ایم ایم اے تیسری بڑی قوت بن سکتی ہے

  • 45
    Shares

اگر ہم گزشتہ الیکشن کے ووٹوں کا تناسب دیکھیں تو کے پی کے کا پلڑا واضح طور پر مذہبی جماعتوں کی طرف رہا ہے۔اگر جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام گزشتہ الیکشن میں مشترکہ امیدوار لاتیں تو آج پختونخواہ میں ان کی حکومت ہوتی۔یہ میں نہیں الیکشن 2013کے ووٹ بتارہے ہیں۔

ان دونوں جماعتوں نے صوبائی کی 20 نشستیں حاصل کیں۔اور اگر یہ مل کر لڑتیں تو مزید 18 نشستیں جیت جاتیں۔38 سیٹیں حکومت بنانے کیلئے کافی تھیں۔اگر ایم ایم اے بحال ہوجاتی ہے جیسا کہ نظر آرہا ہے اور ووٹوں کا یہی تناسب رہتا ہے تو تحریک انصاف کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ہم ابھی کسی کی ہار اور جیت کا تعین نہیں کرسکتے لیکن معاملہ ففٹی ففٹی ہوگا۔

یہ نتائج صرف ان دوجماعتوں کے مشترکہ ووٹوں کے ہیں۔باقی جے یوپی اور دیگر جماعتوں کو شامل کیا جائے تو یہ تناسب مزید بڑھ سکتا ہے۔
میری بدھی کہہ رہی ہےکہ تحریک انصاف جلد ہی حالات کا رخ سمجھے گی اور جماعت اسلامی کی جانب اتحاد کا بھی ہاتھ بڑھائے گی لیکن اب شاید ایسا ممکن نہ ہو۔

جماعت اور جمعیت علماء کے درمیان اگر بہترین ورکنگ فارمولہ طے ہوجاتا ہے تو پھر دونوں جماعتوں کے وارے نیارے ہوسکتے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں جماعتیں اکیلے صرف چند سیٹیں ہی جیت سکتیں ہیں لیکن اگر دونوں کے ووٹ ایک ہوجائیں تو کئی حلقوں میں بڑے اپ سیٹ دیکھنے کو ملیں گے۔

فی الحال اگلے چند دن اہم ہیں جن میں حتمی فیصلہ کرلیا جائے گا۔ابھی تک جمعیت علماء اور جماعت نے اپنے آپشن کھلے رکھے ہوئے ہیں۔لیکن میری دانست میں دونوں کا باہمی اتحاد ذیادہ سودمندرہے گا۔اگرایم ایم اے میں لبیک تحریک اور ملی مسلم لیگ شامل ہوتی ہیں تو یہ اتحاد ملک کی تیسری بڑی قوت بن کر ابھرے گا۔قیاس آرائیاں تو بہت کی جاسکتی ہیں لیکن صورتحال آنے والے کچھ دنوں میں ہی واضح ہوگی۔آخری بات جماعت اور جمعیت علماء کے کارکنان کی یکسوئی سب سے اہم ہے اگر ان کے درمیان اختلاف رہا تو یہ اپنی کنفرم سیٹوں سے بھی جائیں گے۔


  • 45
    Shares

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *