قیام پاکستان،کرپشن کا جن اور ہماری قومی ذمہ داری،عبدالعزیز غوری


قیام پاکستان کے چند سالوں کےبعد ہی کرپشن کاجن بوتل سے باہر آگیا تھا لوگ جلد ہی اپنےشہیدوں کو فراموش کرکے لوٹ مار میں لگ گئے تھےقائد اعظم محمد علی جناح اور شہید ملت لیاقت علی خان کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد حکمران اور سیاست دانوں نے نظریہ پاکستان کو پس پشت ڈال دیا وہ پاکستان کو سیکولرریاست بنانےکی سازش میں مصروف ہوگئے

انہوں نے بانی پاکستان پر بھی شرمناک الزام عائد کیا کہ وہ بھی پاکستان کو اسلامی ریاست کے بجائے سیکولر ریاست بنانا چاہتےتھے بانی پاکستان نے مولانا شبیر احمد عثمانی کو مغربی پاکستان اور مولانا ظفر احمد عثمانی کو مشرقی پاکستان کا پرچم لہرانے کے لئے منتخب کیا تھا بانی پاکستان نے اس عمل کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ میرا اور میرے رفقاء کا کام حصول پاکستان تھا اب یہ علماء کا کام ہے کہ وہ عوام کو منظم و متحد کرکے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے میں اپنا رول ادا کریں.

عوام نے جس طرح اپنے مسلکی اور علاقائی اختلافات بھلا کر تحریک پاکستان میں اپنا کردار ادا کیا تھا اسی طرح پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے لئے عوام کو میدان میں لایا جائے انکی اخلاقی، معاشی اور روحانی حالت کو بہتر بنا کر انکو اسلام کی نشاطِ ثانیہ اور غلبہ اسلام کے لئے تیار کیاجائے

مگر افسوس علماء نےاس مقصد عظیم کو فراموش کر کے اپنے مسلکوں کی سیاسی جماعتیں بناکر اپنےآپ کو عوام سے دور کر دیا بونے سیاسی رہنماؤں نے جب یہ دیکھا کہ پاکستان کے سیاسی افق پر چمکنا بہت مشکل ہےانہوں نے علاقوں اور زبان کی بنیاد پر پاکستان کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی وہ قوم جس نے اسلام کی قوت سے قائد اعظم کی رہنمائی میں متحد ہو کر پاکستان حاصل کیا تھا

وہ سیاسی طور پر سندھی، پنجابی، بلوچی، پختون اور بنگالی قومیتوں میں تبدیل ہوگیا اور مذہبی سطح پر قوم دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، سنی کی دھڑے بندیوں میں گم ہوگئی جب اتحاد انتشار اور محبت نفرت میں تبدیل ہو جائے قومی مفاد پر ذاتی مفاد غالب آجائےجب ایمان و عقیدہ نظریہ قانون نظریہ ضرورت کی بھینٹ چڑھ جائے تو پھر ناخوب خوب سے خوب تر ہو جاتا ہے جس نظریہ کی قوت سے یہ ملک حاصل کیا تھا اسکے ساتھ بد ترین سلوک روا رکھا گیا

یہ حکمرانوں اور سیاستدانوں کی کرپشن بد عہدی اور وعدہ خلافی کی بد ترین مثال ہے کسی بھی قوم کے حکمرانوں نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جو پاکستان کےفوجی اورجمہوری حکمرانوں نےروارکھااس کرپشن اور بد عہدی کی بنیاد فوجی آمر جنرل ایوب خان نے 1958 میں مارشل لاء نافذ کرکے کی قوم کا متفقہ اسلامی آئیین منسوخ کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا

چڑھتے سورج کے پجاری اور ضمیر فروش سیاست دانوں نے اس آمر کے ہاتھ مضبوط کئے 1969 تک اسکا آمرانہ نظام چلتا رہا جب قوم کا دم گھٹنے لگا تو اسکے ظلم و جبر کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اگر یہ قوم کا خیر خواہ ہوتا الیکشن کروا کے اقتدار عوام کے نمائندوں کےحوالے کر دیتا مگر ایک مارشل لاء کا خاتمہ دوسرے مارشل لاء پر ہوا اقتدار یحی خان کے حوالے کردیا گیا

اس نے مارشل لاء کی چھتری کے نیچے انتخاب تو کروائے مگر ملک توڑنے کیلئے 1958 سے ملک ٹوٹنے تک ان فوجی آمروں کا دور تھا کسی بھی عدالت میں انکو بد عہدی کرپشن اور آئین سے غداری کی سزا نہیں دی قوم کے تیس سال دھوکہ باز آمروں نے اور تیس سال دھوکہ باز مکار سیاست دانوں نے برباد کر دئے

کاش جیسی تحریکیں حکمرانوں کے اقتدار کے خاتمے کے لئے چلائی جاتی ہیں ایسی ہی کوئی تحریک نظام مصطفی کیلئے بھی چلتی سود سے پاک معیشت جوا، شراب، فحاشی و عریانی، رشوت وبھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کےخلاف چلتی سماجی انصاف اور عدل ومساوات کیلئے چلتی غریبوں، مزدوروں، کسانوں کو سماج میں برابری کا درجہ دلانے کیلئے چلتی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کامعیار زندگی بلند کرنے کے لیے چلتی مگر ساری جماعتیں اور گروہ اقتدار کے چکر میں پھنس کر رہ گئے جس نظام کو جڑ سے اکھاڑ نے کے نعرہ لگتے رہے اسی نظام کے کل پرزے بن گئے یہ وہ بد نصیب قوم ہے جس سے اسکا نصب العین اور مقصد زندگی جائز اور ناجائز کی تمیز ختم ہوگئ حلال و حرام کے پیمانے بدل گئے

قرآن مجید کی تلاوت باقی رکھ کر کارگاہ حیات سے اسکا تعلق توڑ دیا گیا قوم کے حقیقی رہنما اپنی قوم کو اعلٰی مقصد اور نصب العین کے لئے تیار کرتے ہیں ان میں ایثار اور ہمدردی کا جذبہ پیدا کرتے ہیں انکو بہادر اورجرات مند بناتے ہیں انکو انصاف اور حق و سچ کا علمبردار بناتے ہیں ان میں عزم و استقلال اور صبر و ثبات پیدا کرتے ہیں انکو جریں اور جفاکش بناتے ہیں تاکہ وقت آنے پر وہ اپنے ایمان و عقیدہ اور اپنے وطن کی حفاظت کرسکیں اور دشمن کیلئے لوہےکےچنے ثابت ہوں

مگرافسوس ہے ان رہنماؤں پر جنہوں نے عوام کو بزدلی، خود غرضی اور ذاتی مفاد کا خوگر بنایا افسوس ہے ان پر جنہوں نےووٹ کے تقدس کو پامال کیا جنہوں نےایمان اور ضمیر خریدنے کی منڈیاں لگائیں جنہوں نے ذاتی پسند اور ناپسند پر حق و انصاف کا خون کیا افسوس ہےان حکمرانوں پر جنہوں نے اپنی ہی قوم کو غلام بنایا اور ان مذہبی پیشواؤں پر جنہوں نے اپنی راجدھانیوں کی خاطر رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امت کوٹکڑیوں میں تقسیم کر دیا کاش ہمارے حکمران اور سیاست دان ہمارے دانشور، ادیب اور شاعر، قانون دان اور جج عسکری قیادت اور سول سوسائٹی مذہبی پیشوا، پیران طریقت خانقاہوں کے وارث قرآن و سنت کا پیغام لیکر اٹھتے

ستائے ہوئے مظلوم انسانوں کی داد رسی کرتے کاش ہمارے حکمران حلال پر گزارہ کرتے حرام سے اجتناب برتتے اللہ اور اسکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت کرتے اور طاغوت سےانکارکرتےتو وطن عزیز ان مسائل سےدوچار نہیں ہوتا اب بھی وقت ہے اے اہل وطن انصاف اور آزادی کے علمبردار بنکر اٹھوکشمیرفلسطین اور دنیا کے مظلوم مسلمانوں کی آواز بن کر اٹھو پاکستان کی بقاسالمیت اپنے ایمان و عقیدہ اور تہذیب کےتحفظ کےلئے اٹھو خدا کےآخری پیغام کےپاسبان بن کر اٹھو ساری دنیا کے مظلوم انسان پاکستان کے عوام اور اسکی مسلح افواج کی راہ تک رہے ہیں


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *