جنرل ضیاء کا خواب ،جس کے لئے وہ روس سے لڑے،شبیرحسین


بری فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ نے افغان عوام کے جہاد کو چھوٹی قوموں کی طرف سے مادی وسائل کی کمی کے باوجود اپنی آزادی کے تحفظ کی بہترین مثال قرار دیا ہے۔ پاک افغان سرحد کے قریب پاک فوج کے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گو افغانستان میں بیرونی جارحیت ختم ہو چکی مگر اس کے اثرات ابھی باقی ہیں‘ تاہم افغان عوام آخری فتح تک اپنی جدوجہد کو کامیابی سے جاری رکھیں گے۔ اس یقین کا اظہار ایک سپاہی کی طرف سے سپاہیوں کو خطاب کے دوران ہوا ہے‘
[a]
اسے سیاسی نعرہ بازی یا عوام کو اپنے جوش خطابت سے اپنے پیچھے نکالنے کی کوشش سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

جنرل بیگ کے کئی بیانیات کی طرح یہ بھی اس اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن ہے جو پچھلے چھ ماہ سے مجاہدین کے اردگرد پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ تاہم جو سوالات افغان مجاہدین اور ہوش مند پاکستانیوں کے ذہنوں میں کچھ عرصے سے ابھر رہے ہیں‘ جنرل بیگ کے بیان سے ان کا خاطرخواہ خواب دستیاب نہیں ہوتا۔

حادثہ یہ ہوا کہ… وزیراعظم محمد خاں جونیجو کی سیاسی قیادت نے افغان عوام کی بے مثل قربانیوں سے پیدا ہونے والے مواقع سے پورا فائدہ اٹھانے سے گریز کیا… انہوں نے جنیوا مذاکرات میں‘ افغان مجاہدین کو نظرانداز کر کے جیتی ہوئی بازی کو ہار میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ جنرل ضیاء الحق اور افغان جہاد میں ان کے دست راست جنرل اختر عبدالرحمن کی شہادت کے بعد پاکستان کی نئی سیاسی حکومت نے باہوش وحواس ایک ایسا پروگرام ترتیب دیا جس کا مقصد نہ صرف مجاہدین کو پاکستان سے پچھلے دس سال سے ملنے والی حمایت سے محروم کرنا اور بے دست وپا کر کے روس کے آگے پھینکنا تھا۔
[abc]

سب سے پہلے تو ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت آئی ایس آئی کے خلاف ایک مہم شروع کرائی گئی اور پھر اچانک جنرل گل کو اس انتہائی کامیاب اور موثر تنظیم سے الگ کر کے اس کی ہیئت کو یکسر بدل دیا گیا۔ اغلب خیال یہی ہے کہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے یہ سب کچھ کرتے وقت جنرل اسلم بیگ سے کچھ مشورہ نہ کیا اور نہ ہی انہیں پیشگی اطلاع ہونے دی۔ اس طرح جہاد افغانستان کے ایک پشت پناہ ادارے کو اپاہج کر دیا گیا۔ ساتھ ساتھ افواج کے سربراہوں کو بھی اشارہ مل گیا کہ افغان مجاہدین کے متعلق وزیراعظم خود اپنی مرضی سے فیصلہ صادر کیا کریں گی۔ گویا 13 لاکھ جانوں کا میدان جنگ میں نذرانہ پیش کرنے اور پچیس لاکھ کی تعداد میں بے گھر ہونے والی ہمسایہ مسلمان قوم اس قدر بے وقعت ہے کہ اسے پاکستان کی نعرہ باز قیادت جس طرف چاہے موڑ سکتی ہے۔
[bbc]
اسی غلط بینی اور غلط اندیشی کی بناء پر بے نظیر بھٹو صاحبہ نے اپنے امریکہ کے دورے کے دوران عجیب وغریب تجاویز پیش کیں اور اپنے قائدانہ استحکام کے زعم میں افغان مجاہدین کے بارے میں کئی تکلیف دہ ارشادات کئے۔ انہوں نے بظاہر امریکہ کو اس بات پر قائل کیا کہ پاکستان کی وزیراعظم کی حیثیت سے انہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ افغانستان کی قسمت کا فیصلہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کریں۔ پھر یاسر عرفات کو بلوایا اور اس کی گلبدین حکمت یار سے ملاقات کے دوران خود موجود رہ کر گلبدین پر دباوٴ ڈالنے کی کوشش کی کہ یاسر عرفات جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں
[a]
اسے مان لیا جائے۔ بعد میں برطانیہ اور بھارت کے وزیراعظم کے ساتھ بات چیت میں بھی مجاہدین کو ایک ڈھب پر لانے کے لئے کچھ فیصلے ہوئے اور گو امریکہ نے جو افغانستان کی اندر کی صورت حال سے آگاہ ہے اپنا نقطہ نگاہ پھر سے تبدیل کر لیا لیکن پاکستان کی حکومت پر افغان مجاہدین کا اعتماد اب اس صورت میں قائم نہیں رہ سکا جیسے جنگ آزادی کے پہلے نو سال تک تھا۔

[abc]
سب کو علم ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بھائی مدتوں کابل میں قیام پذیر رہے ہیں اور اس لئے اگر وہ کسی وقت کابل انتظامیہ یا روس کے نقطہ نگاہ کی طرف مائل نظر آتی ہیں تو اس میں کچھ حیرت کی بات نہیں۔ گلبدین حکمت یار نے تو اس سال کے شروع ہی میں ان خدشات کا اظہار کر دیا تھا جب انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ”گو ہمیں پاکستان کی افغان پالیسی میں تبدیلی کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا مگر جس جنگ کو پاکستان کی بقاء کی جنگ سمجھا جا رہا تھا‘

اب اسے غیرضروری قرار دیا جا رہا ہے۔“ حال ہی میں افغان اتحاد کی عبوری حکومت کے وزیر یونس نے گلہ کیا ہے کہ پاکستان کی حکومت ان کے معاملات میں مداخلت کر رہی ہے اور یہ کہ ان پر ایک خاص قسم کی حکومت قبول کرنے کے لئے دباوٴ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے بے نظیر صاحبہ اور مرحوم ضیاء الحق کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ جنرل ضیاء الحق نے ان کے معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی تھی۔

[a]
ان حقائق یا پاکستان کی نئی قیادت کے ان رجحانات کی بناء پر بری فوج کے چیف آف سٹاف کی طرف سے افغان مجاہدین کو پیش کئے گئے خراج تحسین کو کیا حیثیت دی جا سکتی ہے؟ کیا تمام تر حیلہ جوئی کے بعد حکومت پاکستان پھر پرانی افغان پالیسی کو قبول کرنے پر تیار ہے‘ یا جو کچھ جنرل اسلم بیگ نے کہا ہے وہ پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی کے باوجود مسلمان سپاہی کی حیثیت سے ان کا اپنا اندازہ ہے۔ تاریخ عالم میں اکثر ایسا ہوا ہے کہ بظاہر نحیف اور بے وسیلہ قوموں نے بڑی بڑی قاہر اور وسائل سے مالامال قوموں کو پسپا کیا ہے۔ حال ہی میں افغانستان سے روس کا انخلاء اس خدائی قانون کی تازہ ترین مثال ہے
[abc]

مگر ایسا بھی ہوا ہے کہ پشت پناہی کے اچانک رک جانے یا پیچھے سے چھرا گھونپنے کی وجہ سے اتنی بڑی خون کی قربانی سے حاصل کردہ فتح شکست میں تبدیل ہو گئی۔ اس لحاظ سے اگر پاکستان کی نئی قیادت افغانستان کی جنگ آزادی کے متعلق اس قسم کا نرم گوشہ نہیں رکھتی جس کا اظہار جنرل اسلم بیگ نے کیا ہے تو حالات کوئی بھی رخ اختیار کر سکتے ہیں۔

افغانوں کے بالمقابل ایک انتہائی بے رحم‘ سنگ دل‘ عیار اور دروغ گو قوم کھڑی ہے جس کے وسائل بے پناہ ہیں اور پاکستان کی نئی قیادت کو کسی حد تک غلط وعدوں یا دھمکیوں سے متاثر کر لیا ہے۔ ان حالات میں افغانوں کی جدوجہد نئی دشواریوں میں پھنس سکتی ہے۔ اس صورت میں جنرل بیگ کی طرف سے خراج تحسین یا ان کا اپنے اندر کا یقین شاید درست ثابت نہ ہو۔ اگر ایسا ہوا تو افغانستان کے ساتھ پاکستان بھی ایک ہی بھک سے اڑ سکتا ہے‘ یہی وہ خدشے اور خطرات ہیں جو جماعتی دھینگامشتی میں مست پاکستانی قیادت کی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔
[a]

ایک تلخ بات یہ ہے کہ آمریت اور جمہوریت کی بے ہنگم بحث نے حقائق کو سیاسی رہنماوٴں اور دانشوروں کی آنکھوں سے اوجھل کر دیا ہے۔ وہ صدر ضیاء الحق کی ”آمریت“ سے مخاصمت کی وجہ سے یہ سمجھنے سے عاری ہیں کہ مرحوم نے افغان مجاہدین کی فتح میں نہ صرف پاکستان کے استحکام کا سچا خواب دیکھا تھا بلکہ اس میں عالم اسلام کے اندر نئی قوتوں کے اجراء کے امکانات کو بھی بھانپ لیا تھا۔
[abc]
خون کے کھیل سے ناآشنا ہمارے چند مصنوعی سیاست دان اور بے دانش محرر اس بلند مقام تک پہنچنے سے قاصر ہیں جہاں سے قوموں کے عروج اور زوال یا فتح و شکست کے اصلی اسباب کا پتہ چلتا ہے۔ جہاں سے یہ اطلاع ملتی ہے کہ تگ ودو کیسے نتیجہ خیز ہوتی ہے؟ اور قوموں کے ٹکراوٴ میں بالآخر کیا شے فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے؟ جنرل ضیاء الحق نے ایک سچے سپاہی کی حیثیت سے اس سارے کھیل پر نگاہ ڈالی اور اس میں افغان مجاہدین کو فتح سے ہمکنار کرنے کے لئے آخری بازی لگا دی۔
[ab]
انہیں ان تمام خطرات کا علم تھا جس سے وہ بالآخر دوچار ہوئے اور موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے مگر افغان عوام کو جدوجہد کے ذریعے مسلم دنیا کے سیاسی اور عسکری احیاء پر یقین نے انہیں ہر شے سے بے نیاز کر دیا تھا۔ اگر پاکستان کی موجودہ خودپرست قیادت کی حیلہ جوئی کے باوجود جنرل اسلم بیگ کا افغان عوام کی کامیابی پر یقین ایک سچے بے خوف اور خداپرست سپاہی کی حیثیت سے ہے تو اس کا درست ہونا لازمی ہے۔

افغانستان میں آزادی کی جنگ جیت لی گئی تو مستقبل کا مورخ جنرل ضیاء الحق کو ایک ایسا مقام دے گا جس کا اندازہ لگانا ہمارے ملک کے کوتاہ بین دانشوروں کی طاقت پرواز سے باہر ہے۔ قوموں کی آویزش کا جمہوریت یا آمریت کے مصنوعی لیبلوں سے کوئی تعلق نہیں جو چیز بالآخر ایک قوم کو دوسری قوم کے مقابلے میں فتح سے ہمکنار کرتی ہے‘ وہ اس کے عوام کی حریت کیشی اور اس کی قیادت کی درست بینی‘ شجاعانہ صلاحیت‘ یقین اور موت کے مقابلے میں بے خوفی ہے۔ وقتی سیاسی ڈھانچوں کا اس سے کچھ تعلق نہیں۔
[bbc]
مجھے اکثر یہ احساس رہا ہے کہ افغان عوام کی فتح جنرل ضیاء الحق کا واحد مقصد حیات تھا‘ اس مقصد کی خاطر وہ سب کچھ کرنے کو تیار تھے‘ اس لئے کہ اس فتح میں انہیں اسلام کے ابتدائی دور کے احیاء کی صورت نظر آ رہی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد قریباً تمام مسلمان ملکوں کو آزادی نصیب ہوئی مگر حریت کیشی کے جوہر نایاب کا مظاہرہ بہت کم جگہوں پر ہوا ہے اور اگر ہوا بھی تو جو کچھ افغان عوام نے کر دکھایا ہے وہ شاید کسی اور مسلمان قوم کی طاقت سے باہر تھا۔ صدر ضیاء الحق اس جدوجہد میں پاکستان کی طرف سے کسی رکاوٹ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے اور اغلباً کئی دوسری وجوہات کے علاوہ یہ افغانستان پر جونیجو کی پسپائی یا منفی کردار تھا جس نے انہیں مجبور کیا کہ انہیں حکومت سے الگ کر دیا جائے۔
[abc]
پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران نجی محفلوں میں‘ عام تقریروں میں جس اصرار سے صدر ضیاء نے جونیجو کو جرأت کرنے سے پہلے عبوری حکومت کے قیام پر زور دینے کی تلقین کی‘ اتنی ہی… بے سمجھی سے جو جونیجو صاحب نے اس بات کو سمجھنے سے گریز بلکہ انکار کیا۔ افغانوں اور خود ضیاء الحق کی آٹھ سالہ جدوجہد کو جمہوریت کی خود اختیاری کے شوق میں بے نتیجہ بنانے کی سعی کی گئی۔ جنیوا مذاکرات کے بعد ہونے والا تمام کشت وخون وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کورمغزی اور خودبینی کا نتیجہ ہے۔

پاکستان کی نئی قیادت مجاہدین کی اتنی بڑی قربانی اور فتح کو آمریت اور جمہوریت کی بحث کے شور وغوغا میں نظر انداز کر رہی ہے۔ اس قیادت کے نزدیک چونکہ ضیاء الحق آمر تھا اس لئے اس کی افغان پالیسی غلط تھی اور چونکہ بے نظیرمنتخب وزیراعظم ہیں اس لئے انہیں ہر شے کو تہہ وبالا کرنے کا حق ہے۔ ان کے نزدیک اختلاف رائے کرنے والا ہر شخص گردن زدنی ہے کیونکہ مرکز میں اکثریت پیپلزپارٹی کی ہے اور اکثریت کی بناء پر کارفرما اس کہیں زیادہ ظالمانہ ’آمریت‘ کا جواز ضیاء الحق ’آمریت‘ کو برا بھلا کہہ کر پیدا کیا جا رہا ہے۔

[c]
جنرل بیگ نے خود پاکستان کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کا بھی ذکر کیا ہے۔ انہوں نے پاکستانی افواج کو ان خطرات سے نمٹنے کا اہل قرار دیا ہے۔ خطرات کا سامنا تو پاکستان کو ابتداء سے ہی رہا ہے مگر اب ان کی نوعیت اور وسعت دونوں میں فرق پیدا ہو چکا ہے اور ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ملکی قیادت کی دانست اور ارادے میں بھی و ہ پختگی نہیں جس کی ضرورت ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اندرونی محاذ آرائی میں کامرانی کی آرزومند موجودہ قیادت ملک کو لاحق بیرونی خطرات سے آنکھیں بند کر چکی ہے۔ محترمہ کو زعم ہے کہ انہوں نے عورت ہونے کے باوجود اسلامی ملک کی وزیراعظم بن کر وہ معرکہ سر کیا ہے کہ پاکستان کا ہر دشمن چشم زدن میں ان کے ملک اور ان کی قیادت کا دوست اور خیرخواہ بن گیا ہے۔
[ab]
اس لئے جہاں بیرونی تعلقات میں وہ ذہنی پختگی نایاب ہے جس کے بغیر اس انتہائی تیزرفتار‘ سنگدل اور دھوکا باز دنیا میں دوسروں کے ارادوں کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں‘ وہاں اپنی قیادت کے استحکام کے لئے تمام توجہ اندرون ملک خود شروع کردہ کشمکش پر مرکوز ہے۔
[a]
یہ مکمل استحکام کی ہوس ہی کا نتیجہ ہے کہ قوم کو اپنی بقاء کے کچھ لوازمات نظر نہیں آتے بلکہ رفتہ رفتہ بقاء کی خواہش اور قوت دونوں کم ہوتے جا رہے ہیں۔ بے نظیر صاحبہ کے پیش نظر صرف اپنی پارٹی کا استحکام ہے اور اس کے لئے انہوں نے حکومت کے مختلف محکموں میں بے پناہ اکھاڑ پچھاڑ جاری رکھی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں پرانے ملازمین کو الگ کر کے بڑی بڑی تنخواہوں پر اپنی پارٹی کے نااہل مگر نعرہ باز افراد کا تقرر کیا جا رہا ہے جن مستقل ملازموں کو نکالنا ممکن نہیں ان کی ترقیاں بند کر دی گئی ہیں ا ور باہر سے آدمی لا لا کر ان کے اوپر بٹھائے جا رہے ہیں۔
[bbc]
محترمہ وزیراعظم کے اپنے صوبے میں سب سے زیادہ لاقانونیت کی موجودگی میں ان کے زبان دراز وزیر اور مشیر‘ پنجاب کو مجرم قرار دے کر اسے پھانسی کے رسے سے لٹکانا چاہتے ہیں۔ ہوس کاری‘ اقتدار پرستی اور قانون شکنی کا وہ مظاہرہ ہو رہا ہے کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہر بیدار ذہن اندیشوں میں مبتلا ہے کہ جمہوریت کا چوغہ اوڑھ کر کسی آمریت کے جہنم کی طرف جا رہے ہیں۔ غالباً یہی اندرونی آویزش ہے جسے جنرل بیگ نے اندرونی خطرات کا نام دیا ہے۔
[abc]
جنرل یحییٰ کے دورِ اقتدار میں جب ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن باہم نبردآزما تھے اور بھٹو صاحب کے حق اقتدار کو ظالمانہ اکثریت (Brute Majority) قرار دے کر مسترد کر رہے تھے تو پاکستان میں ایک کہرام برپا تھا۔ کچھ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ یہ اسی ماحول میں تھا کہ پرانے مسلم لیگی رہنما جناب یوسف خٹک نے مجھے ایک نجی ملاقات میں کہا ”صبح اٹھ کر جب میں اخبارات دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں کسی جنگ میں درندوں کے درمیان کھڑا بیٹھا ہوں۔“ کیا آج کل بھی یہی صورت حال نہیں؟ جو کچھ کھلے کام اور خفیہ طور پر کیا جا رہا ہے اور عوام الناس ابھی سے محسوس کر رہے ہیں کہ جمہوریت اگر اسی آبرو باختگی‘ ناشائستگی‘ دھاندلی اور نااہل لوگوں کے پارٹی یا صوبے سے تعلق کی بناء پر اچھی اچھی ملازمتوں پر قابض ہونے کا نام ہے‘ تو آمریت میں کم ازکم اتنا ہمہ گیر ظلم اور اندھی بے انصافی تو نہ تھی۔ کیا افواج ان اندرونی خطرات سے عہدہ برآ ہو سکتی ہیں؟
[a]
اگر جنرل ضیاء الحق کے عہد میں چند لوگوں پر زیادتیاں ہوئیں تو وہ تو مارشل لاء تھا‘ تاہم ان کا یہ کارنامہ تاریخ کے صفحات میں رقم رہے گا کہ وہ افغان مجاہدین کی امداد پر ڈٹے رہے اور بالآخر اسی مقدس فریضے کی استقلال سے ادائیگی کی وجہ سے انہیں جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ 17 اگست بہتر یہ ہو گا کہ اس دن کو ضیاء الحق کے جہاد افغانستان کا دن بنا دیا جائے۔ افغانستان کی اسلامی سلطنت کا خواب ہی ان کا منشائے حیات تھا اور ان کی زندگی کے پہلو کو جس قدر اجاگر کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ صدر ضیاء الحق کی شہادت کو یاد کرنے کے لئے افغانستان میں مجاہدین کی فتح کے حق میں ماحول پیدا کرنے سے زیادہ بہتر طریقہ اور کوئی ہو نہیں سکتا۔ جعفر اور صادق کی روح ہر مقام پر اپنی کارروائی میں لگی رہتی ہے۔ حکیم الامت نے انہی معنوں میں کہا تھ:
[a]
ملتے راہر کجا غارت گرے است
اصل اداز صادقے یا جعفرے است
الاماں از روح جعفر الاماں
الاماں از جعفرانِ ایں زماں

(بشکریہ کتاب شہید اسلام )
یہ مضمون یہاں شائع ہوا


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *