رضوی صاحب نہ کریں ! اسلام بدنام ہورہا ہے


Tanveer awanجی ہا ں سنا ہے کہ اسلام آباد میں ایک شخص نے دھرنا دے رکھاہے۔اس کانام خادم حسین رضوی بتایا جاتا ہے ۔سنا ہے کہ وہ پاؤں سے معذور ہے ۔سنا ہے وہ سخت سردی اور بارش میں بھی کسی ہیٹر والے کنٹینر میں نہیں سوتا بلکہ عامیوں کے ساتھ سوتا ہے ۔سنا ہے وہ تھوڑی سخت زبان استعمال کرتا ہے ۔سنا ہے وہ لوگوں سے لبیک یارسول اللہ کے نعرے بھی لگواتا ہے ۔سنا ہے اس نے دھرنا ختم نبوت کے حلف کی شق میں ترمیم کے خلاف دیا ہے ۔سنا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ شق میں ترمیم کرنے والے ذمہ داران کا تعین کیا جائے ۔سنا ہے اس نے وزیر قانون کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔سنا ہے خادم حسین رضوی کے دھرنے میں آیا آیا محمد عربی کا دین آیا کے نعرے لگتے ہیں ۔سنا ہے وہاں زکر مصطفیﷺ ہوتا ہے۔سنا ہے وہاں نعتیں پڑھی جاتی ہیں ۔سنا ہے وہاں درود وسلام پڑھا جاتا ہے۔لیکن خادم حسین رضوی صاحب نہ کریں ! اسلام بدنام ہوتا ہے۔

سنا ہے اسی شہر اسلام آباد میں عمران خان نے بھی دھرنا دیا۔اس نے 126دن تک دھرنا دیا۔کہنے والے کہتے ہیں کہ دھرنے میں لڑکیاں ناچا کرتی تھی۔ڈسکو گانے چلا کرتے تھے۔اسٹیج سے جو بداخلاقی ہوتی تھی اس کی نظیر نہیں ملتی۔سنا ہے دھرنے سے “غیراخلاقی” اشیاء بھی ملی تھیں۔سنا ہے کسی نے نوٹس نہیں لیا تھا۔سنا ہے اسلام آباد کے لاکھوں ںں لوگوں کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی تھی ،سنا ہے اسلام بدنام نہیں ہوا تھا ۔سناہے پاکستان کی جگ ہنسائی نہیں ہوئی تھی ۔سنا ہے پاکستان کا نام روشن ہوا تھا۔بہت کچھ سنا ہے ابھی اتنا کافی ہے۔رضوی صاحب نہ کریں !اسلام بدنام ہورہا ہے ۔

سنا ہے ہمارے ملک کے اکثر ممبران اسمبلی کو سورہ اخلاص بھی نہیں آتی۔سنا ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیر اعظم آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتا۔سنا ہے ہمارے ملک کا وزیر اعظم صادق اور امین نہیں ہے ۔سنا ہے اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں کا ورد کرنے والا گانوں پر ناچتا ہے۔سنا ہے حضرت عمررضی اللہ عنہ کی مثالیں دینے والے کے صوبے میں لڑکی کو ننگا کر کے گھمایا گیا لیکن وہ ایک لفظ بھی نہیں بولا۔سنا ہے پارلیمنٹ میں شراب کی بوتلیں برآمد ہوئی تھیں ۔سنا ہے ممبران اسمبلی اکثر ہیرا منڈی جاتے نظر آتے ہیں ۔سنا ہے دیہی علاقوں میں خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔سنا ہے تھر میں بچے بھوک سے مرتے ہیں ۔سنا ہے ایک ملکی رہنما ہم جنس پرستی کا حامی ہے۔سنا ہے کسی امریکی نے کہا تھا کہ پاکستانی پیسوں کیلئے اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں ۔

سنا ہے کسی مولوی نے امریکیوں کو کہا تھا کہ وزیر اعظم بنوا دو اس کے بعد جو چاہو کرو میں تمہارے ساتھ ہوں ۔سنا ہے پاکستانیوں کی اکثریت نماز نہیں پڑھتی۔سنا ہے پاکستانی دونمبریوں میں دنیا میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں ۔سنا پاکستانیوں کی بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر علیحدہ چیکنگ ہوتی ہے ۔سنا ہے نااہل وزیر اعظم نے کہا تھاکہ قادیانی ان کے بھائی ہیں ۔سنا ہے ایک وزیر نے کہا ہے کہ قادیانیوں اور مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔سنا ہے کہ ایک رہنما نے کہا ہے کہ اقتدار میں آکر تمام امتیازی قوانین جو قادیانیوں کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہیں ختم کردوں گا۔سنا ہے اسلام آباد کوکسی سکندر نے تن تنہا یرغمال بنایا تھا۔سنا ہے کہ سپریم کورٹ پر حملہ بھی کیا گیا تھا۔سنا ہے کہ پاکستان کا وزیر اعظم اربوں کا چور ہے ۔سنا ہے کہ ہر دوسرے سیاستدان نے اقامہ لے رکھا ہے سنا ہے دنیا میں پاکستان کی کوئی وقعت نہیں رہی ۔سنا ہے کہ پاکستانیوں کی کتے جیسی عزت ہے۔رضوی صاحب نہ کریں !اسلام بدنام ہورہا ہے۔

سنا ہے نائٹ کلبوں میں جانے سے اسلام بدنام نہیں ہوتا ۔سنا ہے قلم بیچنے سے اسلام بدنام نہیں ہوتا۔سنا ہے جھوٹ کو سچ لکھنے سے اور دکھانے سے اسلام بدنام نہیں ہوتا۔سنا ہے شراب کو شہد کہنے سے اسلام بدنام نہیں ہوتا۔سنا ہے زنا کرنے سے اسلام بدنام نہیں ہوتا۔سنا ہے اسلام آباد ناچ گانوں سے اسلام بدنام نہیں ہوتا۔سنا ہے سینئر افسران کے پاس جونیئر افسران کی بیویوں کے جانے سے اسلام بدنام نہیں ہوتا۔سنا ہے رشوت دینے اور لینے سے اسلام بدنام نہیں ہوتا۔سنا ہے اسلامی تعلیمات صرف مولوی کو سخت بات کہنے سے روکتی ہیں۔سنا ہے اسلام صرف مولویوں پر اترا تھا۔سنا ہے قرآن میں انسانوں اور مومنوں کو مخاطب کیاگیا ہے بار بار کیا گیا ہے۔سنا ہے اسلام تمام انسان کیلئے ہے۔سنا ہے اسلام ہر کسی پر اتنا ہی فرض ہے جتنا کسی مولوی پر ہے۔ لیکن پھر بھی کالے کوٹ پہن کر کسی ڈاکو قاتل کو بیگناہ ثابت کرنے سے اسلام بدنام نہیں ہوتا۔سنا ہے پارلیمنٹ میں عیاشیاں کرنے سے اسلام بدنام نہیں ہوتا۔سنا ہے سیاسی لیڈران کے ایک دوسرے کو گالیاں دینے سے اسلام بدنام نہیں ہوتا۔رضوی صاحب نہ کریں !اسلام بدنام ہورہا ہے ۔

سنا ہے جو اسلام کا نام لینا بھی گوارہ نہیں کرتے جب کوئی اسلام کیلئے اٹھ کھڑا ہو تو انہیں بھی اسلامی تعلیمات یاد آجاتی ہیں ۔سنا ہے کہ جو اسلام سے کوسوں دور ہیں انہیں بھی مولوی کے وقت اسلام یاد آجاتا ہے ۔سنا ہے ابوجہل آج ہوتا تو وہ بھی یہی کہتا کہ رضوی صاحب اسلامی تعلیمات یہ نہیں یہ ہیں ۔سنا ہے ابلیس نے بھی بیان دیا ہے کہ رضوی صاحب اسلامی تعلیمات تو یہ نہیں ہیں ،سنا ہے کارل مارکس نے جہنم کے گھڑے سے پیغام بھیجا ہے کہ رضوی صاحب اسلام ایسا درس نہیں دیتا۔سنا ہے فرعون کی ممی سے آواز آئی ہے کہ اسلام آباد دھرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے ۔سنا ہے کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج کرنا سب کا حق ہے ۔سنا ہے کہ ہر ملک میں اسی طرح جمہوری احتجاج ہوتے ہیں ۔

سنا ہے کہ ملک کے تمام جید علماء کہہ چکے ہیں کہ دھرنے والوں کے مطالبات بالکل درست ہیں ۔سنا ہے کہ دھرنوں کے دوران حکومت سیکیورٹی دیاکرتی ہے ۔سنا ہے کہ حکومت متبادل روٹس دیا کرتی ہے ۔سنا ہے کہ دھرنوں کے مقامات پر ایمبولینسیں کسی مریض کو لیکر نہیں جاتیں ۔سنا ہے کہ سب کے علم میں ہے کہ فیض آباد انٹرچینج بند ہے ۔سنا ہے کہ عام عوام اس طرف نہیں جاتی۔سنا ہے کہ ایمبولینسیں جان بوجھ کر بھیجی جاتی ہیں ۔سنا ہے کہ حکومت متبادل روٹس نہیں دے سکی۔سنا ہے کہ میڈیا پر حقائق کے منافی فویجز دکھائی جارہی ہیں ۔سنا ہے عمران خان کے دھرنے کے حمایتیوں کو بھی عاشقان مصطفیﷺ کے دھرنے سے تکلیف ہے۔

رضوی صاحب نہ کریں اسلام بدنام ہورہا ہے ۔
خدارا نہ کریں ۔اسلام بدنام ہورہا ہے۔

رضوی صاحب !!آآپ کی تلخ کلامی سے اختلاف اپنی جگہ لیکن آپ کی تلخ کلامی پر اعتراض بھی نہیں اور آپ کے سخت لہجے کی وجہ سے بھی آگاہ ہوں۔
تاریخ بھری پڑی ہے ہم سنتے آرہے ہیں ۔لیکن عاشقان مصطفی ﷺ نے ہمیشہ سرکٹائے ہیں کبھی ناموس مصطفیﷺ پر سمجھوتہ نہیں کیا۔کبھی سیاست نہیں ی۔غازی علم الدین سے بھی کہا گیا تھا اتنا کہہ دو غصے میں تھا ہوش میں نہ تھا تو گستاخ کو جہنم واصل کیا۔غازی نے تو عدالت میں اعلانیہ کہاتھا نہیں میں نے تو خوب سوچ سمجھ کر ہوش و حواس میں اس گستاخ کو جہنم واصل کیا ہے ۔عاشق کہاں موت سے ڈرتے ہیں ۔وہ پروانے ہوتے ہیں جو شمع پر جل مرتے ہیں ۔

آج آپ اور آپ کے ہمراہی اسلام آباد میں انتہائی سرد راتوں میں بارش میں ڈٹ ہوئے ہیں ۔مقصد ناموس رسالت ﷺ کا پہرا ہے۔مشکلات بڑھ بھی سکتی ہیں ۔ہونے کو بہت کچھ ہوسکتا ہے لیکن آپ کے مقصد اور نیت سے دورائے نہیں ہے ۔جس مقصد کیلئے آپ بیٹھے ہیں ۔اس میں بہت سی مصیبتیں آئیں گی۔مخالفتیں ہوں گی۔میڈیا کی کالی بھیڑیں بھاؤں بھاؤں کریں گی۔اِدھر سے اُدھر سے نوٹس بھیجیں جائیں گے۔کوئی کچھ کہے گا کوئی کچھ کہے گا۔لیکن آپ کو قسم ہے محمد مصطفیﷺ کی ناموس کی اس وقت تک نہیں اٹھنا جب تک فیصلہ نہیں ہوجاتا۔اب فیصلہ لیکر ہی اٹھنا ہے۔ضرورت پڑی توہم آپ کے شانہ بشانہ ہوں گے ۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *