مولانا محمد قاسم نانوتوی -وہ خدا کی سر زمین پر حجۃ الاسلام تھا

  • 45
    Shares

 

مولانا محمد قاسم نانوتوی

مولانا محمد قاسم نانوتویمولانا محمد قاسم نانوتوی -جنگ آزادی (۱۸۵۷ء) برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک دردناک باب ہے جس میں جہاں ہزاروں علمائے اسلام اور کلمہ گو لوگوں پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھاکر بے دریغ شہید کئے گئے وہیں اسلامی علوم وفنون اور مسلم تہذیب وشناخت وتشخص کو زخ ہی نہیں پہنچایا گیا بلکہ تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد برصغیر میں مسلمان نہ صرف اخلاقی طور سے پست ہوتے گئے بلکہ دوسروں کے رحم وکرم پر زندگی گزارنے کے علاوہ ان کے ذہنی وفکری طور سے غلام بن کے رہ گئے۔ نیز مسلمانوں کی تخلیقی سوچ اور اجتہادی بصیرت بھی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ اور ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا اور مایوسی چھائی ہوئی تھی۔ ان ہی حالات میں چند عظیم نفوس قدسیہ نے ایک عظیم تعلیمی تحریک یعنی دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھ کر اُمید کی کرن جگائی۔ ان نفوس قدسیہ میں ایک عظیم نام مولانا محمد قاسم نانوتوی کا بھی ہے۔ مولانا

محمدنانوتوی دارالعلوم دیوبند کے فکری اور علمی لحاظ سے سب سے بڑے روح رواں تھے۔


ولادت اور تعلیم وتربیت:

مولانا محمد قاسم نانوتوی مارچ ۱۸۳۳ء میں ضلع سہارن پور کے ایک قدیم مردم خیز قصبہ دیوبند میں ایک معزز صدیقی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد صاحب کا نام شیخ اسد علی ہے، جو نہایت پرہیز گار، صاحب اخلاق، صوم وصلوٰۃ کے بے حد پابند اور کنبہ پرور تھے۔لیکن اسال کے مرض میں مبتلا ہوکر ۱۸۷۵ء میں دیوبند میں وفات پا گئے۔ وہ اگر چہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن اپنے بیٹے کو تحصیل علم کا شوق اور رغبت پیدا کرنے میں کوئی قصر نہیں چھوڑی۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی نے ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں حاصل کی۔

 

وہ بچپن ہی سے ذہین وفطین، جفاکش اور سعادت مند تھے انہوں نے ابتدائی عمر ہی میں قرآن مجید کو حفظ کیا۔ تحریر اور شعر وشاعری سے بھی شغف رہا اور کھیل کود میں بھی آگے رہتے تھے۔
ابتدتائی تعلیم کے بعد مولانا محمد قاسم نانوتوی  سہارن پور چلے گئے جہاں مولوی نواز سے صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں اس کے بعد مزید تعلیم کے حصول کے سلسلے میں دہلی چلے گئے اور کچھ دوسری کتابیں درساً پڑھیں اس کے علاہ مشہور معروف محدث شاہ عبدالغنی سے اصول حدیث اور علم کی تحصیل کی۔

 

دہلی ہی میں انھوں نے مختلف علوم وفنون کی درسی کتابیں مولانا مملوک علی سے پڑھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں کم وقت میں زیادہ اخذ کرنے کی صلاحیت ودیعت کی تھی اس لیے اساتذہ سے جو کچھ بھی پڑھتے تھے فوراََ ازبر ہوجاتا تھا۔ اس دوران مولانا موصوف نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس کے بعد منطق وفلسفہ اور کلام کی کتابیں مرزا زاہد، قاضی مہالک اور شمس بازغہ سے درساً پڑھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دہلی میں عربی کالج میں داخلہ لیا جہاں انھوں نے اپنے صلاحیتوں کا خوب لوہا منوایا۔

فراغت تعلیم کے بعد مولانا موصوف نے مطبع احمدی میں تصحیح کتب کی ملازمت اختیار کرلی، اسی زمانے میں محدث کبیر مولوی احمد علی سیادت پوری صحیح بخاری کا حاشیہ لکھ رہے تھے اور پچیس پاروں تک مکمل کرچکے تھے اس کے صرف آخری پانچ سپارے باقی تھے جو انھوں نے کافی غور وخوض کے بعد مولانا قاسم نانوتوی کے سپرد کئے۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی  نے اسکو ایسا لکھا کہ دیکھنے والے حیرت میں پڑگئے اور کہنے لگے کہ اس سے بہتر حواشے نہیں لکھے جاسکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ مولانا محمد قاسم نانوتوی نے ذاتی مطالعہ اوردرس وتدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔


تواضع وانکساری:

مولانا محمد قاسم نانوتوی جہاں علوم اسلامیہ کا بحر بے کراں تھے وہیں سیرت وکردار کے لحاظ سے بھی اعلیٰ نمونہ تھے مولانا مرحوم سادگی وخاکساری کے عظیم پیکر تھے۔ آپ انتہائی صابر وشاکر بھی تھے، کسی حد تک تنہا پسند بھی تھے اور فطرتاً خوش طبع بھی تھے۔ ان کے مزاج میں سادگی، عاجزی اور استغنا اس درجہ تھا کہ علماء کی مخصوص وضع جبہ ودستاء وغیرہ کا بھی استعمال کبھی نہیں کیا، تعظیم سے بہت گھبراتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ’’اس نام کے علم نے خراب کیا ورنہ اپنی وضع کو خاک میں ملا تاکہ کوئی نہیں جانتا، وہ مسئلہ نہیں بتاتے تھے اور اگر کوئی مسئلہ پوچھتا بھی تو کسی اور کے حوالے کردیتے تھے۔

مولانا قاسمی شروع شروع میں امامت سے بھی گھبراتے تھے لیکن بعد میں ایک مجبوری کے تحت اس ذمہ داری پر فائز ہوگئے تھے۔ وہ خود زیادہ وعظ نہیں کہتے بلکہ دوسروں کے وعظ کی محفلوں میں بیٹھ کر سنا کرتے تھے زہد وتقویٰ ، حلم وبردباری اور صبر وتحمل میں سب سے آگے تھے مولانا محمد قاسم ناتانوی کے استاد مکرم اور مربی اسداللہ مہاجر مکی نے مولانا موصوف کے متعلق فرمایا تھا کہ ’’ایسے لوگ پہلے زمانے میں ہوا کرتے تھے آپ مدتوں سے نہیں ہوتے ‘‘۔ ’’علماء دیوبندکا شاندار ماضی‘‘ کے مصنف کے مطابق مولانا کی سادگی کا یہ عالم کہ بڑے مولانا تو درکنار آپ کی شکل وشہاب اور وضع وقطع سے آپ کو معمولی ذی علم بھی سمجھنا بھی مشکل ہوتا تھا۔ ‘‘

جنگ آزادی اور جہاد:

مولانا محمد قاسم نانوتوی ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اس وقت ان کی عمر ۲۵ سال کی تھی۔ جنگ آزادی مسلمانوں کے لیے ہر لحاظ سے تباہ کن ثابت ہوئی۔ یعنی ۱۸۵۷ء میں مرٹھ چھاونی کے ہندوستانی فوجوں نے سور اور گائے کی چربی سے لگے کارتوس کو منہ سے کھولنے سے انکار کردیا تھا جس کی وجہ سے ۱۸۵۷ء کی بغاوت شروع ہوئی۔ انگریزوں نے ہندوں اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کیا۔

 

فوجیوں نے وہی پر سارے انگریز افسروں کو گولیوں سے بھون ڈالا اس کے بعد فوجیوں نے اعلان کردیا کہ دہلی چلو بہادر شاہ ظفر ہمارا بادشاہ ہے۔ اس کی قیادت میں جنگ کر کے انگریزوں کو وطن عزیز سے باہر نکالیں گے یہ خبر ہندوستان کے کونے کونے تک پہنچ گئی۔ تو ہندوستانیوں کے دلوں میں انگریزوں کی دبی ہوئی چنگاری شعلہ جوالہ بن کر بھڑکنے لگی او اس طرح سے بغاوت شروع ہوئی۔ بغاوت کی یہ آگ پورے ملک میں پھیل گئی۔ اس دوران حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے اپنے رفقاء وشرکاء کار مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا عبدالغنی، مولانا یعقوب نانوتوی، مولانا شیخ تھانوی اور مولانا محمد قاسم نانوتوی سے انگریزوں کے خلاف جہاد کرنے کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا۔

 

کچھ علمائے کرام نے بے سروسامانی کے سبب جہاد میں شرکت نہ کرنے کی رائے دی لیکن اس موقع پر حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی نے کہا کہ ہم اصحاب بدر سے بھی زیادہ سروسامان ہیں گویا وہ مدعیانہ طریقہ جہاد میں شرکت کرنے کے سلسلے میں پیش پیش تھے۔ حضرت امداد اللہ مہاجر مکی نے طرفین کی باتیں سن کر فرمایا کہ الحمد اللہ انشراح ہوگیا۔ جہاد کی تیاری شروع ہوئی۔ امداداللہ مہاجر مکی نے امامت قبول فرمائی اورمولانا محمد قاسم نانوتوی نے سپہ سالار مقرر ہوئے۔ (ملاحظ ہو مولانا محمد قاسم نانوتوی کے تعلیمی تصورات، از ڈاکٹر ایم اعظمیٰ، ص: ۳۳)


دارالعلوم دیوبند کا قیام:

۱۸۵۷ء کی جنگ میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ خسارا اٹھانا پڑا جس میں جانی نقصانات اول نمبر پر ہے۔ اس جنگ میں انگریزوں نے ہزاروں مسلمانوں کو بے دریغ شہید کیا، ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو پھانسی پر لٹکا یا گیا اور بے شمار لوگ گھر سے لاتعلق ہوگئے۔ ایک انگریز مورخ کے مطابق، ستائیس ہزار سے زائد اہل اسلام نے پھانسی پائی، سات دن برابر قتل عام رہا ،گویا نسل تیموری کو باقی نہ رکھا، مٹادیا گیابچوں تک کو مار ڈالا، عورتوں سے جو سلوک کیا بیان سے باہر ہے ،تصور سے دل دہل جاتا ہے۔

(ملاحظ ہو۔ روزنامہ انقلاب کا خصوصی شمارہ: دارالعلوم دیوبند خصوصی پیش کش ۲۹اکتوبر ۲۰۱۵ء)

استعماری قوتوں کا ہمیشہ یہی طرز عمل رہا ہے کہ وہ اپنے مادی مقاصد کے حصول کے لیے انسانی جانوں کو بے دریغ قتل کرتے رہتے ہیں نسل کشی ان کا سب سے بڑا مقصد قرار پاتا ہے۔جنگ آزادی کے ان پر آشوب اور پرفتن حالات میں مسلمانوں کو یأس و ناامیدی سے باہر نکالنے کے لیے ایک ایسی اصلاحی اور تعلیمی تحریک کی ضرورت تھی جو ان کے کھوئے ہوئے امیدوں کو بحال کرسکے۔

چنانچہ ان ہی حالات میں دارالعلوم دیوبند کا وجود عمل میں آیا، دارالعلوم کی ابتدا، اس میں شرکت اور سرپرستی مولانا محمد قاسم نانوتوی  کا ایک بڑا اور عظیم کارنامہ ہے۔ دارالعلوم دیوبند ایک ایسی تعلیمی تحریک کا نام ہے جس نے انگریزوں کے پیدا کردہ ناگفتہ بہہ حالات میں علوم دینیہ کی نشاۃ ثانیہ میں سب سے نمایاں رول ادا کیا ہے یہ مدرسہ حقیقی معنوں میں از ہر ہند ہے۔

اس مدرسہ کی بنیاد ۳۰؍مئی ۱۸۶۶ء میں انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں دیوبند کی ایک پرانی مسجد (چھتہ) کے صحن میں انار کے ایک درخت کے نیچے انتہائی سادگی اور بغیر کسی رسمی تقریب کے پڑی۔ اللہ تعالیٰ نے اس چھوٹے سے مدرسے کو اس کے بانیوں کے زہد وتقویٰ اور بے انتہا خلوص کی بدولت اسی مدرسے کو نہ صرف برصغیر کا بلکہ پوری دنیا کا ایک نمایندہ اسلامی مدرسہ بنایاہے۔

دارالعلوم نے اپنے وجود سے لیکر اب تک ہمہ جہت اور کثیر المقاصد کے تحت متنوع کارنامے انجام دئے۔ اس مدرسہ نے برصغیر میں مسلمانوں کی دینی حالت سدھارنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اس سے اب تک جتنے بھی علماء فارغ ہو
ئے انہوں نے تعلیم وتربیت، تصنیف، وتالیف، قرآن، حدیث، فقہ ، مناظر خطابت، صحافت وحکمت اور طب میں بیش بہا اور قابل داد خدمات انجام دیں۔


میلہ شناسی شاہ جہاں پور:

مولانا محمد قاسم نانوتوی ایک دور اندیش قائد اور حساس عالم دین تھے انھوں نے جس دور اندیشی اور حکمت وبصیرت سے ہر موڑ پر اسلام کی نمائندگی کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ جنگ آزادی کے بعد مسلمان ہر لحاظ سے دب کر زندگی گزارنے لگے اس کا عیسائیوں اور ہندؤں نے بھر پور فائدہ اٹھایا وہ کھلے بندوں اسلام کی فکر وتہذیب اور اس کے عقائد ورسالت پر بے جا اعتراضات کرنے لگے مولانا محمد قاسم نانوتوی نے اس محاذ پر بھی بڑی عمدگی سے جنگ لڑی۔

انہوں نے اسلام کی دفع میں عیسائی پادریوں اور پنڈتوں کے خلاف زور دار مناظر انہ بحثیں کئیں اور ان کو ہر طرف سے لتاڑا۔ اس دور میں مولانا سید ارشد مدنی کے مطابق ہندؤں کی ایک نوزائدہ جماعت آریہ سماج نے خصوصاً اسلام کے خلاف ایک پرزور محاذ کھولا ہوا تھا۔ ان کے پادری اور پنڈت جگہ جگہ عیسائیت اور ہندومذہب کی منادی کرتے اور مسلمانوں کو مناظرہ کا چیلنج دیتے تھے۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی  نے ان کا مقابلہ کرنے، جواب دینے اور ان کے اعتراضات کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔ ۱۸۶۷ء میں منشی پارے لال نے پادری نولین کے حکم پر پہلا بین المذاہب مناظرہ منعقد ہوا۔

اس کا نام میلہ شناسی رکھا گیا۔ اس مباحثے میں مولانا محمد قاسم نانوتوی نے آریہ سماج، سناتن دھرم اور عیسائی پادریوں کے سامنے ایسی پرزور، جامع اور مدلل تقریر کی کہ ان کے ہوش ہی اڑ گئے۔ اس تقریر کے بعد دوسرے مذاہب کے علمبرداروں کو ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اس تقریر کا جواب دے سکے۔

دوسرے سال یعنی ۱۸۷۷ء میں ایک بار پھر بحث ومباحثہ کا یہ فیصلہ منعقد ہوا۔ اس سال یہ میلہ انتہائی شاندار طریقے سے سجایا گیا۔ اس مرتبہ دیسی پادریوں کے علاوہ یورپ سے بھی پادریوں کو بلایا گیا۔ ان پادریوں اور آریہ سماج والوں نے مختلف نوعیت کے سوالا ت اور اعتراضات کھڑا کیےمولانا محمد قاسم نانوتوی   نے اس چیلنج کو قبول کیا اور انھوں نے اس مباحثے میں پورے ایک گھنٹے تک تقریر کی جن میں انھوں نے وجود باری تعالیٰ اور کے صفات، وحدانیت کا ثبوت، تثلیث کا رد، رسالت کی ضرورت، دوسرے تمام ادیان اور ملل کا منسوخ ہونا، وید کا کلام الٰہی کا نہ ہونا ، انجیل ، وغیرہ وغیرہ مسائل پر عقلی ونقلی اور تجربات وشواہد کی روشنی میں اس طرح وضاحت کی کہ تمام مذاہب کے وکلاء اور نمائندے دم بخود اور حیرت زدہ ہو کر رہ گئے۔

ان کی یہ ساری تقریر اسلامی علم کلام کی ایک شاہکار تھی۔ ان مباحثوں کے علاوہ اور بھی متعدد مناظر ے ہوئے۔ جن میں مولانا محمد قاسم نانوتوی نے خاص طور پر ویانند سرسوتی اور پادری اسکارٹ کو بے حد متاثر کیا۔مولانا محمد قاسم نانوتوی نے سرسوتی کے اعتراضات کا بھر پور جواب دیا۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی  کی متعدد کتابیں اور رسالے اسی فتنہ سے متعلق ہے جو آریوں کے جواب میں لکھی گئیں۔

مولانا قاسم نانوتوی کون تھےیہ بھی پڑھیں 


تعلیمی نظریات وخدمات:

انگریزوں نے جہاں ایک طرف مسلح ہو کر ہندوستان کو اپنے پنجہ استبداد میں رکھا تھا وہیں ذہنی اور فکری طور سے بھی ہندوستان کے لوگوں کو بالخصوص مسلمانوں کو فکر اور تہذیبی طور سے مفلوج کر رکھا تھا۔ ہر طرف مسلمانوں میں مایوسی کی گھٹائیاں چھائی ہوئی تھیں۔ اور غم والم کا بازار گرم تھا ان مایوس کن حالات میں عیسائی مشنریوں نے بھر پور فائدہ اٹھایا اور یہاں نہ صرف اپنے منافعہ کی خاطر بے شمار اسکول قائم کئے بلکہ اسلام پر متنوع اعتراضات عائد کر کے لوگوں میں بہت سی غلط فہیماں پھیلائی اور ساتھ ساتھ عیسائیت کو پھیلانے کے لیے کوششیں تیز کردیں۔

 

انگریزوں نے اپنی ذاتی اغراض ومقاصد کی خاطر یہاں کا نظام تعلیم بدل کر رکھ دیا۔ یہاں تک لاڑد مکالے نے علی الاعلان کہا کہ ’’ہماری تعلیم کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو رنگ اور نسل کے لحاظ سے ہندوستانی ہوں مگر دل ودماغ اور طرز فکر کے لحاظ سے انگلستانی ہوں‘‘ انگریز ہندوستان کے ذہن وفکر پر بھی پوری طرح سے غالب آچکے تھے۔ اسی زمانے میں مولانا محمد قاسم نانوتوی نے انگریزوں کے خلاف دو محاذ پر جنگ لڑی ایک تو انہوں نے علمائے کرام سے مل کر انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کا منصوبہ بنایا دوسرے محاذ پر انہوں نے اسلام اور اسلامی تہذیب وثقافت کو تحفظ دینے کے لیے بھی جنگ لڑی۔

انھوں نے دارالعلوم دیوبند کے ذریعے سے ایک شاندار تحریک کا آغاز کیا۔ انہوں نے برطانیہ کے ماہر تعلیم لارڈ مکالیے کو منہ توڑ جواب دیا کہ ’’ہم ایسے افراد تیار کرنا چاہتے ہین جو رنگ ونسل کے لحاظ سے ہندوستانی ہوں مگر ذہن وفکر کے لحاظ سے اسلامی ہوں۔ اسی فکر اور تحریک کو پروان چڑھانے کے لیے مولانا محمد قاسم نانوتوی نے دوسرے بزرگوں کے ساتھ مل کر دارالعلوم دیوبند کی بنیاد ڈالی۔

مولانا محمد قاسم نانوتوی ایک بہترین ماہر تعلیم تھے انھوں نے دارالعلوم کے نصاب میں جہاں عربی، فارسی، قرآن، حدیث، فقہ وغیرہ کو اولین ترجیح دی وہیں ریاضی ، ہندسہ اور علم ہیت بھی نصاب میں شامل کیا۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی نے دارالعلوم کے ایک سالانہ اجتماع میں مدارس کے اغراض ومقاصد پر ایک بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے کہا:’’ان مدارس میں فقط علوم دینیہ پر ہی اکتفا نہیں بلکہ فنون دانشمندی (منطق،حساب، فلکیات، ریاضی وغیرہ) کی تکمیل بھی حسب قاعدہ ساتھ کی گئی ہے جس کا عمدہ نتیجہ پہلے زمانوں میں یہ ہوا تھا کہ بڑے بڑے عالم مربی استعداد وقوت کے ساتھ اہل اسلام میں بکثرت پیدا ہوئے۔

 

مولانا محمد نانوتوی اسلام کے نظام تعلیم کے ذریعے سے معاشرے کی صالح بنیادوں پر تعبیر وتطہیرکرنے کے خوہاں تھے۔ انہوں نے اپنی وسعت اور ظرف کے مطابق دیوبند کے نصاب میں فنون دانشمندی بھی شامل کروایا۔ کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ مستقبل میں ہمیں نت نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔مولانا محمد قاسم نانوتوی نہ انگریزی زبان کے مخالف تھے اور نہ ہی عصری تعلیم کے حصول سے منع کیا۔ کیونکہ وہ اسلام کے ہمہ گیر اورمتنوع تعلیمی تصورات سے نہ صرف واقف تھے بلکہ اس کا بھر پور عرفان بھی انھیں حاصل تھا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ  مولانا محمد قاسم نانوتوی کو معاصر علماء کی طرح اس بات کا خدشہ ضرور تھا کہ کہیں مسلمان عصری علوم وفنون کے حصول کی خاطر اسلامی فکر وعلوم سے نابلد نہ رہے تو اسلامی علوم وفنون کو نظر انداز کرکے مسلمانوں کو اس کا خمیازہ بھکتنا پڑے گا۔


جزبۂ عشق و محبتِ رسول
:

مولانا محمد قاسم نانوتوی  نبی اکرم ﷺ سے بے انتہا محبت وعقیدت رکھتے تھے آپ کے کردار وعمل میں عشق رسول کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی احیائے سنت کے نہ صرف علمبردار تھے بلکہ اللہ کے رسول ﷺ کے ایک ایک سنت مبارکہ سے والہانہ عقیدت واحترام رکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے پوری زندگی میں سبزجوتا اس لیے نہیں پہنا کہ قبہ مبارک بھی سبز رنگ کا ہے لہٰذا جس رنگ میں بھی مطابقت روضہ نبیﷺ سے ہو اس کو پیر میں نہیں رکھا جاسکتا۔


تحقیقی کارنامے:

مولانا محمد قاسم نانوتوی نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کی تھی۔ اس راہ میں انہیں بے شمار صعوبتیں جھیلنی پڑیں۔ انہوں نے دوسرے سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تفصیلی کام بھی جاری رکھا تھا۔ ان کے تصانیف کا موضوع کم وکاست باطل ادیان کی رد اور اس کے مقابلے میں اسلام کی حقانیت پیش کرنا تھا ان کے افادات، تقریریوں اور مکتوبات کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ ان کے چند نمایاں کتابیں اور رسالے یہ ہیں:
۱۔ حواشی صحیح بخاری، ۲۔ مکتوبات نانا توی، ۳۔ مجال قاسمی، ۴۔ الحق الصریح، ۵۔ حجۃ الاسلام، ۶۔ تقریر دل بزیر، ۷۔ آب حیات وغیرہ۔


سفر آخرت:

مولانا محمد قاسم نانوتوی آخری عمر میں بہت بیمار رہتے تھے۔ ضعف نہایت تھا اور بات بھی صحیح طور سے نہیں کرتے ، بخار کی شدت بڑگئی اور بالآخر ۱۸۸۰ء میں اس فانی دنیا سے رحلت فرما کر دارالبقاء کے لیے روانہ ہوگئے۔

 

 


  • 45
    Shares

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *