سیاسی جماعتوں کیلئے الیکشن 2018 ممکنہ حکمت عملی-احسن سرفراز

  • 26
    Shares

لاہور کا ضمنی الیکشن بیشمار غور طلب پہلو رکھتا ہے، یہ ضمنی الیکشن کچھ جماعتوں کیلیے تو کچھ نیا نہیں لایا لیکن کچھ کیلیے بہت کچھ نیا ہے، ہاں ایک بات طے ہے ہر جماعت کیلیے اس الیکشن میں سیکھنے کیلیے زبردست سبق موجود ہے۔ جو اس سبق کو سیکھ کر اپنی حکمت عملی کوبہتر ترتیب دے لے گا وہ اگلے عام انتخابات کا معرکہ مار سکتا ہے۔

جن جماعتوں کیلیے یہ الیکشن کچھ نیا نہیں لایا اس میں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی شامل ہیں۔ تحریک انصاف کو پچھلے الیکشن سے گو کہ پانچ ہزار ووٹ کم ملے لیکن ٹرن آؤٹ کم ہونے کی وجہ سے اسکی زیادہ اہمیت نہیں۔ ہاں یہ بات ثابت ہوئی کہ وہی پنجاب میں مسلم لیگ ن کی اصل حریف ہے اور اس کا ووٹ بنک 2013 کے مقابلے میں قطعاً کم نہیں ہوا، بلکہ شائد معمولی سا بڑھاہے۔

جماعت اسلامی کو پچھلے الیکشن میں اس حلقے سے 950 اور اب محض چھ سو کے قریب ووٹ ملے۔ اسکا مطلب ہے پنجاب میں اسکی صورتحال قطعاً بہتر نہیں ہوئی اور عمومی عوامی رجحان اسکے حق میں نہیں بدلا۔ جہاں وہ پچھلے الیکشن میں کھڑی تھی آج بھی تقریباً وہیں ہے، جہاں اسکے امیدوار انفرادی حیثیت سے کچھ رابطہ عوام رکھتے ہیں وہاں انکے تحرک کے مطابق اسے کم یا زیادہ ووٹ مل جائے گا لیکن اسکا اکیلے قابل ذکر ووٹ لینا فی الحال ممکن نہیں۔

پیپلز پارٹی کو پچھلے الیکشن کے ڈھائی ہزار ووٹ کے مقابلے میں محض چودہ سو ووٹ ملا جو اس بات کا غماز ہے کہ پنجاب میں اسکے ووٹ بنک بلکہ اکثر الیکٹیبلز کا بھی تحریک انصاف کے ہاتھوں صفایاہو چکا ہے اور مستقبل میں اسکے مزید الیکٹیبلز ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔
جن پارٹیوں کیلیے کچھ چیزیں زیادہ بدل چکی ہیں اسمیں مسلم لیگ ن سرفہرست ہے۔ اسکی لیڈ چالیس ہزار ووٹ سے محض ساڑھے چودہ ہزار ووٹ رہ گئی جبکہ بالترتیب سات ہزار اور چھ ہزار ووٹ دو نئی جماعتیں لبیک تحریک اور ملی مسلم لیگ جو بریلوی و اہلحدیث مکتبہ فکر کی نمائندہ ہیں لے اڑی ہیں۔ یہ وہ ووٹ تھا جو پہلے ن لیگ کی جھولی میں گرتا تھا۔ یعنی اگر یہ جماعتیں نہ ہوتیں تو ن لیگ کی لیڈ پچیس ہزار سے زائد ہو سکتی تھی جو کہ ضمنی الیکشن کے لحاظ سے پہلے جیسا نتیجہ ہی کہلاتا۔

مندرجہ بالا رزلٹ میں اصل سرپرائز خادم رضوی صاحب کی تحریک لبیک رسول اللہ ہے، جو ممتاز قادری صاحب کی شہادت کو بنیاد بنا کر بریلوی ووٹ بنک کو یکجا کرنے کی نیت سے سیاست کے میدان میں اتری ہے۔ جسے ایک نارمل کمپئن اور وسائل خرچ کرنے کے باوجود تیسری پوزیشن ملی۔ جبکہ اس جماعت کو الیکشن سے محض دو تین دن پہلے ن لیگ کی ایک خطرناک چال کا سامنا بھی کرنا پڑا، جب لبیک رسول اللہ فاؤنڈیشن نام کہ ایک ڈمی تنظیم کی طرف سے ن لیگ کی حمائت کی خبر خادم رضوی صاحب کی زعیم قادری کے ساتھ پرانی تصویروں کو نمایاں کرکے چلوائی گئی۔ اس خبر نے یقیناً لبیک تحریک کو خاصہ متاثر کیا اور اگر یہ خبر نہ چلتی تو انکا ووٹ اس سے بھی زیادہ ہو سکتا تھا۔ گو کہ اس جماعت نے اچھے خاصے بریلوی طبقے کو متوجہ کیا ہے لیکن بہرحال انکا یہ ووٹ بنک انھیں اگلے الیکشن میں شائد ہی تن تنہا کوئی سیٹ جتوا پائے۔
ملی مسلم لیگ جو اہلحدیث مسلک کی جہادی و فلاحی تنظیم جماعت الدعوہ کو سیاسی شیلٹر دینے کیلیے بنائی گئی ہے، اس نے بھی اچھا ووٹ لیا۔ لیکن انکا ووٹ پورے پاکستان کی تنظیم کی مالی و افرادی قوت کے مرہون منت رہا۔ عام الیکشن میں جب انکے امیدواروں کو بیک وقت زیادہ نشستوں پر کھڑا ہوناپڑے گا تو انھیں اپنے وسائل کو تقسیم کرنا پڑے گا، جس سے شائد وہ اس الیکشن جیسا مومنٹم نہ بنا پائیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے الیکشن میں ممکنہ صف بندی کیسی ہو سکتی ہے۔ ایک تو یہ صورت ہے کہ دینی جماعتیں مل کر ایک پلیٹ فارم پر الیکشن لڑیں جس سے انکا مشترکہ ووٹ بنک kpk اور بلوچستان میں اکثریتی جبکہ پنجاب و سندھ میں کسی حد تک اچھی خاصی نشستیں جیت سکتا ہے۔ لیکن اتنی جماعتوں کا اتحاد مذہبی جماعتوں کیلیے ایک پل صراط ہو گا۔ کوئی ن لیگ کے کٹر خلاف ہے اور کچھ اسکی حمایتی ہیں۔ اس اتحاد کیلیے مستقبل میں ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہمیشہ مسلہ بنی رہے گی۔ انکے درمیان پھوٹ دینی قوتوں کی جگ ہنسائی کاسبب بنے گی۔ اس اتحاد کا وقتی فائدہ دینی جماعتوں کی جیت کی صورت تو یقیناً ہو گا لیکن دیرپا نقصان شائد ان جماعتوں کو برداشت کرنا پڑے۔

جبکہ ایک صورت یہ ہے کہ پرو ن لیگ اور اینٹی ن لیگ جماعتیں ایڈجسٹمنٹ کے تحت الیکشن لڑیں۔ ایک طرف ن لیگ، JUI, قوم پرست جماعتیں، ANP، ساجد میر اور JUP ہو۔ جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، ق لیگ، تحریک لبیک، ملی لیگ، عوامی تحریک و مجلس وحدت مسلمین آپس میں ایڈجسٹمنٹ سے اپنے امیدوار میدان میں اتاریں۔ اس صورت میں ایک اتحاد کو پرو اسٹیبلشمنٹ اور دوسرے کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا درجہ مل سکتا ہے۔ ایسی صورت میں بہرحال دوسرا اتحاد بھی میدان مار سکتا ہے۔ لیکن اسکا داغ بھی ان مختلف النوع جماعتوں کو برداشت کرنا ہو گا۔ نیز اتنی جماعتوں کا آپسی میں اتفاق رائے سے میدان میں اترنا ایک نوابزادہ نصر اللہ خان جیسے منجھے ہوئے سیاستدان کے بس کی بات ہی ہے، جبکہ یہاں تو مسلہ عمران خان جیسے جذباتی اور قدرے منہ پھٹ لیڈر کا ہے جو ابھی تک انتخابی سیاست میں اپنے اتحادی چننے اور انھیں ساتھ لے کر چلنے میں ناکام رہے ہیں۔ بہرحال پرو ن لیگ جماعتوں کے اندر سیاسی میچورٹی زیادہ ہے اور شائد وہ کوئی انتخابی اتحاد ترتیب بھی دے لیں۔

جبکہ جماعت اسلامی کیلیے آخری صورت یہ ہے کہ وہ اپنے جھنڈے اورنشان پر kpk میں بھرپور اور سندھ و پنجاب میں چند بہتر نتائج کی امید والی نشستوں پر ہی الیکشن لڑے۔جس سے اسکے وسائل و افرادی قوت کو بہتر ترتیب دیا جا سکے۔ اس صورت میں شائد سیٹیں تو اتنی نہ مل سکیں لیکن جماعت کیلیے اپنے فیصلے کھل کر آزادی سے کرنے کی سہولت ہو گی۔

جبکہ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جماعت kpk میں jui اور کراچی و پنجاب میں تحریک انصاف، لبیک رسول اللہ اور ملی مسلم لیگ سے ایڈجسٹمنٹ کرکے الیکشن لڑے اس صورت میں جماعت کو اچھی خاصی نشستیں حاصل ہو سکتی ہیں لیکن اسکا انحصار ان جماعتوں کی رضامندی اورسیٹوں کی بہتر تقسیم پر منحصر ہے۔

خیر یہ تو مختلف امکانات تھے جس پر مندرجہ بالا جماعتوں اور بالخصوص جماعت اسلامی کی قیادت کو غور کرنا چاہیے اور آئندہ آنے والے الیکشن کیلیے ایک بہتر حکمت عملی کے ساتھ میدان میں آنا چاہیے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ جماعت کا بیک وقت پورے ملک میں علیحدہ اپنے نشان سے امیدوار اتارنے کا فیصلہ شائد اتنا مفید ثابت نہ ہو سکے کیونکہ اسکے لیے اسے بے تحاشہ وسائل بھی خرچ کرنا پڑیں گے اور ممکنہ نتائج حوصلہ افزا نہ آنے کی صورت میں اسکے کارکن اور سیاسی ساکھ کو خاصہ دھچکا بھی لگ سکتا ہے۔


  • 26
    Shares

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *