سویلین بالادستی کیسےقائم ہوگی_انس انیس


سویلین بالادستی کے قیام کے لئے اور حقیقی معنوں 
میں جمہوریت کے نفاذ کے لیے ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں سے کوئی بھی مخلص نہیں. بلکہ جماعتی وسیاسی طور پر پر وہ اپنے عمل سے ثابت کر چکے ہیں کہ ان سے بڑا آمر کوئی نہیں. جماعتی سطح پر جمہوریت کے بجائے موروثیت قائم ہے. 

سویلین بالادستی نعروں اور ہوائی باتوں سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے طیب اردگان کی طرح جہد مسلسل کرنی پڑتی ہے. 

اگر نون لیگ یا پیپلز پارٹی کی آرزو یہ ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو سول حکومت کے ماتحت ہونا چاہیے. تو جناب آپ پہلے جمہوریت کا نفاذ اپنی ذاتیات سے تو حقیقی طور پر ممکن بنائیں آپ اپنے عمل سے تو ثابت کریں کہ آپ عوامی امنگوں کا بھرپور خیال رکھیں گے. 

فی الوقت اگر آپ کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے کیونکہ قوم آپ کے نشیب وفراز کو دیکھ چکی ہے آپ فوج کا حال بھی پنجاب یا سندھ پولیس کی طرح کریں گے.

پھر ہر بڑے عہدے پر ایک نیا مشتاق سکھیرا براجمان نظر آئے گا. 

جب حکمران خود جماعت قانون کے بجائے لاقانونیت کو فروغ دینے میں پیش پیش رہے انصاف کی فراہمی کمزور غریب اور مظلوم افراد کے لیے ممکن نہ ہو. 

اگر آج نواز شریف صاحب کے سینے میں سول بالادستی کی خواہشیں ٹھاٹھیں مار رہی ہیں اور ان کے وزراء چپکے چپکے سیاسی خواہش کا اظہار فرما رہے ہیں تو عرض ہے کہ حضور آپ نے خود جمہوریت کو کتنا مضبوط کیا؟ سول بالادستی کے قیام کے لئے آپ نے اس وقت کتنی کوششیں کیں جب آپ اپوزیشن میں تھے.؟ 

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نون لیگ اس وقت مکافات عمل کا شکار ہو چکی ہے. جو گڑھا دوسروں کے لیے کھودا کرتی تھی آج خود اس میں گر چکی ہے. 

اس کی دو مثالیں پیش خدمت ہیں 

1 جب میمو گیٹ سکینڈل میں زرداری صاحب کی حکومت کے خلاف نواز شریف صاحب کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ چلے گئے اس وقت شریفوں کی رعونت دیکھی جا سکتی تھی جیسا پورا ملک فتح کرنے نکلے ہوں. 

2 نواز شریف صاحب اور محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کے مابین معاہدہ ہوا تھا جو جماعت اپوزیشن میں ہو گی وہ آرمی چیف کے ساتھ ملاقات نہیں کرے گی. 

لیکن زرداری صاحب کے دور میں چشم فلک نے وہ منظر دیکھا جب گہری رات کے سناٹوں اور عین تہجد کے موقع پر چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقاتیں کر رہے تھے. 

یہ بھی یاد رکھیے کہ میمو گیٹ اسکینڈل میں شواہد اتنے مضبوط نہیں تھے جتنے ڈان لیکس میں مضبوط ہیں لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے اوپر لگے الزامات کا ڈاٹ کر مقابلہ کیا. 

ڈان لیکس کے معاملے میں ایک ٹویٹ کیا آیا کہ سب کو سانپ سونگھ گیا. 

پیپلز پارٹی میں ساری بیماریاں پائی جا سکتی ہیں لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ انہوں نے کھلے عام سول بالادستی کا نعرہ لگایا اور آج تک اس پر قائم بھی ہیں . 

لیکن شریف صاحبان نے بارہا غیر جمہوری قوتوں کو سپورٹ کیا جس کے متعدد شواہد ہیں. 

میمو گیٹ والے مسئلہ پر ایک حکومت پر غداری کی پھبتیاں کسنا پھر اپنے ہی معاہدے کو توڑ کر وزراء کو آرمی چیف کی خدمت میں نومنتخب سول حکومت کے خلاف سازشیں کرنا چہ معنی دارد . حکومت گرانے کے لیے اشفاق پرویز کیانی اور شجاع پاشا کے ساتھ مراسم بڑھانا بعد میں غیر آئینی اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شریف برادران کس گملے سے نکلے ہوئے پودے ہیں.

جمہوری بالادستی اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک سیاسی جماعتیں خود کو آئین وقانون سے ماوراء نہ سمجھ کر اپنی جماعتوں میں حقیقی معنوں میں جمہوریت نافذ نہ کر لیں. پیپلز پارٹی ونون لیگ میں اکثریت جاگیر دار سرمایہ دار طبقے کی ہے اور اب تحریک انصاف بھی اسی ڈگر پر گامزن ہوتی جا رہی ہے. ایک جماعت کا کچرا دوسری جماعت سمیٹ لیتی ہے تو نتیجتاً وہی جمہوریت پنپنے گی جو نواز شریف صاحب ذرداری صاحب چاہتے ہیں. اور جس نئے پاکستان کا خواب عمران خان صاحب دیکھ رہے ہیں.

 ملٹری کی کرپشن کا احتساب تب ہی ممکن ہو گا جب سیاسی جماعتیں مفادات وذاتیات کی سیاست چھوڑ کر اصولی نقطے پر جمع نہ ہو جائیں. اور جمہوریت کے بنیادی لوازمات کو اپنا نہ لیں. قوم اس وقت فوج کی طرف دیکھتی ہے جب سیاستدان انہیں مایوسی کی دلدل میں لا کھڑا کرتے ہیں پھر ظاہر ایک رد عمل نے جنم تو دینا ہوتا ہے. 

سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات کے پس پشت ڈال کر عوامی مفادات کا خیال رکھیں جماعتی وقومی سطح پر کرپٹ مافیا اور جاگیر دار طبقہ کو باہر نکال کر عام آدمی کو جگہ دیں.کرپشن دھونس دھاندلی جیسے لعنتوں سے دور کر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں. ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈوں اور سیاسی بیانات کے بجائے خدمت خلق کو اپنا شعار بنا لیں تب جا کر سول بالادستی کا خواب پورا ہو گا.  

ایسے تو نہیں ہو سکتا کہ آپ عوامی آرزوؤں کے گلے بھی گھونٹتے جائیں. عوام کا خون بھی چوستے جائیں کرپشن کی گنگا میں غسل بھی فرماتے جائیں اور پھر کہیں سول بالادستی قائم کی جائے تو کہتے ہیں 

بلی کے خواب چھچھڑے 

ایں خیال است ومحال است وجنوں

رؤوف کلاسرا صاحب نے کیا خوب ارشاد فرمایا کہ سویلین بالادستی اس دن ہو گی جس دن سویلین کردار دکھائیں گے.


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *