ایم ایم اے بحالی ! لیکن دنیا گول ہے


مولانا کے پیش نظر پہلی بڑی اور بنیادی ترجیع یہ ہے کہ کسی صورت بھی پی ٹی آئی/جے آئی اشتراک نہ ہو، پھر وہ ہر قیمت پر بلوچستان اور کے پی کے میں ن لیگ سے زیادہ سے زیادہ نشتوں کے حصول کی بارگینیگ کریں اور حکومتی سیٹ اپ کے حوالے سے دونو صوبوں میں جے یو آئی کے لیے “فری ہینڈ” لیا جاۓ۔۔

مولانا مقصد میں کامیاب ہو گئیے تو ایم ایم اے کے تیسرے چوک میں جماعت کو مسکراتا ہوا چھوڑ کر پتلی گلی سے کھسک جائیں گے۔۔
دوسری جانب شہباز شریف کی مرضی یہ ہے کہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے اشتراک کی امید ختم کر دی جاۓ تو وہ مولانا کو تھوڑے پر بھی راضی کر لیں گے اور اگر مولانا تھوڑے پر راضی نہ ہوں تو ایم ایم اے کے پی کے میں عمران کا راستہ روکے اور پنجاب میں ن لیگ سے سیٹ ایڈجسمنٹ کی صورت میں تعاون کرے۔۔

تیسری طرف سراج الحق صاحب کی دلی خواہش یہ ہے کہ پی ٹی آئی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا باوقار فارمولہ طے پا جاۓ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے مالاکنڈ دیر بچانے کے علاوہ فاٹا کے تین/ چار حلقوں کو کور کر لیا جاۓ۔۔

(پی ٹی آئی + جے آئی ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں جے یو آئی/ ن لیگ دونو کا دھڑن تختہ ہو جاۓ گا، مولانا فضل الرحمن کو جھنڈی دکھانے کے لیے سراج الحق کے پاس بیس وجوھات ہر وقت موجود ہیں)
موجودہ حالات میں سولو فلائیٹ جماعت کا انتہائی آخری آپشن ہو گا۔

چوتھی طرف ایم ایم اے کے حوالے سے جتنی پیش رفت اب تک ہو چکی ہے اسکی وجہ سے پی ٹی آئی بھی سخت خوف زدہ ہے مگر پی ٹی آئی چاہتی ہے جماعت اسلامی فری میں یا مونگ پھلی کے دو چار دانوں کے بدلے پی ٹی آئی کی دیگ کے نیچے گیلی لکڑیاں پھونکے اور ایسا ممکن نہیں۔۔
اگر ن لیگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے اور الیکٹیبلز کی بڑی تعداد پی ٹی آئی کا حصہ بنتی ہے تو پھر ایم ایم ہی مذھبی جماعتوں کا شلٹر ہو گا جبکہ ن لیگ کے متحد و مضبوط رھنے کی صورت میں پی ٹی آئی کے لیے جماعت اسلامی کی اور ن لیگ کے لیے جے یو آئی اور جماعت اسلامی دونو کی اہمیت برقرار رہے گی۔۔
اعصابی جنگ میں دیکھئے کون کتنا کامیاب ہو گا بس 15/20 دن کی بات ہے۔۔

اگر مولانا فضل الرحمن کے شہباز شریف سے معاملات طے پا گیئے تو وہ عدم اتفاق کا بہانہ بنا کر ایم ایم اے سے راستہ جدا کر لیں گے لیکن شہباز شریف بہت چالاک سیاستدان ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ اس موقع پر مولانا سے کسی ڈیل کا مطلب پی ٹی آئی اور جے آئی کو ایک پیج پر لانا ہے۔۔

ایسی صورت میں ن لیگ کے تعاون سے شاید مولانا بلوچستان اور کے پی کے (ہزارہ ڈویژن اور فاٹا) میں کچھ نہ کچھ حاصل کر ہی لیں مگر پی ٹی آئی/جماعت اسلامی کا اشتراک، پاکستان عوامی اتحاد اور لبیک یا رسول اللہ پارٹی کی انٹری ن لیگ کا جنازہ نکال دے گی بالخصوص پنجاب سے کیونکہ پنجاب کے کسی بھی حلقہ سے مولانا ن لیگ کو 500 ووٹوں کا فائدہ بھی نہیں پہنچا سکتے۔۔

اس لیے مسلم ليگ میڈیا سیل فی الوقت جماعت اسلامی، پی ٹی آئی اور جے یو آئی میں موجود اپنے ہمدردوں اور بے وقوف مخالفین کے زریعے ایم ایم اے کی پذیرائی بھی کروا رہا ہے ساتھ ہی جماعت کو پی ٹی آئی سے بھی لڑوا رہا ہے اور جے یو آئی سے بھی۔۔اگر نومبر کے آخر تک پی ٹی آئی + جے آئی سیٹ ایجسٹمنٹ فارمولہ فائنل ہو گیا تو مولانا سمیع الحق کے زریعے ایم ایم اے کی ہنڈیا بیچ چوراھے پھوڑ دی جاۓ گی بصورت آخر مولویوں کی ماں “ایم ایم اے” ہی ہے۔

سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی امکان یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی/ اے این پی اور پی پی پی اشتراک عمل کر لیں یا ن لیگ، جے یو آئی، پی پی پی، اچکزئی اور اے این پی۔۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *