سانحہ بلوچستان – بابا چوڑیاں کب لائیں گے ؟


عید الاضحیٰ کے دن جویریہ نے پچھلی عید والے کپڑے پہننے سے انکار کر دیا ۔ماں نے لاکھ سمجھایا ، منتیں کی، لالچ دے کر بہلانے کی کوشش بھی کی لیکن بچی ایسی ضدی نکلی کہ ہر چیز کو مسترد کر کے صرف یک نکاتی مطالبے پر قائم تھی کہ آج مجھے نیا جوڑا چاہیے۔
بابا عید پڑھ کے آئے ، اپنی دھی رانی کو میلے کچیلے کپڑوں میں دیکھا تو اس کی ماں سے وجہ پوچھی ۔

جویریہ کے بابا کے پاس بھی کوئی جواب نہیں تھا، بلوچستان میں مزدوروں کے قتل ہونے کے بعد ان کا کام دھندہ بند تھا اور کمائی نا ہونے کے برابر ۔ لیکن شادی کے دس سال بعد پیدا ہونے والی اپنی بیٹی کو یوں مضطرب دیکھنا بھی محال تھا ، ایک طرف بیٹی کی چھوٹی سی خوہش اور دوسری طرف اپنی بے بسی، نجانے کب اسکی آنکھوں سے دو آنسو اس کے دامن کو بھگو گئے ۔ سچ کہا گیا ہے کہ مرد جب روتا ہے تو مصیبت پہاڑ جتنی ہوتی ہے اور جویریہ تو اس کی دنیا تھی

خیر بابا نے جویریہ کو بلایا، منتیں کی گئیں، دادا کی سفارش ڈلوائی گئی لیکن بچی تھی کہ مان کر نہیں دے رہی تھی بالآخر طویل مذاکرات کے بعد جویریہ اس شرط پر پرانا جوڑا پہننے کیلئے راضی ہو گئی کہ بابا اس بار جب نوکری سے گھر آئیں گے تو ویسی ہی لال چوڑیاں جویریہ کیلئے لائیں گے جیسی محمد دین کریانے والے کی بیٹی نے اپنی شادی پہ پہنی تھی۔

عید خیر خیریت سے گزری تو بابا نے سوچا کہ اب حالات کچھ نارمل ہیں اس سے پہلے کہ نوبت فاقوں پہ آئے کیوں نا اپنے کام پہ واپسی کی جائے اور ویسے بھی اسے اپنی بیٹی کیلئے لال چوڑیاں بھی تو لانی تھی نا……

بابا کو گھر سے آئے لگ بھگ دو ماہ ہو چکے تھے اور اس دوران جویریہ کے بابا کے پاس اتنے پیسے بھی جمع ہو چکے تھے جس سے وہ چوڑیاں خرید پاتا اور اُدھر گھر سے جب بھی فون آتا تو جویریہ اپنی معصوم سی خواہش پورا کرنے کا مطالبہ بھی دہراتی ۔

بابا نے مالکان سے چھٹی طلب کی جو تھوڑی پس و پیش کے بعد مل گئی۔بابا فورا قریبی بازار پہنچے اور جویریہ کیلئے لال چوڑیاں خریدنے کے بعد گھر فون کیا اور جویریہ کو چوڑیوں کی کھن کھن سنائی ۔ جویریہ کی خوشی دیدنی تھی بابا نے فورا واپسی کا سفر شروع کر دیا

لیکن راستے میں ہی انسانیت کا انتقال ہو گیا ، جویریہ کے بابا کو بھی اسکی بھینٹ چڑھنا پڑا کیونکہ اس کے شناختی کارڈ پر پنجاب کا پتا درج تھا۔جویریہ کے بابا گھر آ گئے تھے اور وہ محمد دین کریانے والے کی بیٹی جیسی لال چوڑیاں بھی ساتھ لائے تھے لیکن ان لال چوڑیوں پر اس کے بابا کے خون کی لالی غالب تھی۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *