طیارے میں آ خری مسکراہٹ —محمد عباس شاد


چترال سے اسلام آباد جانے والے پی آئی اے کے طیارے نے جب جنت نظیر وادی چترال سے شہر اقتدار اسلام آباد کو اپنی آخری اُڑان بھری، تو اس میں مسکراہٹوں کی ایک کہکشاں آباد تھی۔ عملے سمیت اڑتالیس ہنستی مسکراتی زندگیاں ہوا کے دوش پراپنی منزل کی طرف رواں دواں تھیں۔
سفر مکمل ہونے کے بعدکے منصوبوں کی مٹی گوندھتے ذہنوں کی پرواز طیارے سے بھی اونچی تھی، جیسے جیسے طیارہ ہوا میں بلند ہورہاتھاانسانی ذہنوں کی پرواز طیارے سے اونچی اُڑانیں بھررہی تھی،اسلام آباد سے چند منٹ کی دوری پر حویلیاں کی سرسبز پہاڑیوں کے اُوپر جہاز ہچکولے کھانے لگا۔
بلند پرواز انسانی ذہن لینڈ کرنے لگے، اپنے اپنے سروں کے رن وے پر اترتے تخیلات سے لدے ذہنی طیارے اپنے اپنے ریڈارسے منقطع ہوتے رابطے کو محسوس کرنے لگے تو ان کے چہروں کے تأثرات بدلنے لگے ،موت کے خوف کی آندھیوں نے جب سب کو گھیر لیا ۔ طیارے کو جب آخری جھٹکا لگا ماں کی گود میں شیر خواربچے نے جھٹکا محسوس کرتے ہوئے جیسے کسی نے اس کے ساتھ اٹکھیلی کی ہو،اپنے چہرے پر مسکراہٹ بکھیردی موت کے اندھیرے میں گھری ماں اپنے کھلتے ہوئے پھول کی مسکراہٹ اور موت کے خوف کے درمیان کھڑی بچے اور موت دونوں کو گلے لگارہی تھی۔ اگلے ہی لمحے پہاڑیوں سے دھواں اٹھنے لگا۔
دنیاپہاڑیوں سے اٹھتے دھوویں کو دیکھ رہی ہے میں اپنے معاشرے سے دھوویں کے اٹھتے ہوئے بادلوں کو دیکھ رہا ہوں جن میں انسانی اقدار،روایات اور حمیت گُم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔تباہ شدہ طیارے کے ملبے سے لوگ اپنے اپنےعقیدے اور تعصبات سمیٹ رہے ہیں ۔کسی کو شہادتوں کی خوشبو ملی اور کوئی گستاخ کی مسخ شدہ لاش تلاش کئے بیٹھا ہے،اور میں تباہ شدہ طیارے کی راکھ سے اس معصوم مسکراہٹ کو تلاش کررہا ہوں جو میری قوم کے مقدر کا ستارہ بھی ہوسکتی تھی۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *