متحدہ مجلس عمل کیوں بننا ضروری ہے؟


پیر کے روز جنیوا میں عالمی ادارے یونیورسل پریوڈک رویو (یو آر پی) کے اجلاس میں مختلف ممالک کے نمائندوں نے وزیر خارجہ خواجہ آصف سے درج ذیل مطالبات کیے ۔ کہ
توہین مذھب (یعنی توہین رسالت ) پر سزائے موت ختم کی جائے۔

غیر ملکی این جی اوز پر پابندی ختم کی جائے
اقلیتوں کو انتخابات میں آزادی سے حصہ لینے دیا جائے۔

اقلیتوں کی زبردستی شادی کے واقعات کو روکا جائے۔

ان مطالبات پر خواجہ صاحب کو اس بات پر ڈٹ جانا چاہیے تھا کہ اقلیتوں کو مکمل آزادی ہے – زبردستی شادی کسی کی بھی ہو پہلے ہی سے جرم قرار دی جا چکی ہے – اور رہے پہلے دو مطالبات ان پر کوئی بات نہیں ہو سکتی .. ایسی این جی اوز جن پر ملک دشمن سرگرمیوں کی بنیاد پر پابندی لگائی گئی ان کو کس طرح کام کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے ؟ اسی طرح توہین رسالت کا قانون ہے کہ اس پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی …لیکن خواجہ صاحب نے کہا :
“اجلاس میں پیش کی گئی سفارشات قابل قبول ہیں ”

کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ گڈ گورننس اور ایک خوشحال پاکستان کے حصول کے ساتھ ساتھ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کا تحفظ بھی ایک اہم مسلہ ہے اور اگر یہ ان سیکولر لبرل پارٹیوں پر چھوڑ دیا گیا تو یہ اپنے بیرونی آقاؤں کی ایماء پر پاکستان کو ایک مقروض اور کرپٹ ملک کے ساتھ ساتھ غیر ملکی این جی اوز کی چراگاہ اور ایک نظریاتی بانجھ مملکت بھی بنا کر چھوڑیں گے۔

دریں حالات دینی جماعتوں کے اشتراک عمل اور انکا اسمبلیوں میں ایک مناسب تعداد میں پہنچنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے تاکہ ایک تو فرقہ وارانہ مخاصمت اور قتل و غارتگری کا توڑ ہو اور دوسرا پاکستان کی اسلامی پہچان کو بدلنے کی سازشوں کا مقابلہ کیا جائے نیز آئین میں موجود اسلامی دفعات کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔

سودی معیشت کا خاتمہ، اسلامی قانون سازی پر عملدرآمد، امیر و غریب میں تفاوت اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ، ہر ایک کو قانون کے سامنے برابر کا جوابدہ ہونا، ایک جانور کی ہلاکت تک پر حکمرانوں کی جوابدہی، شاہانہ طرز حکومت اور بڑے بڑے محلات کی بجائے سادہ طرز حکمرانی، بے لاگ یکساں اور سستے انصاف کی فراہمی، معاشرے کے مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کیلیے ریاستی امداد کی فراہمی وغیرہ یہ سب باتیں ایک اسلامی حکومت کے بنیادی کرنے کے کام ہیں۔

ماضی میں MMA حکومت کو گوکہ ایک ڈکٹیٹر کی مخالفت اور موجودہ NFC ایوارڈ کی عدم موجودگی کی وجہ سے خاصے مسائل کا سامنا رہا لیکن پھر بھی اس دور میں kpk میں مفت تعلیم، ہسپتالوں میں مفت ایمرجنسی سہولیات کی فراہمی، بچیوں کیلیے تعلیمی وضائف کا اجراء، پانچ مرلہ اور اس سے کم کے مکانات پر ٹیکس ختم کرنا، پانچ سال صوبے میں سرپلس بجٹ پیش کرنا، غیر سودی بنکاری کیلیےخیبر بنک کا قیام، وفاق سے بجلی کے منافع کا حصول، اسلامی وسماجی قانون سازی کیلیے حسبہ بل کی تیاری و منظوری، عام فرد کی آسانی کیلیے اردو کو سرکاری زبان قرار دینے سمیت کافی انقلابی اقدامات اٹھائے گئے جبکہ دوسری حکومتوں کے برعکس وزراء بھی عوام کی پہنچ میں رہے جن سے ملنے میں عوام کو پہلے کی طرح پروٹوکول کی روکاوٹوں کا سامنا نہ تھا۔

جبکہ خاص طور پر kpk حکومت کی حد تک اتحادیوں کے اندر مکمل ہم آہنگی رہی اور ایک دوسرے کے ساتھ حکومتی معاملات چلانے میں مکمل تعاون رہا۔ ہاں LFO وغیرہ کے معاملات اور 2008 الیکشن کے بائیکاٹ فیصلے نے MMA کو دولخت کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور اگر آج یہ جماعتیں دوبارہ اس اتحاد کے احیاء کے بارے میں سنجیدہ ہوئی ہیں تو یقیناً یہ ایک مثبت اقدام ہے۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *