سراج الحق اور عمران خان میں بنیادی سیاسی فرق


میرا چھوٹا بھائی جو ماشاء اللہ سے18 سال کا ہوچکا ہے۔وہ اکثراپنے دوستوں کیساتھ جماعت اسلامی کے جلسوں میں جاتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ جاتا چھپ کر ہے اور ایک آدھ دن بعد تصاویر سے معلوم پڑتا ہے کہ موصوف جلسہ اٹینڈ کرچکے ہیں۔

کل ویسے ہی اچانک اس نے سوال پوچھا : بھائی سراج الحق اتنی مشکل باتیں کیوں کرتا ہے؟؟ ہمیں تو آج تک ان کی باتیں سمجھ نہیں آئیں؟؟
اب میں حیران کہ سراج صاحب کہاں اتنی مشکل گفتگو کرتے ہیں بہرحال پوچ ہی لیا کہ ایسا کیا کہہ دیا سراج صاحب نے؟؟

تو بھائی نے بتایا کہ سراج صاحب ہر بار کہتے ہیں مٹھی بھر اشرافیہ نے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔یہ مٹھی بھر اشرافیہ کون ہے یہ نہیں بتاتے۔ہمیشہ کہتے ہیں احتساب سب کا ہونا چاہیے۔لیکن کس کس کا، کیسے اور کس طرح یہ نہیں بتاتے۔ہمیشہ کہتے ہیں کرپشن ناسور ہے لیکن کرپشن خاتمہ کیسے ہوگا یہ نہیں بتاتے۔

میں نے پوچھا تو اس میں مسئلہ کیا ہے؟؟

تو بھائی نے حیران کن جواب دیا کہ
یہی باتیں عمران خان بھی کرتا ہے لیکن عمران خان بتاتا کم اور سمجھاتا ذیادہ ہے ۔عمران خان نے ہی سمجھایا کہ شریف فیملی نے کیسے کرپشن کی. اسی نے سمجھایا کہ پاناما کیا ہے۔اسی نے سمجھایا کہ کرپشن کیا ہوتی ہے۔اس نے ویڈیوز کے ذریعے سمجھایا۔مثالیں دے دے کر سمجھایا۔ہمیں عمران خان کی ہر بات سمجھ آجاتی ہے لیکن سراج الحق کی نہیں آتی۔
خیر اب میں بھائی کو کیا جواب دیتا خود ہی غور کرنے بیٹھ گیا۔
واقعی جماعت کی تنظیمی ساخت اسے عوامی کے بجائے مخصوص دائرہ کار میں مقید رکھے ہوئے ہے۔

سراج الحق عوامی رہنماء نہیں ہیں۔سراج الحق جمعیت میں ایک عرصہ رہے ۔جمعیت کا ایک خاص ماحول ہے۔انسانی فطرت ہے انسان جس ماحول میں طویل عرصہ رہے ۔اسی میں سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔

جمعیت کے بہت ہی کم لوگ پبلک فگر یعنی عوامی ہوتے ہیں۔ذیادہ تر لوگ ایک خول کے اندر مقید رہتے ہیں۔یہ خول یقیناََ اچھا ہے ۔کہ فضول گوئی سے پرہیز، کام سے کام رکھنا، ہر چیز کو بہتر سے بہتر بنانے کی جستجو، لوگوں کے رویے سے سیکھنا، لوگوں کو مینج کرنا اسی خول کا فائدہ ہے۔

لیکن نقصان یہ ہے کہ ایک عام بندے سے ایک عام طالبعلم سے دور ہوجاتے ہیں۔معاشرے کا ایک عام نوجوان بہت سے معاشرتی برائیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔اس کی نسبت جمعیت کا رکن بنتے بنتے بندہ آدھا مولوی بن چکا ہوتا ہے۔دونوں کے درمیان جو خلیج پیدا ہوچکی ہوتی ہے اسے پاٹنا بہت مشکل امر ہے۔

دوسرا جمعیت کے افراد کی دوستیاں بھی صرف آپس میں ہوتی ہیں۔ان کی گیدرنگ بھی خود تک ہی ہوتی ہے۔نتیجہ ایک مخصوص شعوری سوچ کے پروان چڑھنے کی صورت میں نکلتا ہے۔
خیر جمعیت کو ان چیزوں سے اس لئے مسئلہ نہیں ہوتا کہ جمعیت کا کام طلبہ میں ہے اور طلبہ ویسے بھی عام لوگوں سے اچھی سوچ اور وسعت قلبی کے مالک ہوتے ہیں۔اس لئے جمعیت میں اِدھر دس لوگ تعلیم مکمل کر کے جائیں تو 20 اور آجاتے ہیں۔

لیکن مسئلہ جب ہوتا ہے جب

یہی لوگ جب جماعت اسلامی جیسی سیاسی جماعت میں جاتے ہیں تو اپنے لگے بندے سسٹم اور کام سے کام رکھنے کی فطرت انہیں عام عوام میں ایڈجسٹ نہیں ہونے دیتی۔

جماعت کے اجتماعات میں بھی انتہائی محتاط گفتگو کرتے کرتے بندہ نپے تلے الفاظ بولنے کا عادی ہوجاتا ہے اور جماعتی اردو اتنی ثقیل ہے کہ ایک عام عادمی تین دن کا بھی سوچتا رہے تو اسے سمجھ نہیں آئے گی۔

اب ایک مخصوص ماحول سے اٹھ کر آنے والا سراج الحق ہمیشہ سے پڑھے لکھے جماعتیوں سے خطاب کرتے اور ان کو مینج کرتے اوپر آیا ہے۔اس لئے سراج الحق کو عام عوامی حرکیات کا علم اس طرح سے نہیں ہے جیسا کہ ہونا چاہیے۔

سیدمودودی رح اپنے وقت میں اس لئے کامیاب ہوئے کہ انہوں نے کمیونیکشن کا سہل سے سہل اور عوام فہم میڈیم اپنایا۔سید کی کتب اپنے وقت کے لحاظ سے آسان ترین اور عام فہم تھیں۔

وہ ہر بات کو مثالوں اور واقعات کے ذریعے سمجھاتے تھے۔گوکہ آج کے دور میں ان کی اردو مشکل معلوم ہوتی ہے لیکن ان کا سلوب ایسا زبردست تھا کہ بھاری الفاظ کے باوجود بات ناصرف سمجھ آتی ہے بلکہ دماغ میں بیٹھ بھی جاتی ہے۔

جبکہ آج دیکھ لیں سراج الحق ہوں یا لیاقت بلوچ صاحب ان کا خطاب ایسا ہوتا ہے جیسے ان کے سامنے عام عوام ہے ہی نہیں بلکہ ان کا مخاطب جمعیت کا پڑھالکھا نوجوان اور سمجھدار جماعتی کارکن ہے۔
لیاقت بلوچ نے ایک جلسے میں پاک بھارت تعلقات اور سی پیک پر ایسی ماہرانہ گفتگو فرمائی کہ بین الاقوامی تعلقات کا طالبعلم ہونے کے باوجود میں چکرا کررہ گیا اور میں نے کہا ان کو تو وزیر خارجہ ہوناچاہیے تھا۔لیکن جب جلسہ گاہ پر نظر دوڑائی تو آدھے لوگ سورہےتھے۔اور کچھ دعائیں مانگ رہے تھے۔

اور کچھ ہونقوں کی طرح ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔اور جن گنے چنے لوگوں کو سمجھ پڑی تھی۔وہ فخر سے چوڑے ہوئے ہوئے تھے کہ یہ ہے ہماری قیادت جو عالمی وژن رکھتی ہے۔

سائیں بات یہ ہے کہ لیڈر علیحدہ شے ہوتی ہے۔ایڈمنسٹیٹر اور منیجر علیحدہ شے ہیں۔کسی بنے بنائے سسٹم کو مینج کرنا اور ایڈمنسٹیٹر بن جانا بڑی بات ہے اور جمعیت و جماعت کیں ایسے لوگوں کو آگے لایا جاتا ہے جو دوسروں کو چلاسکتے ہوں ۔لوگوں کو مینج کرسکتے ہوں۔

لیکن ایسے لوگوں کو بہت کم ترجیح دی جاتی ہے جو اچھے منیجر تو نہ ہوں لیکن نئے لوگوں کو بڑی تعداد میں اپنا گرویدہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنا سیٹ خود بناتا ہے۔جو فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کرتا۔سیدمودودی رح لیڈر تھے۔انہوں نے عالم اسلام کو لیڈ کیا۔
اب خود سوچیں عمران خان، سراج الحق اور نواز شریف کے پاس ایک جیسے وسائل موجود ہیں۔اسٹیج موجود ہے۔میڈیا موجود ہے۔ٹیم موجود ہے۔
لیکن عوام نواز شریف اور عمران خان کی دیوانی کیوں ہے؟؟

یہ لوگ جہان جاتے ہیں عام عوام دوڑی چلی آتی ہے۔

آخر سراج الحق کے ساتھ یہ معاملہ کیوں نہیں ہے؟؟

لیڈر کیا ہوتا ہے اس پر ایک علیحدہ مضمون لکھوں گا لیکن جماعت اسلامی کے احباب کو اپنا تجزیہ کرنا چاہیے کہ کیا ان کا ۔مزاج عوامی ہے؟؟ کیا وہ اپنا میسج ڈلیورکررپارہے ہیں؟؟


You may also like...

1 Response

  1. ISRAR AHMAD says:

    تنویر اعوان بھائی آپ نے بہت اچھا کالم لکھا ۔مگر آپکی علمی اسٹوریج میرے نزدیک بہت کم ہے ۔آپ نے صرف ایک اینگل سے سراج الحق صاحب اور عمران خان صاحب کا تجزیہ کیا ۔آپ اگر ان دونوں کا ہر لحاظ سے مطالعہ اور مشاہدہ کرتے تو حقیقت آپکو مل جاتی ۔مگر آپ نے ان ساری چیزوں کا مشاہدہ نہیں کیا ۔شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *