تحریک انصاف کی ایک اور وکٹ گر گئی


جیسے جیسے انتخابات نزدیک آتے جا رہے ہیں اسی طرح سیاسی رہنما بھی پارٹی تبدیل کرنے میں مصروف ہیں،
گزشتہ دنوں ہی پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ضیاء اللہ آفریدی نے پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور آصف زرداری کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا تھا ۔

اب ایک بار پھر تحریک انصاف کی ایک اور وکٹ زرداری نے گرادی ہے اور پیپلزپارٹی نے پختونخواہ میں ایک اہم انصافی رہنماء کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے تحریک انصاف کے رہنما اور ایم این اے گلزار خان کے صاحبزادے اسد خان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی اہم سیاسی وکٹ اڑا لی ہے۔ این اے 4 پشاور سے تحریک انصاف کے رہنما اور ایم این اے گلزار خان کے بیٹے اسد خان نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا

تحریک انصاف کے حلقوں میں اس حوالے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور اب جوڑتوڑ کے ماہر آصف زرداری اور پرویز خٹک آمنے سامنے ہیں ۔ذرائع کے مطابق آصف زرداری کے پی کے سے تحریک انصاف کی مزید وکٹیں گرانے کے موڈ میں ہیں اور گزشتہ روز پریس کانفرنس میں انہوں نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ پہلے ہی میاں صاحب سے کہا تھا آخری سال سیاست کروں گا۔

پیپلزپارٹی نے اپنی پوری نظریں کے پی کے پر مرکوز کردی ہیں جس سے  تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے کیوں کہ ذرداری جوڑ اور توڑ کے ماہر ہیں اور وہ مزید انصافی رہنماؤں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں گے

دوسری جانب حلقہ این اے 4 میں الیکشن سنسنی خیز ہوچکا ہے ایک اہم صوبائی  رہنما  ضیا اللہ آفریدی اور این اے 4 سے تعلق رکھنے والے اسد خان  کا پیپلزپارٹی میں عین الیکشن سے قبل جانا حیران کن ہے

[abc]

جس کے بعد این اے 4 کا ضمنی انتخاب ڈرامائی شکل اختیار گیا ہے جبکہ اسی حلقے سے اے این پی پشاور کے سابق صدر طوفان خان نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔جس کے بعد اس حلقے میں سنسنی خیز مقابلے کی توقع کی جارہی ہے ۔

تحریک انصاف کی اتحادی جماعت اسلامی کا اس حلقے میں مضبوط ووٹ بینک ہے اور گزشتہ انتخابات میں اس نے 17 ہزار سے زائد ووٹ بھی لئے تھے لیکن ضمنی الیکشن کے موقع پر جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کا ساتھ دینے کے بجائے اپنا امیداور کھڑا کیا ہے ۔اب تحریک انصاف ،پاکستان پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقعات کی جارہی ہیں

 

واضح رہے کہ حال ہی  میں این اے 120 کے ضمنی انتخاب اور بڑے معرکے میں مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی ہے  اور تحریک انصاف یہاں دوسرے نمبر پر رہی تھی۔جس کے بعد سے عمران خان مایوس نظر آئے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں لاہور قیادت کو بھی کھری سنائیں ۔جبکہ افواہیں گرم ہیں کہ لاہور میں تحریک انصاف کو شکست اندرونی اختلافات کے باعث ہوئی ہے۔

جبکہ این اے 4 سے  عین آخری لمحات میں اہم رہنماء کے جانے سے عمران خان کو مزید پریشانی کا سامنا ہے


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *