جنیدمکین جنت ہوگیا–شیخ محمد تنویر


انسانی فطرت ہے کہ ہر انسان عزت، دولت، شہرت اور بلندی کا خواہشمند ہوتا ہے. مگر فطرت کا اصول ہے کہ یہ چیزیں ہر ایک کو نہیں ملا کرتیں. بہت کم لوگ کامیابی کے ان زینوں پر چڑھ پاتے ہیں. اور خصوصا  ایسے لوگ بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں ہیں جو چڑھتی جوانی میں کامیابی کی انتہاؤوں کو چھو لیتے ہیں. جنید جمشید بھی  ان لوگوں میں شامل تھا جس نے اپنا عروج ان وقتوں میں دیکھا جس عمر میں اس کے ہم عصر  ایسی کامیابی کا خواب بھی نہیں دیکھ پاتے.

تین ستمبر 1964 کو سرزمین سندھ میں طلوع ہونے والا یہ آفتاب 7 دسمبر 2016 کو حویلیاں کے مقام پر غروب ہوگیا. جنید کی زندگی عجیب نشیب و فراز کا شکار رہی. عین وقت شباب جب زندگی ہر طرح کی آسائش اور سہولت سے جاری و ساری تھی، پوری دنیا اسی کے گیت گارہی تھی. اس کے ایک گانے پر کڑوڑوں کی آفر کی جارہی تھی، اور اسے پاپ میوزک کا شہنشاہ قرار دیا جا رہا تھا، یوں اچانک اپنی زندگی کا رخ موڑ دینا آسان بات نہ تھی. اتنا بڑا فیصلہ جگر گردے کا کام تھا. مگر جنید جمشید ان تمام گھاٹیوں کو بآسانی عبور کرگیا. اور معصیت  کے دلدل سے خود کو نکال لایا.

   اکیسوی صدی کے آغاز پر جنید کی شہرت ایک گلوکار سے بدل کر ایک نعت خواں کی ہوگئی. اور اپنے وقت کا پاپ گلوکار داعی اسلام کا روپ لےکر ابھرا. وہ جنید جس کے گیت سن کر لوگ جھومنے پر مجبور ہوجاتے تھے اب اس کی نعتیں دلوں کو نرم اور آنکھیں نم کردیا کرتی تھیں. جنید نے اپنی خداداد صلاحیتوں کا استعمال خوب کیا اور نعت خوانی کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا.

بلاشبہ جنید جمشید ایک جادوئی شخصیت کے مالک انسان تھے. انکی موت پر ہر ایک دل غمزدہ اور ہر ایک آنکھ اشکبار ہے. ان کی موت نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں موجود ان کے مداحین کے دلوں کو چیر کر رکھ دیا ہے. بہت سے خاندان جنکی پرورش جنید جمشید  نے اپنے زمے لے رکھی تھی ان کے سر سے ایک مہربان کا سایہ اٹھ گیا. بہت سوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے والا ایک مستعد داعی اپنی آخرت کے سفر پر روانہ ہوگیا. راہ خدا میں جانے والا جنید اپنی واپسی کا سفر مکمل نہ کرپایا اور مکین جنت ہوگیا. خدا اسے غریق رحمت کرے!

تحریر: شیخ محمد تنویر


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *