لبیک یارسول اللہ ﷺ سے لبیک پاکستان تک

  • 9
    Shares

اسلام آبادمیں جاری دھرناخدانہ کرے لال مسجدطرزپراختتام پذیرہو۔گذشتہ کئی روزسے اسلام آبادراولپنڈی میں تحریک لبیک یارسول اورسنی تحریک کی جانب سے دھرناجاری ہے یہ دھرناوفاقی وزیرقانون زائد حامدصاحب کی برطرفی تک جاری رکھنے کااعلان کیاگیاہے ۔دھرنے کے شرکاء کاخیال ہے کہ قومی اسمبلی کے اراکین کے حلف نامے میں ہونے والی تبدیلی کے ذمہ دار،زائدحامد ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگرزائدحامدبرطرف ہوجائے تومسئلہ حل ہوجائے گا؟پاکستان کے آئین میں لکھاہے کہ صدراوروزیراعظم کامسلمان ہوناضروری ہے ۔آرمی چیف ،نیول چیف،ائیرچیف،کسی صوبے کی پولیس کاچیف کسی صوبے کاگورنر،وزیراعلی ،کسی صوبے کی کورٹ کاچیف جسٹس اورسپریم کورٹ کاچیف جسٹس کوئی کافر،عیسائی ،یہودی ،مشرک ،بت پرست الغرض کوئی بھی ہوسکتاہے ۔پاکستان کے ابتدائی دورمیں تینوں مسلح فورسزکے چیف صاحبان غیرمسلم تھے ،

اور1948ء میں محمدعلی جناح صاحب نے جب آرمی چیف کوحکم دیاکہ وہ کشمیرمیں اپنی فوجیں داخل کریں تویہ تاریخی حقیقت ہے کہ غیرمسلم آرمی چیف نے مسلمان گورنرجنرل کی بات ماننے سے انکارکردیاتھا۔تب کلمے کے نام پربننے والی اسلامی ریاست کادوسراہی سال تھااورکلمے کے نام پربننے والی ریاست کاآرمی چیف غیرمسلم تھا۔کیاکمال کی بات ہے نا؟کہ ایک مدینے جیسی ریاست کاسپہ سالارغیرمسلم تھا۔اس کامطلب یہ ہوسکتاہے کہ ،یاتوپاکستان کلمے کے نام پرنہیں بنابلکہ یہ ایک جمہوری قومی ریاست تھایاپھرمدینے کی ریاست سے 14سوسال قبل اگرکوئی کمزوری رہ گئی ہوگی اسے عہدے جدیدمیں پاکستان بنانے والوں نے اپنے اجتہادسے درست کرلیاہوگا۔اوراس کلمے کے نام پروجودمیںآنے والی ریاست کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے اپنے ہم منصب ہندو،وزیراعظم سے صرف تین سال بعدایک معاہدہ کیاجس میں لکھاگیاکہ آج کے بعدجوہندوپاکستان سے بھارت آئے گاوہ ویزالے کرآئے

اورجومسلمان بھارت سے پاکستان آناچاہے وہ ویزالے کرآئے ،یہ سب کیاتھا؟کلمے کے نام پروجودمیںآنے والی ریاست کوصرف چندسالوں میں کیاہوگیاتھا؟جولوگ جدیدجمہوری سیاسی نظام کونہیں جانتے وہ ضروراس بات پرحیران ہوسکتے ہیں،مگرجواشخاص ماڈرن اسٹیٹ کوپڑھ چکے ہیں کہ ایک آئینی جمہوری ریاست کوکیسے چلایاجاتاہے ؟ایک جمہوری ریاست کے اغراض ومقاصد کیاہوتے ہیں؟قومی ریاست کے نزدیک کیاچیز ’’الحق‘‘ کادرج رکھتی ہے ؟ان سوالات کے جوابات سے آگاہی رکھنے والے حضرات کبھی نہرولیاقت سمجھوتے پرحیران نہیں ہوسکتے ۔واپس موضوع کی طرف آتے ہیں۔لبیک یارسول اللہ ﷺ تحریک کادھرناکس مقصد کے لیے ہے؟ یہ سمجھنے سے اب تک کئی لوگ قاصر ہیں۔پاکستان کے آئین کی روشنی میں چیف جسٹس غیرمسلم ہوسکتاہے ۔آرمی چیف غیرمسلم ہوسکتاہے ۔ایک جمہوری آئینی ریاست میں صدراوروزیراعظم کوچیف جسٹس معزول کرسکتاہے ۔یعنی مسلمان صدر،وزیراعظم کوکافرچیف جسٹس برطرف کرسکتاہے ۔مسلمان صدروزیراعظم کوکافرسپہ سالاربرطرف کرسکتاہے ۔ملک میں کافربیروکریٹ کسی بھی اعلی عہدے پرفائرزہوسکتاہے ۔کافرجج مسلمان صدر،وزیراعظم سے حلف لے سکتاہے ؟سوال یہ ہے کہ جب یہ سب ہوسکتاہے،

اوریہ سب آئین پاکستان کے مطابق ہوسکتاہے توپھرزائد حامدکی برطرفی سے کیاہوجائے گا؟دھرنادینے آئے لوگ آئین پاکستان کی تبدیلی کی بات تونہیں کررہے ہیں؟کیاتحفظ ختم نبوت کامطلب زائدحامد کااستعفی ہے ؟یاتحفظ ختم نبوت کامطلب اللہ تعالی اوررسول ﷺکے بتائے ہوئے دین کاہرادارے میں اورہرفردپرمکمل نافذہوناہے ؟پاکستان میں جولوگ بھی عوام کی مذہبیت کواستعمال کررہے ہیںیاکرتے رہے ہیں وہ سنگین غلطی کاارتکاب کرتے آئے ہیں۔ختم نبوت سیاست کے لیے استعمال کرنے کی چیزنہیں ہے ۔آپ عوام کے مذہبی جذبات کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔اوراس طرح ایک وقت آئے گاکہ عوام میں مذہبی جذبات ختم ہوجائیں گے ۔ختم نبوت کاتحفظ دھرنے سے نہیں ہوتا۔پاکستانی ریاست کی مذہبی دلچسپی کااندازہ اس بات سے لگائیں کہ ،

ابھی حال ہی میں سرسیداحمدخان کاسوسالہ جشن پورے پاکستان میں جوش وخروش سے منایاگیا ہے۔ سرسیداحمدخان گستاخ رسول تھامگرعلماء کرام آج تک قوم کوسرسیدسے چھٹکارانہیں دلواسکے ۔سرسیدنے مولاناالطاف حسین حالی کوبتایاکہ رسول ﷺ نے سرسیدکے پاؤں اپنے لب مبارک سے چھوئے ہیں(نعوذوباللہ)،طاہرالقادری نے کہاتھامجھے رسول ﷺ نے حکم دیاہے کہ میں (قادری)ان کوپاکستان کاہوائی جہازکاٹکٹ لے کردو اس پرمذہبی حلقوں نے طاہرالقادری کوجھوٹااورگستاخ کہامگرمذہبی حلقے سرسیدکوپڑھنے کی زحمت سے آج تک قاصر رہے ہیں سرسیدکے اصل الفاظ پڑھیں’’بنجورہی میں‘‘سرسیدنے ایک عجیب خواب دیکھاکہ چاندنی رات ہے اورچاندنکلاہواہے اوروہ اپنے مکان کے سامنے صحن چبوترہ پربیٹھے ہیں۔نگاہ اپنے بائیں پاؤں پرپڑی تودیکھاکہ ان کی پاؤں کی انگلیوں کی ایک ایک پورکٹ گئی ہے ۔مگرکچھ درد نہیں ہے اورنہ اس سے لہوبہتاہے مگرکٹی ہوئی پوروں کے سرجہاں سے کٹے ہیں نہایت سرخ لہوکی مانند ہورہے ہیں۔سرسیدحیران ہوئے کہ اب کیاکروں اتنے میں ایک بزرگ آئے اورانہوں نے ان کٹی ہوئی انگلیوں کے سروں پرلب مبارک لگادیااسی وقت ان کی انگلیوں میں نموشروع ہواسب انگلیاں درست ہوگئیں اوران میں چاندسے زیادہ روشنی تھی،

سرسیدچاندکودیکھتے اوران انگلیوں کودیکھتے اوران میں چاندسے زیادہ روشنی پاتے تھے ۔خواب میں ان کوکسی طرح یقین ہواکہ یہ رسول ﷺ تھے ۔جنہوں نے لب مبارک لگایاتھا۔(حالی،حیات جاویدضمیمہ جات ص،۱۰ لاہورالہجرہ پبلشرز۱۹۸۴ء )یہ سرسیدکے ارشادمیں سے ایک بتایاہے ۔سرسیدنے اپنی زندگی میں مزیدکیاکیافرمایاہے یہ ایک الگ داستان اوراس سرسیدکاسوسالہ جشن ریاست پاکستان نے بھرپورطریقے سے پورے پاکستان میں منایا۔اس پرعلماء نے کوئی موقف کیوں اختیانہیں کیا؟کیااسلام میں سرسیدکی ان گستاخیوں کی اجازت ہے ؟۔ بات یہ ہے کہ تحریک لبیک یارسول ﷺکے رہنماؤں کے اخلاص ،ایثار،قربانی ،دینداری ،پرکوئی دو،

رائے نہیں خاص طورپرخادم حسین رضوی صاحب کے ،وہ ایک باعمل عالم ہیں۔انہوں نے بہت کم وقت میں بہت بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔مگرانہیں اس بات کی طرف ضرورتوجہ دینی چاہیے کہ آخرختم نبوت حلف نامہ میں ترمیم کے خلاف دی گئی کال پراتنے کم لوگ کیوں جمع ہوئے ؟اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کویقین ہے کہ احتجاج اوردھرنے سے پاکستان میں کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔اورعوام نے یہ سبق 69سال کی تاریخ سے سیکھاہے ۔انہوں نے پاکستان میں بڑے بڑے جلسے نکالے ،دھرنے دیئے ،مگران کے حالات تبدیل نہ ہوسکے ۔جوبات عوام کوسمجھ آگئی ہے ،

حیرت ہے وہ بات علماء کی سمجھ میں کیوں نہیں آرہی ؟علماء کاکام فوج اورسیاستدانوں کوگالیاں دینانہیں ہوتا۔علماء کاکام اصلاح کرناہوتاہے ۔وہ مصلح قوم ہوتے ہیں۔تحریک لبیک کے حضرات پاکستان کی 69سالہ سیاسی زندگی میں اٹھنے والی سیاسی تحریکوں کامطالعہ کرلیتے تودھرنانہ دیتے ۔ مگران حضرات نے بغیرجدیدجمہوری سیاسی نظام کوسمجھے اس میدان پرخطرمیں چھلانگ لگادی ۔جوکہ صرف اورصرف نقصان کاباعث بننے گا۔یہ نقصان کسی فردواحدکاہوتاتوہم صبرکرلیتے مگریہ امت کے ان نقصانات کاتسلسل ہوگا۔ جوعرصہ درازسے جاری ہے اوراس کی واحدوجہ جدیدجمہوری سیاسی نظام سے عدم واقفیت ہے ۔لوگوں کے جذبات کواستعمال کرتے رہنے سے مستقبل میں 6ہزارووٹ بھی نہیں ملیں گے ۔تصویرکاایک رخ تویہ بھی ہے کہ تحریک لبیک یارسول ﷺ کاالیکشن کمیشن میں رجسٹرڈنام تحریک لبیک پاکستان ہے۔ کیالبیک یارسول ﷺاورلبیک پاکستان کاایک ہی مطلب ہے ؟یہ نظام آپ کو آپ کی پسندکانام تک رکھنے کی اجازت نہیں دیتاکیااس نظام میں کل خرابی کی وجہ زائد حامدکااستعفی ہے ؟ابھی تواس جماعت کوایک سال نہیں ہوااوراس نے نام کی حدتک توسمجھوتہ کرلیا۔

آگے کیاہوگا؟اس کااندازہ لگانامشکل تونہیں ۔خدانہ کرے کہ تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺوالوں کے ساتھ وہ ہوجولال مسجدوالوں کے ساتھ ہواتھا۔اگرایساہواتومرنے والوں کودفنانے اورزندہ لوگوں کو جیلوں سے چھڑوانے سے زیادہ رہنماء کیاکرسکیں گے ؟آخرمیں مذاکرات ہونگے اوررہنماء کچھ عرصے کے لیے گمنام ہوجائینگے پھرکوئی دلیل کے طورپرکہے گاکہ رسول اللہ ﷺ نے بھی توکفار سے معاہدے کئے تھے ہم نے توپھراپنے مسلمان بھائیوں سے معاہدے کئے ہیں۔

لوگ مرواکرمعاہدہ کرنے سے اچھانہیں ، کہ حضورﷺکے معاہدے کوآج اپنے فیس سیوونگ کے لیے استعمال کرتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہٹ جایاجائے ؟یہ توغنیمت سمجھیں کہ دھرناایسے وقت میں دیاگیاجب مرکزی حکومت کئی مسائل کاشکار ہے ایسے میں وہ کوئی رسک نہیں لے سکتے اوراسی وجہ سے آپ اب تک ریڈزون میں بیٹھے ہیں۔عزت مآپ جملہ رہنماء صاحبان لبیک یارسول اللہ ﷺتحریک سے گزارش ہے کہ جذبات سے نہیں ماضی کے واقعات سے کام لیں۔لوگوں کے جذبات کوکسی اورمناسب وقت کے لیے بچاکررکھیں ۔آپ سادہ اوردیندارلوگ ہیںآپ کوچاہیے کہ آپ مساجداورخانقاہوں سے رشتہ مزیدمضبوط کریں آپ کے لیے نافذنظام کو سمجھناناممکن نہیں مگرمشکل ضرور ہے اوراس کااندازہ اس سے لگالیں کہ اس نظام نے آپ کوتحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ سے تحریک لبیک پاکستان بنادیاہے۔

ادارتی نوٹ : مصنف کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے


  • 9
    Shares

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *