مذہبی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ کے اشارے


پاکستان ایک ایسی ریاست ہے کہ جو دین کے نام پر وجود میں آئی ۔ بظاہر تو یہی خیال آتا ہے کہ یہاں مذہبی جماعتوں کے علاوہ کسی کی دال ہی نہ گلتی ہو ۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ۔ مذہب ہمارے ہاں سیاست کا ایک انتہائی اہم عنصر ضرور ہے لیکن عوامی شعور میں اضافے کے سبب اب مذہب کے نام پر سیاست چمکانے والوں کے لیے سیاست اس قدر آسان نہیں رہی ۔ ماضی میں اس ملک کے عوام نے مذہبی جماعتوں کا بہت ساتھ دیا ۔

جب بھی انہوں نے پکارا ، عوام گھروں سے نکلے ۔ تحریک ختم نبوت کے لیے تو عوام نے جان ہتھیلی پر رکھ دی تھی اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے مقصد میں گراں قدر کامیابی بھی حاصل کی۔ اس کے علاوہ کشمیر کے معاملے میں بھی جب کبھی مذہبی جماعتوں نے پکارا ، عوام نے لبیک کہا۔ ماضی میں صوبہ سرحد اور بلوچستان میں انہیں حکمرانی کے مواقع بھی ملے (یا دلوائے گئے)۔ لیکن ایسا نہیں ہوا کہ عوام نے انہیں وفاق پاکستان کی حکمرانی کا اہل گردانا ہو ۔ اب تو حالات یہ دکھائی دیتے ہیں کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کو عوام کسی ضمنی الیکشن میں بھی ووٹ دینے کو تیار نہیں ۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ پاکستان بھر میں صرف مذہبی جماعتیں ہی ہیں جن کے سٹودنٹس ونگ سب سے زیادہ فعال اور سرگرم ہیں ۔ میں یہاں خاص طور پہ جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان ) ، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کی مثال دینا چاہوں گا کہ جن کی تربیت گاہیں سکولز ، کالجز اور یونیورسٹیز کی سظح پر بھی قائم ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ بے شمار نوجوان تعلیمی اداروں میں ان جماعتوں کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں ۔ بعض تو بہت اعلی عہدوں تک پہنچ کر ملک گیر شہرت بھی حاصل کر لیتے ہیں ۔

لیکن جب وہ عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں اپنی ‏‏مذہبی جماعتوں کی بجائے دیگر جماعتیں زیادہ مناسب یا شاید بہتر محسوس ہوتی ہیں ۔ مخدوم محمد جاوید ہاشمی ، وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال ، محمد حنیف عباسی ،محمد جان اچکزئی اور محمد اعظم سواتی جیسے بہت سے معروف سیاستدان زندہ مثالیں ہیں ۔حالیہ برسو‏ں کے بلدیاتی انتخابات میں بھی مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کا بھرم نہیں رہا۔ ایسا کیوں ہوا کہ لوگ انہیں اپنی گلی یا محلے کا کونسلر بنانے کو بھی تیار نہیں ؟ عوام ، مذہب سے شدید لگاو کے باوجود مذہبی جماعتوں پر اعتماد نہیں کر رہے ۔ یہ وہ سوال ہے کہ جس پر سوچنا دراصل خود انہی جماعتوں کا کام ہے ، لیکن انہیں شاید اور بھی بہت سے مسائل نے گھیر رکھا ہے ۔

بہت سے سوالات ہیں جو جواب طلب ہیں۔ مثلا یہ کہ ہماری مذہبی جماعتوں نے کبھی ، خواہ حالات جیسے بھی ہو جائیں ، اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی مول لینا پسند نہیں کیا ۔ عام تاثر یہ ہے کہ ان جماعتوں کی تمام تر سیاست دراصل کسی غیبی اشارے کی محتاج رہتی ہے ۔ بعض لوگ خاص طور پر جماعت اسلامی کو نادیدہ ہاتھوں کا انڈیکیٹر کہتے ہیں ۔ انڈیکیٹر بتاتا ہے کہ گاڑی کس طرف مڑنا چاہتی ہے یا کہاں رکنے کا ارادہ ہے۔ چنانچہ اگر آپ کو یہ معلوم کرنا مشکل لگے کہ نادیدہ ہاتھ کس پارٹی یا موقف کی سرپرستی کرنا چاہتے ہیں تو فورا” جماعت اسلامی کی طرف غور کیجئے ۔ وہ جس پارٹی یا موقف کا ساتھ دے رہی ہوگی ، وہی نادیدہ ہاتھوں کی پارٹی یا موقف ہو گا۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ نوے کی دہاءی میں ہر بار منتخب حکومت کے خاتمے سے پہلے جماعت اسلامی سے دھرنا دلوایا جاتا تھا۔ دھرنے بازی کی مکروہ بلیک میلنگ سیاست اسی دور سے ہمارے ملک کی جڑوں میں بیٹھی ہے ۔جنرل پرویز کی آمریت کے دوران مذہبی جماعتوں کا ایک اتحاد ایم ایم اے کے نام سے قائم ہوا، جسے صاحبان نظر کبھی ملا ملٹری الائنس کہتے تھے اور کبھی ملا ملٹری امریکہ۔ صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخواہ) میں اس کی حکومت بنی (یا بنوائی گئی) اور سب نے دیکھا کہ ان کے قائین اسی جنرل پرویز کے ساتھ ملاقاتیں کرتے، تصویریں بنواتے اور معاہدے کرتے نظر آئے کہ جس کی ‏مخالفت کے نام پر سادہ لوح عوام سے ووٹ بٹورے تھے۔ نادیدہ ہاتھوں کو بے نظیر بھٹو اور محمد نواز شریف کا راستہ روکنا مقصود تھا تو اسی ایم ایم اے نے اس حوالے سے قانون میں ترمیم کرنے اور ان دونو کے آئندہ وزیراعظم بننے پر پابندی لگوانے میں جنرل کا ساتھ دیا۔ یہ الگ بات کہ بعد میں آنے والی منتخب پارلیمنٹ نے اس اوٹ پٹانگ ترمیم کا خاتمہ کیا۔

جہاں تک اسلامی نظام کے نفاذ کا تعلق ہے تو الحمدللہ پوری قوم کے باشعور طبقات اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اسلامی نظام ہی ہماری دنیا و آخرت کی نجات کا ضامن ہے ۔ پاکستان کے تمام سیاسی، معاشی اورمعاشرتی مسائل کا حل اسلامی نظام میں ہی پوشیدہ ہے ۔ اسلام کو بطور قانون اپنانے میں ہی ہماری حقیقی نجات اور عزت ہے ۔ ہمارے بزرگوں نے اسلامی نظام کے نفاذ کی امید پر ہی تحریک پاکستان میں حصہ لیا اور خون دیا تھا۔

آج بھی ہم سب اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں کہ ہمارا ملک اسلامی نظام کا گہوارہ اور مرکز بنے ۔ لیکن عوام اس مقصد کے لیے بھی موجودہ مذہبی جماعتوں پر اعتماد کرتے نظر نہیں آتے۔ انہیں یاد ہے کہ جب نادیدہ قوتیں بھٹو کو ہٹانا چاہتی تھیں تب انہی جماعتوں نے بھٹو کے خلاف تحریک کو “تحریک نظام مصطفے (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)” کا نام دے دیا ۔ بھٹو کو ہٹا کر مارشل لاء لگ گیا تو تحریک ختم ہو گئی۔ اور حال ہی میں گزشتہ ماہ جب لاہور کے حلقہ این اے 120 میں ضمنی

الیکشن ہونا تها تو وہ لوگ راتوں رات ملی مسلم لیگ بنا کر کلثوم نواز کا راستہ روکنے کے لئے سامنے آ گئے تهے ، جو ہمیں بتایا کرتے تهے کہ انتخابی سیاست حرام ہے –


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *