تعلیم کا دوہرا نظام اور سرکاری اسکولوں کی اہمیت


تعلیم -نوے سالہ جدوجہد اور عظیم قربانیوں کے بعد اللہ تعالٰی نےستر سال پہلے غلامی میں جکڑی ہوئی ایک مظلوم قوم کو ایمان وعقیدے اور دین کے تحفظ کی شرط پر قدرتی خزانوں سے مالا مال ملک پاکستان عطا کیا تھا قیام پاکستان ایک سماجی، سیاسی اور روحانی انقلاب تھا پرانے سماج کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد ایک نیا سماج پیدا ہو گیا تھا کاش ہمارے حکمران اور سیاست دان قدرت کے اس اشارے کو سمجھ کر انصاف پر مبنی معاشرےکے قیام کے لئے اپنی توانائیاں صرف کرکے پاکستان میں ظلم و استحصال سے پاک اسلامی معاشرہ قائم کرتے قیام پاکستان کے وقت نظام تعلیم میں بہت ساری خرابیاں تھیں مگر یہ طبقاتی کشمکش سے پاک تھا اس نظام نے جو گوہر نایاب پیدا کئے ان میں ایک نمایاں مثال ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ہے جنہوں نے اپنی انتھک محنت خلوص اور جذبہ حب الوطنی سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا کر وطن عزیز کا دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا

مگر جیسے جیسے نظریہ پاکستان نظروں سے اوجھل ہوتا گیا پورے نظام کے ساتھ ہی تعلیم شعبے میں بھی خرابیاں پیدا ہونا شروع ہو گئی وہ لوگ جنہوں نے گھر بار عزت و آبرو اور جان و مال کی قربانی دی تھی جو اپنی آنکھوں میں ایک عظیم فلاحی مملکت بنانے کا خواب سجا کر آئے تھے اور وہ لوگ جنہوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور آنے والوں کو اپنے دل میں جگہ دی تھی جب وہ مخلص اور وفا دار لوگ مر کھپ گئے تو اقتدار پر انگریز کے غلام جاگیرداروں کا قبضہ ہو گیا وہ آقا و غلام کی ذہنیت کے ساتھ ہر ادارے میں گھس گئے پھر تھانے ظلم کے اڈے بن گئے نظام انصاف ترازو میں تلنے لگا رشوت عام ہوگئی کمیشن نے قانون کا درجہ اختیار کر لیا کرپشن کو قومی کلچر بنا دیا

استبدادی نظام نے غریب عوام سے روٹی کا نوالہ ہی نہیں چھینا بلکہ انکی ہمت و جرأت اور خودی کو چھین کر نیم جان کر دیا میرٹ کا خون کرکےباصلاحیت غریب عوام پر روزگار کے دروازے بند کردئے عوام نے بھی مجبوری کے عالم میں انہی ظالموں کو اپنارہنما مان لیا جنہوں نے انکا روشن مستقبل اور مضبوط کریکٹر چھینا تھا حکمرانوں کی نااہلی اقربا پروری اورکرپشن نے ہر ادارے کو کرپشن زدہ کردیااسکےبرعکس امریکہ کے ان وفادار غلاموں نےیکساں نظام تعلیم کو دانستہ طور پر تباہ کرکے غریب عوام کی ترقی کے راستے مسدود کر دئے سرکاری اسکولوں کو تباہ کرکے طبقاتی نظام تعلیم رائج کرنا انکامشن تھا ستم یہ ہوا کہ جو لوگ یکساں نظام تعلیم کے حامی تھے وہ بھی اس بہتی گنگا میں کود گئے سرمایہ داروں نے دیکھا تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سب سے زیادہ کمائی ہے تعلیم اچھے داموں فروخت ہورہی ہے تو قوم کے علم فروش بہی خواں میدان میں اتر گئے پہلے اپر کلاس نےپرائیویٹ انگلش میڈیم اسکولوں کا رخ کیا

انکی دیکھا دیکھی مڈل کلاس بھی بچوں کے مستقبل کے لئے اسی راستے پر چل پڑی دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں پرائیویٹ انگلش میڈیم اسکولوں کا جال بچھ گیا ہر اسکول کا اپنا الگ نصاب ہے اس سے قومی یکجہتی کو ناقابل تلافی نقصان ہورہا ہے طلبہ نظریاتی طور پر ذہنی انتشار کا شکار ہیں آزادی نے جس غلامانہ ذہنیت سے نجات دلائی تھی امریکہ کے وفادار غلام عوام میں وہی غلامانہ ذہنیت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ساری صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ اورقائداعظم محمد علی جناح کے پیروکار مفادات کے بوجھ تلے دب گئے خودغرضی نے ان سے قوت گویائی چھین لی

سب کچھ انکی آنکھوں کےسامنے ہی نہیں بلکہ انکے ہاتھوں سے ہورہا ہے وہ معیار انسانیت کو تباہ کرکے معیار زندگی کے چکرمیں پڑ گئے یہ کام ایکدم نہیں ہوا قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے پہلےمراعات یافتہ طبقے کے لئے کیڈٹ کالج کھولےگئےپھرآرمی پبلک اسکول انگلش پبلک اسکول اور اسکے بعد ہزاروں پرائیویٹ انگلش میڈیم اسکول کھلتےچلےگئےجہاں قومی لباس متروک اور قابل ملامت ٹھرا مخلوط تعلیم کو رواج دے کر تہذیب و اخلاق کو تباہ کیا گیا اب کسی بیورو کریٹ آرمی افسر جج اور وکیل سرمایہ دار اور جاگیردار صحافی و اینکر پروفیسر و لیکچرار کے بچےکسی گورنمنٹ اسکول کی زینت نہیں ہیں ان اسکولوں سے اب بڑے لوگوں کا کوئی واسطہ نہیں رہا

حکمرانوں نے سیاسی رشوت کے طور پر سرکاری اسکولوں میں ہزاروں نااہل کام چور اور اوطاقوں پر حاضری دینے والوں کو ٹیچر بھرتی کرکے رہی سہی کسر پوری کردی ملک میں ہزاروں پرائمری اسکول بند پڑےہیں مگر تنخواہیں جاری ہیں عہدے نیلام ہوتے ہیں من پسند افراد کو نوازا جاتا ہے بائیو میٹرک بھی ایک ڈھونگ ہے اکثر اسکولوں میں بچوں کے لیے نہ پینے کا صاف پانی ہے نہ کھیل کے میدان اور نہ ہی بیت-الخلا کہیں چار دیواری ہے تو چھت نہیں اور کہیں چھت ہے تو چار دیواری نہیں بعض اسکول فرنیچر اور بجلی سے بھی محروم ہیں

عوامی نمائندوں کو اپنے علاقوں میں جانے کی توفیق ہی نہیں ہے کہ وہ اسکولوں کا وزٹ کرتے ان لوگوں نے شہروں میں ہی اپنی دنیا بسالی ہے غریب عوام کے پاس یہ صرف ووٹوں کے ہی لئے جاتے ہیں بے بس اور مجبور عوام اپناایمان وضمير انکی جھولی میں ڈال دیتے ہیں ان غریبوں کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں ہے کیونکہ ان ظالموں نے دولت طاقت اور اقتدار کے بل بوتے پر کسی کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ وہ اس ٹھپہ مافیا کا مقابلہ کرسکیں اقتدار پر قابض ٹولہ اچھی طرح جانتا ہے کہ یکساں نظام تعلیم رائج ہونے کی صورت میں مقابلہ مراعات یافتہ طبقے سے نکل کر ملک کے کروڑوں طلباء کے درمیان ہوگا. پھر کسی مزدور اور ہاری کا بیٹے کو میرٹ کے ذریعے آگے بڑھنے کا موقع مل جائے گا ان میں سے کوئی کمشنر،ڈپٹی کمشنر، آئی جی ، ڈی آئی جی، ایس ایس پی بن جائے گا.میرٹ پر آنے والے افسران اگر اے ڈی خواجہ جیسے بن گئے تو انکے چوروں، رشوت خوروں، منشیات فروشوں کا کاروبار کیسے چلے گا جو دولت ترقیاتی کاموں کے بہانے ٹھیکوں کے نام پر لوٹی جاتی ہے وہ تعلیم پر خرچ کرنی پڑے گی تعلیمی بجٹ میں اضافہ ہو گا تو انکی عیاشیوں میں فرق پڑے گا

بے زبان عوام کو زبان مل جائےگی لاکھوں طلباء کی تعلیم کے لئے سینکڑوں یونیورسٹیاں اور کالجز بنانے پڑینگے ان تعلیمی اداروں میں ہزاروں سائنسدان، ڈاکٹر اور انجینئر پیدا ہونگے غربت کا خاتمہ ہو گا عوام غلامی کے پھندے سے آزاد ہوجائیں گے اور وطن عزیز ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو جائے گا مگر امریکہ کے یہ وفادار غلام کبھی بھی قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہونے دینگے دور غلامی میں علامہ محمداقبال رح، قائد اعظم رح، محمد علی جوہر رح، شہید ملت لیاقت علی خان رح جیسے جوہر قابل پیدا ہوئے اس وقت مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ اورامت کا تصور تھا انکو اپنی تہذیب سے محبت اور روایات کا پاس تھا وہ معاشی طور پر محکوم تھے مگر انکی روح آزاد اور ضمیر زندہ تھا موجودہ نظام تعلیم نے ہماری نسل نو سے امت کا تصور تہذیب سے پیار روایات کا پاس اور اخلاق و کردار کی پاکیزگی چھین لی بظاہر ملک میں جمہوری نظام ہے

مگر یہ فرسودہ آمرانہ نظام ہے کوئی پارٹی کسی اصول و ضوابط یا قانونی و دستوری طور پر حکمرانی کرنے کی قائل نہیں ہے یہ چاہتے ہیں کہ اقتدار عوام کے پاس جانے کے بجائے ان کے گھر کی لونڈی بن کر رہے حکمران جانتے ہیں کہ یکساں نظام تعلیم سے ملک میں محبت اور بھائی چارہ پروان چڑھے گا نفرتیں مٹیں گی عوام کو ترقی کےیکساں مواقع میسر ہونگے غریب اور امیر کا امتیاز ختم ہو جائے گا اگر یہ سب کچھ ہوگیا تو لڑاؤ اور حکومت کرو کا منصوبہ خاک میں مل جائے گا ان حکمرانوں نے علاقائی اور لسانی قومیتوں کو اسلئے ہوا دی کہ ہر علاقے اور زبان کے لوگ اپنے مسائل پیش کریںگے اور انکو دبانا آسان ہو جائے گا

اس لئے علاقائی قومیت ہو یا لسانی قومیت مسلک پرستی ہو یا فرقہ بندی یہ سب حکمرانوں کے پھیلائے ہوئے جال ہیں سندھ کی علیحدگی کا بھوت بھٹو صاحب کی قومی پالیسی نے اتار دیا مہاجروں کو پھونک مار کر کراچی اور حیدرآباد میں الجھا دیا انکو قومی سیاست سے دور کرکے دوسری قوموں کے لئے نفرت کی علامت بنا دیا یہی کھیل بلوچستان خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں بھی کھیلا جارہا ہے کہیں کم اور کہیں زیادہ کسی مسلک اور قومیت میں اتنی سکت نہیں ہےکہ وہ تنہا امریکی گماشتوں سے اپنی بات منوا کر اپنا حق حاصل کر لیں1973 کےآئین میں بھٹو صاحب نے سندھ میں کوٹہ سسٹم صرف دس سال کے لئے لگایا تھا

مگرچوالیس سال گزرنے کے بعد بھی یہ ختم نہیں ہواکیونکہ یہ علاقائی مسئلہ بنا قومی مسئلہ نہیں بن سکا اور کوئی بھی حکومت اہل سندھ کی ناراضگی مول لینے کو تیار نہیں ہے مہاجروں سے انکا تعلیمی تشخص تو چھین لیا مگر انکا دیرینہ مطالبہ منظور نہیں کیا اگر ملک میں یکساں نظام تعلیم ہوتا قومی سوچ پیدا ہوتی ایکدوسرے سے ہمدردی اور محبت پروان چڑھتی کوئی بھی کسی کے حق پر دست درازی کی کوشش نہیں کرتاپھرنہ بلوچستان کے حقوق پامال کئے جاتے نہ مہاجر قومی دھارے سے کٹتے نہ اہل سندھ محرومی کی بات کرتے نہ پختونوں کو گلہ ہوتا اور نہ پنجاب کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا

اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی تاریخ سے سبق حاصل کریں پاکستان میں یکساں نظام تعلیم رائج کرکے اسے مظبوط و مستحکم بنائیں اگر ایسا ہوجائے ہم جرمنی اور جاپان سے زیادہ سائنسدان پیدا کر سکتے ہیں جس ٹیکنالوجی کا ہم رونا روتے ہیں اس میں ہم خود کفیل ہو جائیں گے ہم ترقی کے میدان میں سیلاب کی طرح آگے نکل جائینگے اور ہمارے ازلی دشمن بھارت اسرائیل اور امریکہ ہاتھ ملتے رہ جائینگے اللہ ہماری مقتدر قوتوں، حکمرانوں اور سیاستدانوں کو راہ راست دکھائے


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *