جب سیاست ذاتیات کی بھینٹ چڑھ جائے_انس انیس 



درخت کو پھل دار ثمر آور اور تناور بنانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اسکی ہر دم رکھوالی کی جائے وقت وقت پر اسے پانی دیا جائے کیڑے مکوڑوں اور باد سموم سے بچانے کے لیے سپرے اور حفاظتی اقدامات کیے جائیں. تب جا کر شجر پھیلتا پھولتا ہے اور تناور کی شکل اختیار کرتا ہے کیونکہ نیچے سے اسکی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں تب  اسکی شاخیں اپنے بازو دراز کرتی ہیں. یہ مختلف مرحلوں سے گزر کر کہیں جاکر شجر سایہ دار بنتا ہے
قرآن کریم میں بھی کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک درخت سے  واضح کی گئی کہ کلمہ طیبہ شجرہ طیبہ کی مانند ہے جسکی جڑیں مضبوط اور شاخیں آسمان تک پھیلی ہوتی ہیں. اور کلمہ خبیثہ کی مثال شجرہ خبیثہ کی ساتھ دی گئی کہ جو زمین سے اکھڑا ہوا ہو جسکے کے لیے کوئی قرار نہ ہو. ظاہر ہے درخت جب نیچے سے مضبوط ہو گا تو وہ اوپر سے پھیلتا پھولتا رہے گا باد مخالف کے جھونکوں اور تند و تیز آندھیاں بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی.
آپ وطن عزیز میں سیاسی جماعتوں اور جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کی حالت زار پر غور فرمائیں 
 یہ اپنے دعوؤں پر کس قدر پورے اتر رہے ہیں. اپنے قول میں کتنے سچے ہیں آپ کو بخوبی انکے معیار کا اندازہ ہو جائے گا. 
جمہوریت کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ محض جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بجائے اپنی ذات پر اپنی جماعت پر اور پھر ملک میں اس کے حقیقی ثمرات سے فائدہ اٹھانے کے لیے عملی طور پر بھرپور کوششیں کی جائیں . جمہوریت کا درخت اسی وقت ہی تناور کی شکل اختیار کرے گا جب اسکی جڑیں کھوکھلے پن سے سلامت رہیں گی . ہمارے یہاں المیہ یہ ہے کہ اہل سیاست کے لیے اپنے عروج پر کھوتا کھڑکا سب حلال ہو جاتا ہے جب زوال کی طرف گامزن ہوتے ہیں یا اپنے مفادات وذاتیات پر زد پڑتی ہے تو  بیچاری بھولی بسری جمہوریت یاد آ جاتی ہے. 
وطن عزیز میں قومی افق پر نمودار اکثر سیاسی جماعتوں کے قائدین آمرانہ وشاہانہ طرز عمل کی بدترین مثال ہیں 
مختصر سے جائزے میں آپکے سامنے ساری حقیقت نکھر کر سامنے آ جائے گی. 
سب سے پہلے برسر اقتدار حکمران جماعت نون لیگ کو ہی لے لیجیے 
میاں نواز شریف کو ہم سول بالادستی کے نعروں اور مشرقی طرز زندگی کی وجہ سے اور ملک میں خودکش حملوں؛ دہشتگردی کی روک تھام؛ معیشت کی گاڑی کو دوبارہ پٹری پر استوار کرنے اور سی پیک میں خصوصی دلچسپی کی وجہ سے بھرپور سپورٹ کرتے ہیں لیکن سیاست میں اقتدار کا کیک اپنے خاندان کو کھلانا سارا اختیار خاندان تک محدود رکھنا یہ میاں صاحب کی سب سے بڑی خرابی ہے . سیاست میں نظریاتی لوگوں کو سائیڈ پر لگا کر دانیال عزیز طلال چوہدری زید حامد ودیگر مشرف کی باقیات کو قومی سطح پر لے آئے ہیں جماعتی سطح پر سارا عملی کام حمزہ شہباز شریف مریم نواز صاحبہ بیگم کلثوم نواز نے سنبھال رکھا ہے. نظریاتی لوگوں میں سے جاوید ہاشمی کے راستے میں مسلسل روڑے اٹکاتے رہے ظفر اقبال جھگڑا؛ صدیق الفاروق؛ غوث علی شاہ مہتاب عباسی وغیرہ کو کسی اہم عہدے پر فائز نہیں کیا گیا جو ہمیشہ میاں صاحب کے شانہ بشانہ کھڑے رہے. یہی وجہ ہے کہ پارٹی وسیاست پر پس پردہ مسلسل اپنے خاندان کو مسلط کیے رکھنے کی وجہ سے میاں صاحب کو پارٹی وملکی سطح پر عدم استحکام کا سامنا رہا ہے پارٹی میں چوہدری نثار؛ اسحاق ڈار؛ خواجہ آصف؛ نے اپنے اپنے گروپ بنا رکھے ہیں جن کو پارٹی سے ذیادہ اپنے مفادات سے کام ہے؛ اگر کل میاں صاحب کا تختہ دھرن ہوتا ہے تو اسکی ساری خرابی میاں صاحب خود ہیں جنہوں نے پارٹی وملکی سطح پر جمہوری روایات تہذیب و تربیت کو فوقیت دینے کے بجائے اپنے خاندان کو آگے کیے رکھا.
2 پپلز پارٹی 
بھٹو مرحوم کی پپلز پارٹی کب سے مرحوم ہو چکی ہے. جو چھوٹی سی رمق باقی تھی اسکا کباڑا زرداری صاحب کے وجود مسعود نے نکالا. پپلز پارٹی کو روز اؤل سے ہی شخصیات کی بھینٹ چڑھایا گیا زرداری صاحب نے اپنے ہونہار فرزند بلاول کو انگلینڈ سے برآمد کر کے پارٹی کے مردے میں دوبارہ روح پھونکی. لیکن نون لیگ اور پیپلز پارٹی میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ میاں صاحب کے اپنے دکھ سکھ کے ساتھیوں کو سیاست میں آکر بھلا دیا جبکہ زرداری صاحب نے اپنے ساتھ چھوٹی سی ہمدردی کرنے والے ڈاکٹر عاصم کو وزیر پٹرولیم بنا دیا جس عہدے کو ہمارے یہاں سونے کی چڑیا کہا جاتا ہے. اسی طرح اور نظریاتی لوگوں کو اہم عہدوں پر برقرار رکھا.لیکن بنیادی طور پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی قسمت فریال تالپور اور زرداری صاحب ہی جانچتے ہیں. 
3 تحریک انصاف 
عمران خان صاحب نے جن ابتدائی ساتھیوں کے ساتھ ملکر نئے پاکستان کی بنیاد رکھی وہ سب ایک ایک کر کے تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر گئے تحریک انصاف کے نظریاتی لوگوں کو خان صاحب نے کھڈے لائن لگا دیا؛ چوہدری سرور پنجاب گورنری کو لات مار کر خان صاحب کی زلفوں کے اسیر بنے کچھ دنوں تک اڑان بھرتے رہے جب حدود سے پھلانگنے لگے تو پہلے سے بیٹھے پارٹی کے مضبوط مافیا شاہ محمود قریشی؛ جہانگیر ترین نے انکو سائیڈ پر لگا دیا. تحریک انصاف میں خان صاحب کا نام ہی کافی ہے جہانگیر ترین علیم خان جیسے امیر کبیر لوگ خان صاحب کی ساری دلچسپی کا محور ہیں؛ پارٹی وصوبائی سطح پر خان صاحب کی آمریت نافذ ہے صوبائی سطح پر پرویز خٹک اور انکے وزراء کے خلاف اگر نیب کیس کھولے تو اسکے پر کاٹ دیے جسکی وجہ سے چئیرمین نے استعفی دے دیا. جن جن وزراء نے وزیر اعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد سامنے لائی ان کو بھی ضیا اللہ آفریدی کی طرح دیوار سے چپکا دیا گیا. پارٹی سطح پر خان صاحب اپنے ہی بنائے گئے احتساب کمیشن نے جب مقدس شخصیات پر ہاتھ ڈالنا شروع کیا تو جسٹس وجیہ الدین کو استعفی لینے اور پارٹی سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا. حامد جیسے مخلص لوگوں کی ناقدری عروج پر رہی. 
پارٹی پر مضبوط گروپ شاہ محمود قریشی صاحب اور جہانگیر ترین کا ہے پھر اسد قیصر پرویز خٹک دیگر کے نام آ جاتے ہیں. نظریاتی لوگوں کے بجائے پارٹی پر پیپلز پارٹی ق لیگ اور مشرف کی باقیات کا مضبوط قبضہ ہے خان صاحب تو محض اثاثہ یا برائے بیت رہ گئے ہیں.خان صاحب اپنی شخصیت کے گنبد میں اس قدر بند ہیں کہ پارٹی میں اختلاف رائے کرنے والوں کو بھی برداشت نہیں کر سکتے. 
4 جمعیت علمائے اسلام باوجود میری پسندیدہ جماعت ہونے کے موروثیت کا شکار ہے جمعیت میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن اور خان محمد شیرانی صاحب میری پسندیدہ شخصیات میں سے ہیں لیکن پنجاب کی سطح پر پارٹی کو ناقدرے لوگوں کے حوالے کیا گیا جماعتی سطح پر مولانا کے بڑے صاحبزادے مولانا اسعد محمود کی جانشینی کے راستے ہموار کیے جا رہے ہیں مفتی کفایت اللہ حافظ حسین احمد مولانا خان محمد شیرانی؛ وغیرہ حضرات کو پارٹی سطح پر وقعت نہیں دی جا رہی یہی وجہ ہے اندرونی طور پر شیرانی گروپ اور مولانا فضل الرحمن گروپ کی شدید کشمکش جاری ہے اس میں جو خرمن تیار ہوتا ہے و وقتا فوقتاً سوشل میڈیا کی زینت بنتا رہتا ہے. 
جمعیت کے دوست امید ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری تنقید کا خیر مقدم کریں گے اور اپنی خامیوں کا ازالہ کریں گے. 
5 جماعت اسلامی 
 اختلافات کے باوجود جماعت اسلامی کو واحد کریڈٹ جاتا ہے کہ جماعتی سطح پر مکمل جمہوریت بحال ہے آزاد کشمیر کے الیکشن ہوں یا کہیں اور کے مقامی لوگ ووٹنگ سے مرکز کی اجازت کے بغیر اپنا امیر منتخب کرتے ہیں مرکز میں ہر پانچ سال بعد ووٹنگ کے ذریعے نیا امیر منتخب کیا جاتا ہے یا جس کے پلڑا بھاری رہے وہی امارت پر فائز رہتا ہے. 
6 ایم کیو ایم کا حال جاننا نہ ہی جاننے سے بہتر ہے. ایم کیو ایم کو اگر اب ماحول کے گھٹن کا شکوہ ہے تو اسکے پیچھے ان کی لگاتار غنڈہ گردی الطاف بھائی کو مقدس دیوتا مان کر شہر قائد میں بے تھمنے والے فسادات کے الاؤ کو بھڑکانا آگ وخون کا کھیل کھیلنا شامل رہا ہے. الطاف بھائی کا اپنا ذاتی کوئی جانشین نہیں لیکن  بہت سے روحانی جانشین موجود ہیں جو ایم کیو ایم کے زوال کے وقت انڈوں سے نکل کر اب بچے دیے جا رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ جو الطاف بھائی کے شروع کے ساتھی تھے انکا کیا کرم کر دیا گیا ہے. ایم کیو ایم کو سیاسی جماعت سمجھتے کے بجائے غنڈہ تنظیم سمجھتا ہوں جسکو مضبوط چھتری آمریت نے مہیا کی ایم کیو ایم میں الطاف بھائی سے اختلاف رائے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا. 
 شہرت سے پستی کی طرف جانے والے ق لیگ کا یہی حال ہے پرویز الہی کے بیٹے مونس الہی کو سوشل میڈیا پر اور سیاسی دنگل میں بلبلہ بنانے کے لیے لانچ کر دیا گیا ہے. 
اے این پی کا بھی یہی حال ہے. 
سیاسی جماعتیں اگر ذاتیات وشخصیات کے خول سے نکل کر نظریات کی پوجا کرنی شروع کر دیں تو حقیقی جمہوریت کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے ملک میں آئین کی بالادستی کے لیے ضروری ہے پہلے اپنا احتساب کیا جائے کہ ہم جمہوریت کے لئے کتنے مخلص ہیں؟ہمارے وجود سے عوام کو کتنا فائدہ مسیر ہے. 
باعث مسرت بات یہ ہے کہ عوام اور سیاسی کارکنوں میں آہستہ آہستہ شعور بیدار ہوتا جا رہا ہے وہ اپنے قائدین پر اور اپنی جماعتوں پر بھی تعمیری سوال اٹھا رہے ہیں اور مثبت تنقید بھی کر رہے ہیں.


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *