عمران خان کے 80 اور 20 فیصد پر تنقید مگر کیوں ؟


گزشتہ روز سے عمران خان کے ایک پرانے بیان کو لیکر بہت زیادہ تنقید کی جارہی ہے جس میں موصوف نے اسمبلی میں بیٹھے داڑھی والے %80 سیاستآنوں کو کرپٹ اور بقیہ 20 % کو مشکوک کہا ہے . یہ پرانی ویڈیو ہے ، کس سے اور کیوں یہ بات ہورہی نہیں معلوم پر بحیثیت سیاستداں عمران خان کو معلوم ہونا چاہئیے کہ آپ ایک اسلامی ملک میں کسی بھی اسلامی شعائر کو لے کر تنقید نہیں کر سکتے پھر چاہے اسکا مطلب کیسا ہی کیوں نا ہو وہ الگ بات کہ اسلامی شعائر کو اپنے سیاسی مقصد کے لئے جیسے چاہیں جتنی بے دردی سے چاھیں استعمالا کریں .

ویسے اس بات پر شور زیادہ اسلئے کیا جارہا ہے کہ یہ بات کہنے والا ایک ” کلین شیو ” شخص ہے . اگر یہی بات کسی داڑھی والے نے کہی ہوتی تو یقیناً اس بات پر تنقید نا ہوتی اور قوی امید تھی کہ شاید قہقہہ لگا کر داڑھی والوں کی کرپشن کے قصے بھی خود داڑھی والے سنا رہے ہوتے . اب میرا تعلق بھی مدارس یا مدارس والوں سے رہا ہے لہٰذا میں تو بہت اچھے سے جانتا ہوں کہ ” مذاق ” کتنا اور کس خطرناک حد تک کیا جاتا ہے اور کسی کو رتی برابر بھی فرق نہیں پڑتا .
حضرت علی نے کہا تھا ” یہ نا دیکھو کون کہ رہا ہے ، یہ دیکھو کیا کہ رہا ہے ”

پر ہم نے یہ معیار بنا لیا کہ ” یہ نا دیکھو کیا کہ رہا ہے ، یہ دیکھو کون کہ رہا ہے ”

زیادہ دور نا جائیں اپنے آس پاس ہی دیکھیں ، میرا جو بھی عقیدہ ہے وہ میرے الله کے بعد میرے قریبی دوستوں کو معلوم ہے لہٰذا انکی کھچائی کرنے کے لئے 12 ربیع الاول والے دن ” جشن عید میلاد النبی مبارک ” کی پوسٹ لگا دی . لمحۂ بھر میں نیچے کمنٹس میں ایسی پوسٹ کرنے پر مجھ پر تنقید شروع ہوگئی ، جو کہ یقیناً میں نے کسی کھاتے میں نا لائی ، پھر کچھ ایسا ہوا کہ کل میرے ایک پسندیدہ اور فیس بک کے معروف کالم نگار نے اپی پروفائل میں ایک بریلوی علم دین کی ویڈیو لگائی جسکی تقریر کا انداز بہت دلچسپ تھا پر تقریر کا موضوع دیو بندی اور اہل حدیث عقائد کے خلاف تھا ، اور یقیناً ویڈیو پوسٹ کرنے کا مقصد انکی تقریر سے محظوظ ہونا ہی ہوگا ، پر وہاں کسی ایک شخص نے بھی یہ نہیں کہا کہ ” جناب یہ تو ہمارے عقیدہ توحید کے خلاف ہے ” ، الٹا مجھ پر تنقید کرنے والوں کے وہاں پر ” قہقہہ ” لگاتے ہوئے سمائیلیز موجود ہیں .

اور معلوم ایسا کیوں نہیں کہا ؟
کیوں کہ وڈپو پوسٹ کرنے والے حضرت دیو بند سے تعلق رکھتے تھے ، گالیاں اور فتوے تب بانٹے جاتے جب یہی ویڈیو کسی مخالف مسلک کیجانب سے ہوتی .

خادم رضوی صاحب کے دھرنے میں ایک شخص نے اپنا خواب سناتے ہوئے کہا کہ مجھے حضور پاک صلی الله علیہ وسلم نے کہا کہ خادم رضوی سے ملنا ایسا ہی ہے جیسے مجھ سے ملنا (نعوذ باللہ)
پر وہاں بیٹھے کسی شخص کو کوئی فرق نہیں پڑا کہ یہ بات انکے اپنے بھائی بندو نے ہی کہی تھی ، وہ الگ بات کہ ایک استاد محض عقیدہ علم غیب سمجھانے یا اس پر بات کرنے سے ہی گستاخ رسول ہوجاتا ہے کیوں کہ وہ ” اپنی ” طرف کا نہیں ہوتا .

نواز شریف مودی سے دوستی کرتا ہے تو وہ غدّار ہوجاتا ہے جبکہ عمران خان انڈیا جا کر کشمیر کے مسئلے کو پس پشت رکھنے کی بات کرے تو بھی اسکی حب الوطنی پر سوال نہیں اٹھتا کہ وہ ” اپنی ” طرف کا ہے .
نواز شریف ہندو کے بھگوان کو اپنے الله سے ملائے تو بھی اسمبلی میں بیٹھے “داڑھی ” والوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا ، پاکستان کو لرل پاکستان بنانے کی بات کرے تو بھی ” اسلامی شریعت ” کے نیاز کا وعدہ کر کے اسمبلیوں میں بیٹھنے والے ” اسلام پسندوں ” کو کوئی فرق نہیں پڑتا ، انتخابی اصلاحات میں سازش کو امریکی سازش کہا جاۓ پر یہ سازش انجام دینے والے کو کچھ نہیں کہنا کیوں کہ وہ ” اپنی ” طرف کے ہیں . پر چونکہ عمران خان ” اپنی ” طرف والا نہیں ہے لہٰذا ” گستاخ ” ہے .

اپنی طرف والے الله کے عرش کو اپنی وکٹ بنائیں یا زولجناح سے پاکستان بنوائیں ، خلفہ راشدین سے خواب میں اپنی سیاسی جماعت کے جھنڈے بٹوائیں یا قرآن کی آیات اور فرشتوں کو لیکر واہیات مذاق بنائیں یا پھر اپنے نکاح میں موجود عورتوں کو غلیظ کہ کر حوروں کے ساتھ فینٹسیز بنوائیں اگر وہ ” اپنی طرف” والے ہیں تو یقین جانیں اسلام کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے پر ہاں اگر وہ ” اپنی ” طرف والے نہیں ہیں تو پھر وہ اگر چوں کو چاں بھی کہ دیں تو ..
گستاخوں کا سر قلم کردیا جاۓ !!!!
بقول شاعر
فرقہ بندی ہے کہیں ، اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ؟


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *