جنید جمشید۔۔۔پاپ سنگر سے مبلغ اسلام تک– محمد عزیر عاصم


فرشتوں جا کے یہ دے دو پیغام ان کو کہ

خادم تمھارا جنید قریب آرہا ہے۔

نوے کی دہائی میں کس نے سوچا ہو گا کہ آج کا نامور ،مشہور پاپ سنگر کل کو بستر اٹھا کے اللہ کی راہ میں نکل جائے گا اور اپنے چہرے پہ سنت رسول ﷺ سجا کے نوجوان نسل کے لئے آئیڈیل بن جائے گا،لوگوں میں جنید کی مقبولیت اس قدر تھی کہ اس کے نام پہ بچوں کے نام رکھے جانے لگے،اس زندگی نے کیسے پلٹا کھایا ،اس سے پہلے جنید کے بارے میں ابتدائی معلومات کے مطابق جنید کی پیدائش ستمبر 1964ء میں ہوئی،تعلیمی میدان میں انجیئرنگ کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد موسیقی کی طرف میلا ن ہوگیا،مگر قسمت ایئر فورس لے آئی،کچھ ہی عرصہ اس ملازمت کو خیر آباد کہہ کر مکمل طور پر موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا،اپنا پہلا نغمہ ” دل دل پاکستان۔۔۔۔جان جان پاکستان”گا کر شہرت کی بلندیوں پہ پہونچ گئے،ایک طرف خوبصورت آواز کا کمال تھا اور دوسری طرف حسن و جمال،اپنا جادو جگاتے گئے،نوے کی دہائی میں جنید کے مقابلے میں کوئی بھی موسیقار نہیں تھا،ہر طرف جنید ہی جنید کی دھن تھی اور یہ سلسلہ 2004ء تک جاری رہا۔

2004ء میں معروف مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل کی محنت اور کوشش سے جنید جمشید نے موسیقی کی دنیا کو چھوڑ دیا اور تبلیغ کو اپنا اوڑنا بچھونا بنا لیا،چہرے پہ سنت رسول ﷺ سجا لی،لباس میں کرتا پہن لیا اور کروڑوں کی پیشکش کرنے والوں کو صاف جواب دے دیا کہ اب موسیقی نہیں کر سکتا،مولانا طارق جمیل کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے جنید کا فون آیا ،کہنے لگا ،مولانا میں ایک چھوٹی سی مسجد میں ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک پرانی چارپائی پہ لیٹ کہ آپ کو فون کر رہا ہوں،میں جس دنیا اور جن آسائشات میں تھا ،وہاں مجھے سکون نہیں تھا،جو یہاں ملا ہے،میں نے کہا ،جنید ،وہاں سکون اس لئے نہیں کہ وہ نافرمانی والا راستہ تھا،اور یہ راستہ اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری والا ہے،اب تم نے جو راستہ اختیار کیا ہے ،وہ کامیابی والا راستہ ہے،اس لیے یہاں سکون میسر ہے۔

جنید جمشید کا کہنا ہے کہ جب موسیقی کی دنیا کو چھوڑا تو ذہن میں طرح طرح کے اندیشے تھے کہ معاش کا کیا ہوگا،مگر اپنے راستے پہ نکلنے پہ اللہ نے اتنی دولت دی کہ آج پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں ان کے ملبوسات کی مانگ ہے۔

ماضی کے معروف کرکٹر سعید انور کی جماعت دعوت و تبلیغ کے مشن پہ چترال گئی تو جنید جمشید جماعت کی نصرت کے لیے وہاں گئے،اان کے ساتھ ان کی دوسری بیوی بھی تھی،مستورات کی طرف ان کی تشکیل تھی ،تو مسجد میں جنید کی ترتیب تھی ،یک ہفتہ گزارنے کے بعد واپسی کا پروگرام بن گیا،ظہر کی نماز وہاں جماعت کے ساتھ مسجد ہی میں ادا کی،صبح بیان بھی کیا ،زندگی کی نا پائیداری پہ بھی گفتگو کی ،ایک ٹوئٹ بھی کی ،جس میں چترال کو زمین کی جنت قرار دیا،یہ نہیں سوچا تھا کہ کچھ لمحوں بعد آسمان کی جنت کی طرف جانا ہے ،کچھ دیر بعد فلائٹ کا وقت ہوا تو عصر کی نماز کے لیے وضو کیا،ہاتھ میں تسبیح لیے باوقار اندا ز میں چلتے ہوئے جہاز کی طرف بڑھنے لگے،ساتھیوں کے ساتھ گروپ فوٹو بنایا،ان کے ساتھ گفتگو کی،چترال جماعت کے امیر بھائی محمد ایوب کو کہا کہ اگلے ہفتہ میرا امریکہ کا پروگرام ہے،وہاں سے آپ کے لئے موبائل فون لاؤں گا ،جمعہ کی نماز بھی طے کی کہ پارلیمنٹ ہاؤس کی مسجد میں پڑھانی ہے ،کون جانتا تھا کہ اب سے کچھ دیر بعد اس شخص کو ہر شخص روئے گا،اور پھر کچھ دیر بعد جب آسمان کے نیچے زمین کا سب سے بڑا سانحہ رونما ہو رہا تھا تو زمین پہ صف ماتم بچھ گئی،ہر آنکھ اشکبار،ہر دل غمزدہ ۔۔۔۔کیا اپنے پیاروں کو کوئی یوں جدا ہوتے دیکھ سکتاہے؟؟میں سوچ رہاہوں ،جنید کے بیٹوں ،اس کی بیٹی اور اس کے اہلِ خانہ نے اس صدمہ کو کیسے برداشت کیا ہوگا۔

ایسا شخص جس کے لیے سارا پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے مسلمان رو رہے ہیں،ہر شخص یہی سمجھ رہا ہے کہ تعزیت اس سے کی جائے،تسلی،ہمدردی اور رسمی کلمات بھول ہی گئے ،اتنی بڑی نعمتیں چھن جانے پہ بھی ہمارے ارباب اقتدار بے حس ہیں،ہر پانچ سال میں قوم کو سوگ میں مبتلا کیا جاتا ہے،2006ء میں ائیر بلیو 2010ء میں بھوجا طیارہ حادثہ اور اب پی آئی اے طیارہ حادثہ۔۔۔۔اب بھی کہہ رہے ہیں کہ طیارہ ٹھیک تھا،جن طیاروں کو پاکستان میں استعمال کیا جارہا ہے،جدید دنیا ان کا استعمال ترک کر چکی ہے،تائیوان میں تو ایسے طیاروں پہ پابندی بھی لگ چکی ہے،مگر یہاں کر پشن اور لوٹ مار کے لئے قرضے بھی مانگ لئے جاتے ہیں ،مگر قوم کی بنیادی ضرورتوں کو مرمت سے ہی پورا کیا جارہا ہے،کیا جنید جمشید کی شہادت سے ہونے والے نقصان کی تلافی کی جاسکے گی؟ہمارے طیاروں کی مثا ل ایسے ہی ہے ،جیسے رکشے کے ساتھ پر لگا کر اڑا دیا جائے،پہنچ گیا تو ٹھیک ،نہیں تو حادثہ ہی تو ہونا ہے،اور تو کچھ نہیں ہونا۔۔۔کیا دنیا میں اس سے بھی زیادہ عوام دشمن حکمران طبقہ کہیں ہوگا؟؟

جنید کو تو تین فضیلتیں مل گئی،سفر کی موت،حادثاتی موت اور اللہ کی راہ میں موت۔۔۔وہ تو شہید ہو کر امر ہوگیا،اپنی معراج،اپنی منزل پا گیا مگر اس کا خلا پر ہونا بہت مشکل ہے،یقیناًوہ باقاعدہ طور پہ عالم نہیں تھا،مگر اپنی پرانی زندگی کی وجہ سے عوام میں اس کی مقبولیت تھی،لوگ اس کو سنتے تھے،اس کی آواز ،اس کی صورت دونوں ہی سے پیار کرتے تھے،اور اس کے اخلاق کی گواہی تو اپنے بیگانے سب دے رہے ہیں،کچھ عرصہ قبل ائیر پورٹ پر ایک شریر گروپ کی جانب سے اس کے ساتھ بدتمیزی بھی کی گئی ،مگر اس نے اللہ کی رضا کے لیے معاف کردیا،ماہ دسمبر جاتے جاتے اپنا خراج لے گیا،شاید دسمبر کو انداز لگانے میں غلطی ہوگئی،اپنی حیثیت سے کہیں زیادہ خراج اس نے وصول کر لیا،دسمبر کا خراج کم از کم جنید نہیں تھا ،اس معصوم و بے ضرر آدمی کے کیا کہنے ،زندگی بھی دین پہ،موت بھی اللہ کی راہ میں جنید جمشید کے اہلِ خانہ کو اللہ صبرجمیل نصیب فرمائے،دونوں میاں بیوی سفرِ دعوت سے سفرِ جنت چلے گئے۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *