جماعت اسلامی کے لئے مہربانوں کے تیار کردہ ٹریپ


جماعت اسلامی قرآن و سنت کو اپنی اساس تسلیم کرتے ھوۓ آئینِ پاکستان کے تحت رجسٹرڈ جماعت ھے۔

یہ پاکستان کے شہریوں کو بہتر معیار ذندگی فراہم کرنے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے لئے باوقار مقام دلانے کے لئے انتخابی سیاست میں حصہ لیتی ھے کیونکہ اقتدار کے بغیر بہتر گورنینس ممکن ہی نہیں۔

اس سلسلے میں یہ کتنی کامیاب رھی اس کا حساب کتاب اس جماعت کو قومی و صوبائ اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں میں جتنی نمائندگی ملی ان سب میں اس کی کارکردگی سے لگایا جا سکتا ھے۔ اس سلسلے میں سرکاری و غیر سرکاری ریکارڈز موجود ھیں جن سے رجوع کیا جا سکتا ھے۔

اب آتے ھیں اصل موضوع کی طرف۔

جماعت اسلامی کے مخالفین جب اس پر تنقید کرتے ھیں تو بالعموم جماعت کے وابستگان اس تنقید پر غور و فکر بھی کرتے ھیں اور اسے مناسب طور سے زیر بحث بھی لاتے ھیں۔ لیکن مشاہدہ و تجربہ بتاتا ھے کہ معدودے چند کے علاوہ اکثر ناقدین محض کوئ ساڑ ہی نکال رھے ھوتے ھیں۔ ایسی صورت میں:

۱- جب جماعت کے وابستگان معقول طریقے سے ادب و اخلاق کے دائرے میں رہ کر جواب دیتے ھیں تو ناقدین اور انکے حواری اسے انجواۓ کرتے ھیں اور آپس میں آنکھ مار ایک دوسرے کو بتا رھے ھوتے ھیں کہ: “دیکھا! کیسے بگھو بگھو کر مارا” جماعت بیچارے جو مکمل احمقانہ حد تک سادگی کے مارے ھوتے ھیں وہ یوں صفائیاں پیش کر رھے ھوتے ھیں جیسے کوئ ملزم یا مجرم ھوں جبکہ ناقدین تھانیدار یا جج۔

یوں جماعتی اپنے ناقدین کے سامنے پھُدو بنے کٹہرے میں کھڑے رہتے ھیں۔

یہ ٹریپ نمبر ۱ ھے۔

۲- جب ناقدین ناجائز تنقید میں ذیادہ آگے بڑھ جائیں اور ظلم پر تل جائیں’ غلیظ زبان استعمال کریں تو کوئ نہ کوئ جماعتی کتنے ھی مناسب طور پر جوابا احتجاج کرے تو اس کا منہ بند کرنے کے لئے مخصوص جملے استعمال کئے جاتے ھیں مثلاً: “آپ تو ایک دینی جماعت سے تعلق رکھتے ھیں آپ کو ایسا یا ویسا نہیں کہنا چاھئے تھا” یوں بیچارے جماعتی مار کھا کر بھی کٹہرے میں کھڑے ھو جاتے ھیں۔

یہ ٹریپ نمبر ۲ ھے۔

۳- جوں ہی مخالفین کو اشارہ بھی ملے کہ جماعت اپنے لئے آگے بڑھنے کے کوئ راستے ڈھونڈ رھی ھے تو فورا مشورے اور نصیحتیں لیکر پہنچ جاتے ھیں۔ ان مخلص مگر سادے جماعتیوں کو کنفیوز کرنے’ اپنی قیادت سے متنفر کرنے کی ھر ممکن کوشش کرتے ھیں اور کئ جماعتی ان کے پراپیگینڈے سے متاثر ھو کر گمراہ ھو بھی جاتے ھیں۔

یہ ٹریپ نمبر ۳ ھے

۴- جو کام مخالفین کی پسندیدہ جماعتیں ھمیشہ کرتی ھوں اگر جماعت بھی وہی کرنے کی کوشش کرے تو فورا یہ چورن لیکر پہنچ جاتے ھیں کہ: “دیکھیں جی یہ چیز آپ کیسے کر سکتے ھیں جبکہ آپ تو ایک مذہبی جماعت ھیں”۔ یوں جماعتی کنفیوز ھو جاتا ھے اور اگلے قدم کے طور پر اسے اپنی ہی قیادت سے متنفر کر دیا جاتا ھے۔

یہ ٹریپ نمبر ۴ ھے۔

۵- جو بھی جماعت کا حاضر سروس امیر ھوتا ھے اس کا تقابل پچھلے امراء سے کر کے پچھلوں کی عظمت کے گیت گاۓ جاتے ھیں جبکہ موجود امیر کو فضول باور کرایا جاتا ھے حالانکہ جب پچھلا امیر حاضر سروس تھا تو اس کا ساتھ دینے کی بجاے اس کا تقابل اس سے پچھلے امیر سے کیا جاتا تھا۔ یوں بھی قیادت سے متنفر کیا جاتا ھے۔

یہ ٹریپ نمبر ۵ ھے۔

ان تمام ٹریپس پر گفتگو اور انکا تجزیہ پھر کبھی لیکن جماعت کے کارکن کو ان سب ٹریپس اور یہ ٹریپس بچھانے والوں سے حد درجہ ھوشیار رہنے کی ضرورت ھے۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *