ڈیرہ اسماعیل خان کے واقعے پر عمران خان صاحب کیوں خاموش ہیں

  • 86
    Shares

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے مٹ میں 27 اکتوبر کے دن 8 سے 10 مسلحہ ملزمان کی جانب سے ایک 16 سالہ لڑکی کو بھرے بازار میں برہنہ کیا جاتا ہے اور پھر یہ انسانیت سوز منظر بھی دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ اس لڑکی کو پورے گاؤں میں گھمایاجاتا ہے لیکن کوئی درمیان میں نہیں آتا ۔بلکہ وہ لڑکی جس کسی کے گھر میں جاتی ہے اسے باہر نکال دیا جاتا ہے ۔لڑکی چیختی اور پکارتی رہتی ہے لیکن کوئی مدد کو نہیں آتا
 
متاثرہ لڑکی کا جرم یہ تھا کہ اس کے بھائی پر یہ الزام تھا کہ اس نے تین سال پہلے ملزمان میں سے کسی ایک کی بیٹی کو موبائل فون دیا تھا جس پر وہ دونوں باتیں کرتے تھے۔ جب سب کو اس بارے میں پتہ چلا تو مقامی سطح پر پنچایت نے لڑکی کے بھائی کو کہا کہ وہ ملزمان کو تین لاکھ روپے جرمانہ ادا کرے۔ لڑکی کے بھائی نے تین لاکھ جرمانہ دیا اور فریقین کی صلح ہو گئی۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ملزمان نے یہ بات دل میں رکھی اور اسے بھلایا نہیں بلکہ وہ لڑکے کو مزید سزا دینا چاہتے تھے۔
 
اور سزا یوں دی گئی کہ تین سال بعد اس لڑکے کی بہن کو بھرے بازار میں بے عزت کردیا گیا۔متاثرہ لڑکی کی والدہ کے مطابق جب یہ واقعہ ہورہا تھا اس وقت پولیس بھی ان کی کوئی شکایت نہیں سن رہی تھی بلکہ ملزمان کا ساتھ دے رہی تھی۔ جب معاملہ میڈیا پر آیا تو ملزمان نے علاقے کے با اثر افراد سے رابطے بھی کیے تاکہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو سکے۔
 
اس معاملے میں تحریک انصاف کے علی امین گنڈا پور کا نام لیا جارہا ہے کہ وہ ملزمان کی پشت پناہی کررہے ہیں ۔یہ الزامات کسی اور نے نہیں خود تحریک انصاف کے رہنما اور ممبر صوبائی اسمبلی داور خان کنڈری نے سلیم صافی کے پروگرام جرگہ میں لگائے ہیں اور نہ صرف الزمات لگائے ہیں بلکہ انہوں نے علی امین گنڈاپور کے خلاف درخواست بھی دائر کردی ہے۔مگر خان صاحب بدستور خاموش ہیں ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ واقعے کے فوری بعد عمران خان یا وزیر اعلیٰ ڈیرہ اسماعیل خان جاتے اور متاثرہ لڑکی کے معاملے میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت ایکشن لینے کا اعلان کرتے۔واقعے کے روز کاروائی نہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کو معطل کرتے۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔
 
خود تحریک انصاف کے رہنماء داور خان کنڈی نے موقف اپنایا ہے کہ عمران خان علی امین گنڈاپور سے ڈرتے ہیں اس لئے اس معاملے پر انہوں نے کھل کر کوئی موقف نہیں دیا اور نہ ہی علی امین گنڈا پور کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی ہے ۔الزام لگانے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ علی امین گنڈا پور کے تعلقات کالعدم تنظیموں سے ہیں ۔اس لئے عمران خان بھی ان کے خلاف کاروائی سے گھبرا رہے ہیں ۔
 
سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ تحریک انصاف کے بقول پختونخواہ کی انقلابی پولیس نے موقع پر کاروائی کیوں نہیں کی ؟؟ان بدبخت ملزمان کو روکا کیوں نہیں گیا ؟؟ یہ مکروہ فعل ایک گھنٹے تک ہوتا رہا اور اس پر کاروائی عمل میں کیوں نہ لائی گئی ؟؟حکومتی ذمہ داران کے خلاف کیا کروائی کی گئی ؟؟؟
 
خود تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے متاثرہ لڑکی کیلئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں ؟؟؟عمران خان صاحب نے کیا بیان دیا ہے اور کیا وہ متاثرہ خاتون کے گھر گئے ؟؟؟پنجاب میں شہباز شریف جب کچھ کرتے ہیں تو شوباز کہہ کر مزاق بنایا جاتا ہے لیکن آج خود انصافی ایسا کیوں نہ کرسکے ؟؟؟مظلوم کی دادرسی کیوں نہ کی گئی ؟؟؟مقدمے کا مرکزی ملزم اب تک فرار کیوں ہے ؟؟؟اسے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟؟؟ یہ 27 اکتوبر کا واقعہ ہے آج 12 نومبر ہے 15 روز سے اوپر ہوچکے ہیں لیکن صرف ٹال مٹول سے کام چلایا جارہا ہے ۔
 
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک احسان عظیم یہ ہوا ہے کہ بچی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ایف آئی آر میں نامزد 9 ملزمان میں سے 8 کو گرفتار کر لیا ہے تاہم مرکزی ملزم سجاول مفرور ہے۔یہ 8 ملزمان کی گرفتار بھی عظیم کارنامہ ہے ۔جن کے متعلق کہا جارہا ہے کہ عدالت فیصلہ کرے گی۔
 
مجھے اس معاملے پر عمران خان اور تحریک انصاف کے کردار سے شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔میں عمران خان اور تحریک انصاف کو دیگر روایتی جماعتوں سے الگ سمجھتا تھا۔لیکن یہ واقعہ ثابت کررہا ہے کہ عمران خان بھی روایتی جاگیرداروں اور بدمعاشوں کے آگے بے بس ہوتے جارہے ہیں ۔یہی گنڈا پور شراب کو شہد بناچکا ہے اور اب اسی کا نام آرہا ہے کہ ملزمان کی سرپرستی کررہا ہے لیکن ابھی تک کوئی پالیسی بیان سامنے نہیں آیا کیا ہم یہ سمجھیں کہ خان صاحب دال کالی ہے ؟؟؟
 
۔
نوٹ : میں نے اس موضوع پر اب جاکر لکھا ہے میرا لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن میرے انتظار کی انتہاہوگئی اور خان صاحب کی خاموشی نہ ٹوٹی تو مجبوراً لکھنا پڑا ۔کیوں کہ ہمیں عمران خان سے کچھ امیدیں ہیں ۔ہم خان کے متعلق حسن ظن رکھتے ہیں ۔لیکن افسوس کہ یہ امیدیں ٹوٹ رہی ہیں ۔باقی ایسے معاملات میں سیاست سے ہٹ کر سوچنا چاہیے ۔کیوں کہ اللہ نہ کرے کل کو یہ واقعہ کسی کی ماں یا بہن کیساتھ ہوسکتا ہے تو کیا ہم انتظار میں رہیں کہ کوئی علی امین گنڈا پور ملزمان کی سرپرستی کرتا رہے اور ہم سب اچھا ہے کی مالا جھپتے رہیں


  • 86
    Shares

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *