تحریک لبیک ،آسیہ مسیح کا مقدمہ اور فرنود عالم کی غلط فہمیاں


فرنود عالم کی ایک تحریر نظر سے گذری ہے جس میں انہوں نے حالیہ دھرنے پر تنقید کرتے ہوئے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے . اس کے بعد انہوں نے آسیہ مسیح کے کیس کے حوالے سے گوہر افشانی کرتے ہوئے فرمایا ہے .

” آسیہ مسیح کاکیس نمٹ چکاہے۔ ثبوت وشواہد ناکافی ہیں۔ اب معاملہ اسےبری کرنے کا ہے۔ سترہ ماہ بعدآسیہ کی شنوائی ہوئی۔ سپریم کورٹ پہنچی توبینچ سے ایک جج اٹھ گیا۔ کیونکہ جج صاحبان نتیجے پرپہنچ چکے ہیں۔مگرنتیجہ سنا نہیں سکتے کہ وہ انجام جانتے ہیں ”
موصوف کی سطر سطر مغالطہ انگیز ہے .چند باتوں کی طرف اشارہ کرتا ہوں .

1. سپریم کورٹ میں موت کی سزا کی اپیل اگر سترہ ماہ بعد سماعت کیلئے لگ جاتی ہے تو اسے تاخیر نہیں سمجھا جاتا . یہ پاکستانی عدالتیں ہیں اور یہ بات کہہ کر انہوں نے اپنے بارے میں یہ تاثر پختہ کیا ہے کہ وہ نہ تو عدالتی نظام سے بخوبی آگاہ ہیں اور نہ ہی اس حساس مقدمہ کے حقائق سے . انہیں یہ بھی خبر نہیں کہ آسیہ مسیح کو سزا دلوانے والے خود اس اپیل کی سماعت جلدی چاہتے ہیں تاکہ وہ جلد اپنے انجام کو پہنچ سکے . ابھی حال ہی میں ایک دھرنے کے نتیجے میں حکومت نے خود اس کی اپیل کی جلد سماعت کی درخواست دی ہے .

2. جب بنچ نے اپیل کی سماعت ہی نہیں کی تو وہ بنچ کیسے اس نتیجہ پر پہنچ گیا کہ ثبوت و شواہد ناکافی ہیں ؟ دراصل یہ بات کر کے انہوں نے اپنی ثقاہت کو خود ہی زنگ آلود کر لیا ہے ۔

3۔ اس سے بڑھکر یہ بات اور بھی تعجب خیز ہے کہ بفرض محال اگر بنچ اس نتیجے پر پہنچ بھی گیا تھا تو فرنود عالم اس سے کیسے آگاہ ہو گئے ؟ اگر بنچ کے کسی جج نے انہیں یہ خبر دی ہے تو خود اس جج نے اپنی عدالت کی توہین کی ہے ۔ اگر اس کے برعکس انہوں نے قیافہ شناسی سے کام لیا ہے تو انکو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ قیافہ شناسی سے حاصل ہونے والے ناقص علم کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کریں اور عدالت کی حیثیت کو مشکوک بنائیں ۔ میرے خیال میں یہ بھی صریح توہین عدالت بنتی ہے ۔

4۔ انکا یہ کہنا کہ آسیہ مسیح کا کیس نمٹ چکا ہے اسقدر مغالطہ انگیز اور کذب بیانی پر مبنی ہے کہ انکا مضمون خود اس کی تکذیب کر رہا ہے ۔ جب بنچ نے اپیل کی سماعت ہی نہیں کی اور فریقین مقدمہ کے وکلا کے موقف کو سنا تک نہیں تو یہ مقدمہ کیسے نمٹ گیا ؟ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ یہ عالم رویا میں نمٹ گیا ہو اور انہوں نے عالم رویا میں ہی فریقین کے دلائل کی روشنی میں یہ فیصلہ کر ڈالا ہو کہ مقدمہ نمٹ گیا ہے ۔

5۔ پھر فرماتے ہیں کہ اس کیس میں ثبوت و شواہد ناکافی ہیں ۔ سبحان اللہ اس نگاہ بصیرت پر جس نے نہ صرف یہ بات خود جان لی بلکہ بنچ کی طرف بھی منسوب کر دی جبکہ یہ بات نہ تو ٹرائل کورٹ کو سمجھ آئی اور نہ سزا کی توثیق کرنے والی ہائی کورٹ کو . وہ خود ہی بتائیں کہ کیا اب ثبوت و شواہد کے کافی یا ناکافی ثابت کرنے پر ان کو مامور کر دیا گیا ہے ؟ بلکہ اپنی آرا ء کو عدالت کی طرف منسوب کرنے پر بھی کیا انہیں عدالت نے مختار عام دے رکھا ہے ۔ عدالت کی طرف سے صادر شدہ فیصلوں کا اہل علم جائزہ لیتے آئے ہیں لیکن فیصلوں کے صدور بلکہ سماعت مقدمہ سے پہلے رائے قائم کر کے اسے بنچ کی طرف منسوب کر دینا عدلیہ پر یہ تجاوز انہی کے حصے میں آیا ہے ۔

6 ۔ فرماتے ہیں کہ اب معاملہ بری کرنے کا ہے ۔ جناب یہ معاملہ سزا دینے کا کیوں نہیں ؟ کیا فاضل جج صاحبان نے انہیں یہ بھی بتا دیا ہے کہ وہ اسے بری کرنا چاہتے ہیں ؟ یا یہاں بھی وہ ” ٹلے ” مار رہے ہیں ؟ دونوں صورتوں میں ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے ۔

7۔ فرماتے ہیں کہ ( سماعت والے دن ) ایک جج اٹھ گیا ۔ جی بالکل ایسا ہوا تھا لیکن بنچ کا حصہ نہ بننے کی معقول وجہ اس جج نے خود بیان فرما دی تھی اور وہ تسلیم بھی کر لی گئی ۔ اب ہمیں فاضل جج کی بات پر یقین کرنا چاہئے جو سامنے سے درست نظر آ رہی ہے یا ان کی بات کو ماننا چاہئے جس کے پاوُں کٹےہوئے ہے اور وہ زمین پر کھڑی نہیں ہو سکتی ؟

8 ۔ آزاد عدلیہ خیر سے اتنی تو جری ہو چکی ہے کہ منتخب وزیر اعظم کو چلتا کرتی ہے ، غازی ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا سنا دیتی ہے لیکن آسیہ مسیح کو بری کرتے ہوئے ان کے بقول اس کے ہاتھ پاوُں پھولے پڑے ہیں اور اسے یہ فیصلہ سناتے ہوئے جان کے لالے پڑ گئے ہیں ۔ پتہ نہیں ان کے یہ الفاظ عدلیہ کے ساتھ ہمدردی ظاہر کر رہے ہیں یا ججز کو بھیڑ بکریاں ثابت کر رہے ہیں ؟ وہ بے فکر رہیں یہ ججز جو بھی فیصلہ کر دیں گے ان کی ہوا کی طرف بھی کوئی نہیں دیکھ سکے گا البتہ وہ یہ ضرور سوچیں کہ کیا انہوں نے یہ “شدنیاں” چھوڑنے کی قیمت وصول کر لی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ انہیں توہین عدالت کے نوٹس کا سامنا کرنا پڑ جائے ۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *