ایم ایم اے بحالی پر اتناہنگامہ کیوں ؟


Tanveer awanایم ایم اے کی بحالی سے مجھے سخت اختلاف تھا اور اس پر تحفظات بھی تھے۔لیکن اب جبکہ مذہبی جماعتوں کے قائدین نے اس کی بحالی کا متفقہ فیصلہ کرلیا ہے۔تو مزید اختلاف یا تنقید کی گنجائش نہیں رہتی۔
عمران خان مکمل طور پر سولو فلائیٹ کے موڈ میں ہیں۔انہیں یقین ہے کہ وہ تن تنہا معرکہ مار لیں گے اس کی بنیادی وجہ تحریک انصاف کے پے درپے کامیاب جلسے اور ان کی اٹھان ہے۔اپنی جگہ عمران خان بھی درست ہیں۔

اب مُکتی گل یہ ہے کہ ہر جمہوری سیاسی و مذہبی جماعت مکمل طور پر بااختیار ہوتی ہے۔جس طرح تحریک انصاف یہ فیصلہ کرنے میں آذاد ہے کہ وہ اکیلے الیکشن لڑے۔اسی طرح جماعت اسلامی و جمعیت علماء سمیت دیگر جماعتوں کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے لڑیں یا اپنے اپنے نشان پر۔

اب جب کہ فیصلہ ہوچکا اس کے بعد ایم ایم اے بحالی پر تنقید سمجھ سے بالاتر ہے۔مزے کی بات کہ تحریک انصاف والے اس معاملے میں جماعت اسلامی کی فکر میں گھلے جارہے ہیں۔

جماعت اسلامی کیلئے یہ مارو یا مرجاؤ والامعاملہ بن چکا ہے۔لیکن اگر خود جماعت اسلامی کے کارکن ہی اس اتحاد پر یکسو نہ ہوئے تو نقصان جماعت کو ہوگا۔زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو ایم ایم اے کے سوا موجودہ حالات میں جماعت کے پاس کوئی بہتر چوائس نہیں تھی۔

جمعیت علماء اسلام کیلئے بھی پختونخواہ میں سونامی کا مقابلہ کرنے کیلئے ایم ایم اے کی بحالی کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔بلوچستان میں بظاہر جمعیت علماء مضبوط ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ بلوچستان کے حتمی نتائج کہاں سے اور کیسے آتے ہیں۔اس لئے ایم ایم اے کے باعث جمعیت علماء کو بلوچستان کی یقینی اور کے پی کے کی ففٹی ففٹی حکومت ملنے کے چانسز میسر آگئے ہیں۔

کراچی میں گھمسان کارن پڑے گا ۔میرا زاتی خیال ہے کہ ایم ایم اے تین سے چار سیٹیں آرام سے نکال لے گی۔اندرون سندھ بھی سکھر و گردو نوا میں جمعیت علماء کافی مضبوط ہے ۔ایم ایم اے اتحاد سونے پر سہاگہ ہوگا۔
تحریک انصاف کے لئے بھی سوالیہ نشان ضرور ہے کہ وہ اپنی اتحادی جماعت کو آئندہ الیکشن میں ساتھ مل کر لڑنے پر آمادہ نہ کرسکی۔اور نہ ہی کوئی ایسی کوشش کی گئی۔

آخری بات جو ہونا تھا ہوگیا اب جو ہونے والا ہے اس کی تیاری کریں۔الیکشن کے بعد ایم ایم اے کا پوسٹ مارٹم کیا جاسکتا ہے اور کیا بھی جانا چاہیے لیکن الیکشن سے پہلے ہی اگر جماعت و جمعیت علماء کے اندرونی حلقے شوں شاں کریں گے تو یہ خود پر خود کش حملے سے کم نہ ہوگا۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *