی اور پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے جس قسم کا دبنگ بیان دیا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ سول و ملٹری حکام ایک پیج پر ہیں۔

اسی دوران سینیٹ میں تحریک انصاف کی خاموش حمایت نے ن لیگ کو موقع فراہم کیا کہ وہ نواز شریف کو دوبارہ پارٹی سربراہ بنا سکے گوکہ اس میں خود تحریک انصاف کا مفاد پوشیدہ ہے۔

بہرحال سیاسی جماعتوں نے آخری وقت پر سیاسی معاملات کو سیاسی طور پر حل کرنے پر اتفاق کر کے ایک اچھی روایت کی بنیاد رکھی ہے۔وگرنہ بقول سعد رفیق عمران خان جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں کہ مصداق معاملات سیاستدانوں کے ہاتھ سے نکل جاتے۔

تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن آئندہ سیاسی سیٹ اپ میں اپنی اپنی اکثریت چاہتی ہیں۔اس لئے دونوں کا براہ راست ٹکراؤ ہوگا ۔لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ دونوں نے اب سیاسی معاملات کو سیاست تک رکھنے کی روش اپنا لی ہے۔

اب صورتحال میاں نواز شریف کے حق میں ہے احتساب عدالتوں سے آج تک پہلے بھی کچھ نہیں برآمد ہوا اور آئندہ بھی ایسی امید رکھنا خوش فہمی ہی ہوگی ۔مسلم لیگ ن کے کارکنان کے لئے خوشی کی خبر ہے کہ کچھ عرصے بعد نواز شریف مقدمات سے بری ہوجائیں گے اور دوبارہ الیکشن میں حصہ لے سکیں گے

آنے والے دنوں میں نواز شریف اہم فیصلے کریں گے اور امید کی جاسکتی ہے کہ سیاست اور جمہوریت مزید مستحکم ہوگی اور ہر ادارہ آئین کے مطابق اپنی حدود میں رہ کر کام کرے گا


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *